• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وارث کے حق میں وصیت کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  میرے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں جن کے  ورثاء  میں ہم دو  بھائی اورایک بہن ہے، جبکہ میرے والد صاحب کے والدین  اور ہماری والدہ والد صاحب سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے، میرے والد صاحب نے وفات سے پہلے وراثت کی تقسیم کے حوالے سے ایک وصیت نامہ لکھا جو کہ ساتھ لف ہے،  اس وصیت پر ہم دونوں بھائی راضی نہیں ہیں لیکن ہماری بہن راضی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس وصیت نامہ کے مطابق ہی اپنے والد صاحب کی جائیداد تقسیم کریں گے؟   نیز شریعت کے مطابق   اس وصیت کے اعتبار ہوگا یا نہیں؟ اگر وصیت کا اعتبار نہیں ہے تو شرعی اعتبار سے وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

وصیت نامے کی عبارت:

دستاویز وصیت نامہ بحق  زید  و  خالد پسران و مسماۃ  فاطمہ دختر  بکر  بھٹی نسبت مکان و دکان  واقع دتو جوہری پانی والا تالاب تحصیل سٹی ضلع لاہور۔

منکہ  بکر  ولد  عمر  مرحوم و مغفور قوم بھٹی، مسلم ، عاقل ، بالغ حامل قومی شناختی کارڈ نمبرفس صحیح الدماغ و ثبات عقل برضاء و رغبت خود وصیت کرتا اور عبارت تحریر کر دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔ موصی کی خواہش بنظر عاقبت اندیشی ضروری ھے کہ اپنی عین حیات میں ہی ہر دو جائیداد مذکورہ بالا اور 25 تولے سونا و منقولہ وغیر منقولہ کی نسبت وصیت کر جاؤں تا کہ میری موت کے بعد وارثان میں کوئی تنازعات ، اختلافات رونما نہ ہو جائیں اور جائیداد مذکورہ بالا کی برد باری نہ ہو یا کہیں مقدمہ بازی کی نذر نہ ہو جائے نمبر-1 یک قطعہ دکان کارنر نجی نمبر 1 گراؤنڈ فلور منجملہ پراپرٹی نمبر 971+970-C معہ زمین زیریں رقبہ 105 تقریباً ( بلا چھت بالائی ) و جملہ کنکشن و تنصیبات نصب شده ۔ واقع دتو جوہری پانی والا تالاب تحصیل سٹی ضلع لاہور ۔ بروئے بیع نامہ دستاویز نمبر 5992 بہی نمبر 1 جلد نمبر 164 چسپاں شدہ مورخہ 29-07-2003  تصدیق شدہ سب رجسٹرار راوی ٹاؤن لاہور۔

نمبر -2 یک قطعہ مکان پراپرٹی نمبر 978-C معہ زمین زیریں بعمارت پختہ تعمیر شده معہ چھت بالائی تا حد فلک و جملہ کنکشنز و تنصیبات نصب شده واقع دتو جو ہری پانی والا تالاب تحصیل سٹی ضلع لاہور ۔ بروئے دستبرداری نامہ دستاویز نمبر 5747 بہی نمبر 1 جلد نمبر 2969 چسپاں شده مورخہ 1988-07-18 تصدیق شدہ سب رجسٹرار سٹی لاہور۔ مملوکہ و مقبوضہ من موصی ہے اور تادم تحریر میں نے پراپرٹی مذکورہ کو کسی دیگر کے ہاتھ رہن، بیع، ہبہ نہ کیا ہے اور نہ ہی کسی بینک سے کوئی قرضہ وغیرہ حاصل کیا ہے ، جب تک میں حیات ہوں بحیثیت مالک ہوں جس طرح چاہوں اپنے تصرف و استعمال میں لاؤں خود ر ہائش کروں یا کرایہ پر  دوں۔ میری موت کے بعد میری اولاد اپنے قانونی حصص کی مطابق مالکان و قابضان ہونگے ۔ اگر کسی مرحلہ پر مکان و دکان فروخت ہوتی ہے تو فریقین بحصہ مساوی کے حقدار ہوں گے۔ فروختگی کی صورت میں جملہ وارثان ایک دوسرے سے مشاورت کے بغیر جائیداد کو منتقل کرنے کے مجاز نہ ہونگے۔۔۔۔۔۔۔

موصی مذکور کی (اولاد) بہ تفصیل ذیل ہیں  زید  و  خالد پسران  بکر مسماۃ  فاطمہ زوجہ  ضیاء  دختر  بکر  ( موصیان الیہان )

جائیداد کی تفصیل درج ذیل ہے: پورشن گراؤنڈ فلور ایک کمرہ  زید  کے تصرف میں ہے اور منزل اول من موصی اور  خالد کے قبضہ تصرف میں بطور رہائش رہے گا۔ اور منزل دوئم  خالد  کے قبضہ تصرف میں بطور رہائش رہے گا۔ اور منزل سوئم فریقین کے استعمال میں مشتر کہ رہے گا۔ اور منزل چہارم  زید کے قبضہ تصرف میں رہے گا۔ اور دکان گراؤنڈ فلور جس کا کرایہ مبلغ = 5,500 RS ماہوار آتا ہے وہ من موصی وصول کر رہا ہے۔ من وصی کی زندگی کے بعد دکان کا زر کرایہ فریقین بحصہ مساوی وصول کر نے کے مجاز ہوں گے۔ من موصی کی وفات کے بعد پچیس (25) تولے سونا کی واحد مالکہ میری بیٹی مسماۃ  فاطمہ ہو گی جس پر دیگر وارثان کا کوئی حق مطالبہ نہیں ہوگا۔ مزید وضاحت کی جاتی ہے کہ پسران و دختر ہر دو جائیداد مذکورہ بالا کو رہن پر دینے کے مجاز نہ ہوں گے اور نہ ہی مکان کو کرایہ پر دینے کے مجاز ہوں گے۔ موصیان مذکور بعد از وفات وصیت مذکوره دستاویز کو حسب ضابطہ بدفتر سب رجسٹرار لاہور تصدیق کرانے کے مجاز ہوں گے ۔ من موصی نے اس سے پہلے کوئی وصیت نامہ تحریر نہ کیا ہے۔

لہذا من موصی مقر نے آخری و قطعی وصیت نامہ ہذا کو پڑھ کر سنکر سوچ سمجھ کر درست تسلیم کر کے اپنے دستخط ونشان انگوٹها رو برو گواہان ثبت کئے ہیں تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ بتاریخ 2018-01-11 بروز جمعرات بمقام لاہور

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر کسی شخص نے اپنے کسی وارث کے لیے وصیت کی ہو تو وارث کے حق میں  کی جانے والی  وصیت دیگر  ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے،جو ورثاء اس وصیت کے نفاذ کی اجازت دے دیں  اسے ان کے حق میں  نافذ کیا جاتا ہے، اور جو   ورثاء راضی نہ ہوں ان کے حق  میں اس وارث کو صرف اس کا متعین شرعی حصہ ملے گا اور اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے، مذکورہ صورت میں چونکہ آپ کے والد نے اپنی بیٹی کے حق میں اس کے شرعی حصہ سے زائد کی  وصیت کی ہے جو کہ ان کی وارث ہے اور باقی ورثاء یعنی دونوں بھائی اس وصیت کے نفاذ کی اجازت نہیں دے رہے لہذا وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا، چنانچہ   مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکے کے5حصے کیے جائیں گےجن میں سے ہر  ایک بیٹے کو 2 حصے (40%) اور    بیٹی کو 1 حصہ (20%) ملے گا۔

عالمگیری (90/6) میں ہے:

ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة

مسئلہ: 5

میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

2بیٹے                                        1 بیٹی

ع

2+2                          1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved