• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گمشده اونٹ کو پکڑنے کا حکم

استفتاء

ایک اونٹ ہمارے  اونٹوں میں شامل ہوا ہے اب ایک سال گزر گیا ہے ہم نے اعلان وتشہیر کی ہے ،واٹس ایپ گروپ وغیرہ میں لیکن اس کا   مالک  معلوم نہیں ہو رہا ،اور  وہ اونٹ ہمارے اونٹوں سے الگ بھی نہیں ہوتا ،اب شرعاً اس کا کیا حکم ہے آیا اس کو صدقہ کریں یا کسی مدرسے میں ذبح کریں؟

جواب: اصل مالک کی طرف سے کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کردیں۔

مذکورہ جواب پر سائل کی طرف سے دوبارہ سوال آیا جو مندرجہ ذیل ہے:

سوال: باب ضالة الإبل:حدثنا عمرو بن عباس حدثنا عبد الرحمن حدثنا سفيان عن ربيعة حدثني يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه قال جاء أعرابي النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عما يلتقطه فقال عرفها سنة ثم احفظ عفاصها ووكاءها فإن جاء أحد يخبرك بها وإلا فاستنفقها قال يا رسول الله فضالة الغنم قال لك أو لأخيك أو للذئب قال ضالة الإبل فتمعر وجه النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما لك ولها معها حذاؤها وسقاؤها ترد الماء وتأكل الشجر [فتح الباري شرح صحيح البخاري، ابن حجر العسقلاني  أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، صفحة 97، جزء 5]

ضالۃالإبل کے بارے میں مذکورہ بالا  حدیث ہے جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گمشدہ اونٹ کو  پکڑنے سے ہی منع کیا گیا ہے  اس کی کیا تاویل ہوگی ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر کسی کو گمشدہ اونٹ نظر آئے تو اس کو چاہیے کہ مالک تک  پہنچانے کی نیت سے اس اونٹ کو پکڑلے  پھر اگر ایک سال  تک اس کی تشہیر کے باوجود اس کا مالک معلوم نہ ہو تو اسے کسی مستحق زکوٰۃ کو دیدے۔

باقی رہی یہ بات کہ حدیث مبارکہ میں گمشدہ  اونٹ کو پکڑنے سے منع کیا گیا ہے تو اس   کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایسے اونٹ کو مالک بننے کی نیت سے نہ پکڑے بلکہ  اصل مالک تک پہنچانے کی نیت سے پکڑے ۔ نیز آپﷺ کے  زمانے میں چونکہ اکثر لوگ دیانتدار تھے اور کسی دوسرے کا مال نہیں لیتے تھے اس لیے آپﷺ نے ایسے اونٹ کو پکڑنے سے منع فرمادیا کہ نہ تو اس اونٹ کو لوگوں سے خطرہ ہے اور نہ  ہی اس کے خود بخود مرجانے کا زیادہ اندیشہ ہے لہٰذا ایسے اونٹ کو نہ پکڑو کیونکہ اس کا مالک کبھی نہ کبھی اس کو تلاش کرلے گا چنانچہ بعد کے زمانے میں جب حضرت عثمانؓ نے لوگوں کی حالت میں فرق محسوس کیا تو آپؓ نے ایسے اونٹوں کو مالک تک پہنچانے کی نیت سے  پکڑنے کی اجازت دیدی۔

چنانچہ بذل المجہود فی حل سنن ابی داؤد  (8/267) میں ہے:

وقال الحنفية: ‌الأولى ‌أن ‌تلتقط، وحمل بعضهم النهيَ على من التقطها ليتملكها لا ليحفظها فيجوز له

الدر المختار (6/430) میں ہے:

(وندب التقاط البهيمة الضالة وتعريفها مالم يخف ضياعها) فيجب

وفى الشامية: وقوله عليه الصلاة والسلام «‌في ‌ضالة ‌الإبل، مالك ولها؟ معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر، فذرها حتى يجدها ربها» أجاب عنه في المبسوط بأنه كان إذ ذاك لغلبة أهل الصلاح والأمانة، وأما في زماننا فلا يؤمن وصول يد خائنة إليها بعده، ففي أخذها إحياؤها وحفظها فهو أولى، ومقتضاه إن غلب على ظنه ذلك أن يجب الالتقاط وهذا حق، فإنا نقطع بأن مقصود الشارع وصولها إلى ربها، فإذا تغير الزمان وصار طريق التلف فحكمه عنده بلا شك خلافه وهو الالتقاط للحفظ، وتمامه في الفتح.

المؤطا للامام مالکؒ (728) میں ہے:

مالك انه سمع ابن شهاب يقول: كانت ضوال الابل فى زمان عمر بن الخطاب رضى الله عنه ابلا مؤبلة تناتج لايمسا احد حتى اذا كان زمان عثمان بن عفان رضى الله عني امر بتعريفها ثم تباع فإذا جاء صاحبها اعطى ثمنها.

بدائع الصنائع (5/298) میں ہے:

‌أما ‌مدة ‌التعريف: فيختلف قدر المدة لاختلاف قدر اللقطة إن كان شيئا له قيمة تبلغ عشرة دراهم فصاعدا يعرفه حولا، وإن كان شيئا قيمته أقل من عشرة يعرفه أياما على قدر ما يرى.

فتاویٰ بزازیہ (4/13) میں ہے:

وعن أبى حنيفة رحمه الله تعالى  العشرة حولا وفى اقل منها على حسب ما يرى.

ہدایہ (2/413) میں ہے:

” ‌فإن ‌كانت ‌أقل من عشرة دراهم عرفها أياما وإن كانت عشرة فصاعدا عرفها حولا”…………..‌فإن ‌جاء ‌صاحبها وإلا تصدق بها ” ولايتصدق باللقطة على غنى.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved