- فتوی نمبر: 31-281
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > قربانی کا بیان > قربانی میں شرکت کا بیان
استفتاء
سوال یہ ہے کہ آج کل قربانی کا موقع ہے قربانی کے اشتہارات میں ایک جملہ لکھا ہوتا ہے” وقف قربانی” یہ جملہ لکھنا جائز ہے یا نا جائز ؟
ہمارے ملک کے جو بڑے ادارے ہیں ان کے ہاں بھی وقف قربانی ہی لکھا جاتا ہے ۔ رہنمائی فرمادیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
وقف قربانی لکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کا دارومدار اس پر ہے کہ وقف قربانی کرنے والوں کے ذہن میں اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر ان کے ذہن میں وقف کا حقیقی معنی ہے تو وقف قربانی لکھنا جائز نہیں کیونکہ وقف کے حقیقی معنی کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ اس قربانی کے گوشت کو یا اس کے بدل کو باقی رکھتے ہوئے اس سے غریب غربا ءفائدہ اٹھائیں جبکہ گوشت کو باقی رکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں اور اس کے بدل کو باقی رکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا معمول نہیں اور اگر وقف قربانی کرنے والوں کے ذہن میں اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی معنی ہے جو یہ ہے کہ اس قربانی کے گوشت کو صدقہ کر دیا جائے تو اس صورت میں اگرچہ یہ لفظ لکھنا جائز ہے لیکن اس صورت میں بھی اس قربانی کا گوشت غریب غرباء کو دینا ضروری ہے کیونکہ ایک تو اس وجہ سے کہ صدقہ صرف غریب غرباء کا حق ہے اور دوسرے اس وجہ سے بھی کہ وقف قربانی کروانے والوں میں سے اکثر و بیشتر کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ ان کی قربانی کا گوشت غریب غربا ء کو دیا جائے اور واقف کی غرض کا خیال رکھنا شرعا ضروری ہے باقی رہی یہ بات کہ ملک کے بڑے ادارے وقف قربانی لکھتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوں، اگر وقف قربانی لکھنے کے باوجود واضح الفاظ میں یہ بھی لکھ دیا جائے کہ وقف قربانی کے گوشت کی تقسیم ادارے کی صوابدید پر ہوگی تو اس صورت میں وقف قربانی کا گوشت اغنیاء کو بھی دیا جا سکتا ہے لیکن صرف اغنیاء کو دینا اس صورت میں بھی درست نہ ہوگا۔
شامی (6/518) میں ہے:
مطلب لو وقف على الأغنياء وحدهم لم يجز
(قوله ولو في الجملة) فيدخل فيه الوقف على نفسه ثم على الفقراء وكذا الوقف على الأغنياء ثم الفقراء لما في النهر عن المحيط: لو وقف على الأغنياء وحدهم لم يجز لأنه ليس بقربة، أما لو جعل آخره للفقراء فإنه يكون قربة في الجملة اهـ وبهذا التعميم صار التعريف جامعا واستغنى عما زاده فيه الكمال، وتبعه ابن كمال من قوله أو صرف منفعتها إلى من أحب وقال إن الوقف يصح لمن يحب من الأغنياء بلا قصد القربة، وهو وإن كان لا بد في آخره من القربة بشرط التأبيد كالفقراء ومصالح المسجد لكنه يكون وقفا قيل انقراض الأغنياء بلا تصدق اهـ أفاده في النهر. وأجاب في البحر أيضا بأنه قد يقال: إن الوقف على الغني تصدق بالمنفعة لأن الصدقة تكون على الأغنياء أيضا وإن كانت مجازا عن الهبة عند بعضهم، وصرح في الذخيرة بأن في التصدق على الغني نوع قربة دون قربة الفقير. اهـ.
واعترضه ح بأن هذا النوع من القربة لو كفى في الوقف لصح الوقف على الأغنياء من غير أن يجعل آخره للفقراء وعلمت تصريح المحيط بأنه لا يصح وسيأتي قبيل الفصل. قلت: والجواب الصحيح أن الوقف تصدق ابتداء وانتهاء إذ لا بد من التصريح بالتصدق على وجه التأبيد أو ما يقوم مقامه كما يأتي تحقيقه، ولكنه إذا جعل أوله على معينين صار كأنه استثني ذلك من الدفع إلى الفقراء كما صرحوا به، ولذا لو وقف على بنيه ثم على الفقراء ولم يوجد إلا ابن واحد يعطى النصف والنصف الباقي للفقراء؛ لأن ما بطل من الوقف على الابن صار للفقراء؛ لأن الوقف خرج عن ملك الواقف بقوله صدقة موقوفة أبدا، فقد ابتدأه بالصدقة وختمه بها كما قاله الخصاف، فعلم أنه صدقة ابتداء، ولا يخرجه عن ذلك اشتراط صرفه لمعين.
الدر المختار مع شامی (6/519)میں ہے:
(وصرف منفعتها علي من أحب) ولوغنيا
وفى الشامية: (قوله: وصرف منفعتها على من أحب) عبر به بدل قوله والصدق بالمنفعة لأنه أعم، وإلى التعميم أشار بقوله ولو غنيا أفاده ح، لكن علمت أن الوقف على الأغنياء وحدهم لا يجوز؛ فالمناسب التعبير بالتصدق بالمنفعة إلا أن يراد صرف منفعتها على وجه التصدق.
شامی (6/561)ميں ہے:
إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved