• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد کے علاوہ غیر مسجد میں جمعہ شروع کرنا

استفتاء

ہمارے دینی ادارے میں شعبہ حفظ کی برانچ مسجد سے الگ دوسری بلڈنگ میں بنی ہوئی ہے جس میں تقریبا 500 تعداد ہے جس میں اکثریت بچے نابالغ  اور کچھ بالغ بھی ہیں، جمعہ کے دن مدرسہ کی چھٹی نہیں ہوتی، موجودہ حالات کی بنا پر چھٹی اتوار کو ہوتی ہے اگر اتوار کی چھٹی نہ کی جائے تو طلباء زیادہ چھٹیاں کر لیتے ہیں اس لیے اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور جمعہ کو پڑھائی کی جاتی ہے جس دن جمعہ کو پڑھائی ہوتی ہے تو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے کیا نابالغ بچوں کو اور بالغ  بچے اساتذہ کرام کی نگرانی میں جو ہمارا دارالقرآن ہال نئی  بلڈنگ ہے وہاں پر جمعہ کی نیت سے جمعہ  کروا لیا جائے اور اس میں طلباء اور اساتذہ کرام شریک ہو جائیں تو کیا اس کی اجازت ہے؟ یا پھر سب کو جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں لانا ضروری ہے؟  مسجد میں لانے سے ایک تو نمازیوں کی گنجائش کے اعتبار سے مسئلہ بنتا ہے جب اتنی بڑی تعداد میں بچے مسجد میں آئیں گے تو نابالغ  بچوں کی وجہ سے علاقہ کے نمازی بھی متاثر ہوتے ہیں ان کو جگہ ملنے میں دشواری پیش آتی ہے تو کیا اس کی شرعی طور پر گنجائش ہے کہ ان سب بچوں اور اساتذہ کے لیے دار القرآن کے ہال میں ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کا نظم کر دیا جائے اور وہاں پر باقاعدہ خطبہ، جمعہ کی جماعت ہو۔ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری تحقیق میں دینی مدرسے میں جمعہ کی بجائے اتوار کی چھٹی کرنا ہی جائز نہیں کیونکہ اس میں عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے جس کا فتوی پہلے بھی دیا جا چکا ہے  باقی رہی یہ بات کہ اگر اتوار کی چھٹی  نہ کی جائے تو طلباء زیادہ   چھٹیاں کرلیتے ہیں تو یہ بات اگرچہ فی نفسہ ٹھیک  ہے اور اس کا کوئی مضبوط حل بھی ہوناچاچاہیے لیکن اس سے بچنے کے لیے اتوار کی چھٹی کرنا جائز نہیں کیونکہ چھٹیوں کی بنسبت عیسائیوں کی مشابہت سے بچنا زیادہ اہم  اور ضروری ہے اور  اتوار کی چھٹی نہ کرنے کی صورت میں نماز جمعہ کا مسئلہ بھی پیش نہ آئے گا۔ نیز   مذکورہ بلڈنگ میں جمعہ کی صحت ہی مشکوک ہے کیونکہ جمعہ کی صحت کے لیے من جملہ دیگر شرائط کے ایک شرط اذن عام ہونا ہے جس کے پائے جانے کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے۔

۱۔محلے کے اکثر و بیشتر لوگوں کو اس کا علم ہو کہ اس بلڈنگ میں جمعہ ہوتا ہے۔

۲۔محلے  کے یا راہ  چلتے لوگ اس بلڈنگ میں جمعہ کے لیے آنا چاہیں تو ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

جبکہ ظاہر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں اذن عام کی شرط موجود نہیں کیونکہ اول تو محلے کے اکثر و بیشتر لوگوں کو اس بلڈنگ میں جمع ہونے کا علم نہیں اور اگر علم  بھی ہو تو انہیں اس بلڈنگ میں جمعہ کے لیے آنے کی اجازت نہیں اور  اگر ادارے والے اس کا اہتمام بھی کرلیں کہ  محلے کے اکثر و بیشتر لوگوں کو اس بلڈنگ میں جمعہ پڑھنے کا علم بھی ہو جائے اور انہیں اس بلڈنگ میں جمعہ کے لیے آنے کی اجازت بھی دے دی جائے تو پھر بھی مسجد کو چھوڑ کر غیر مسجد میں جمعہ پڑھنے کو معمول بنا لینا مکروہ تحریمی ہے یعنی حرام کے قریب قریب ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ اتنے بچوں کو مسجد میں لانے سے نمازیوں کی گنجائش کا مسئلہ بنتا ہے تو ہماری معلومات کی حد تک یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی  کیونکہ مذکورہ مسجد میں زمینی منزل یعنی (گراؤنڈ فلور )  کے نیچے تہ خانہ (بیسمنٹ)  اور زمینی منزل کے اوپر دو منزلیں اور بھی ہیں جن میں مذکورہ طلباء تو کیا ان سے دو گنے  بھی بآسانی  آسکتے ہیں بالخصوص جب کہ جمعہ کے دن درس نظامی کے طلباء کی چھٹی ہونے کی وجہ سے مزید گنجائش بھی  بن جاتی ہے لہذا مذکورہ  باتوں کے پیش نظر یہ جائز نہیں کہ اس بلڈنگ میں جمعہ شروع کیا جائے۔

بدائع الصنائع (1/279) میں ہے:

وذكر في النوادر شرطا آخر لم يذكره في ظاهر الرواية وهو أداء الجمعة بطريق الاشتهار حتى إن أميرا لو جمع ‌جيشه ‌في ‌الحصن وأغلق الأبواب وصلى بهم الجمعة لا تجزئهم كذا ذكر في النوادر

شامی (3/29-30) میں ہے:

(و) السابع: (‌الاذن ‌العام) من الامام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين، كافي ………… (فلو دخل أمير حصنا) أو قصره (وأغلق بابه) وصلى بأصحابه (لم تنعقد) ولو فتحه وأذن للناس بالدخول جاز وكره، فالامام في دينه ودنياه إلى العامة محتاج، فسبحان من تنزه عن الاحتياج.

وفى الشامية: (قوله وأذن للناس إلخ) مفاده ‌اشتراط ‌علمهم بذلك، وفي منح الغفار وكذا أي لا يصح لو جمع في قصره لحشمه ولم يغلق الباب ولم يمنع أحدا إلا أنه لم يعلم الناس بذلك. اهـ. (قوله وكره) لأنه لم يقض حق المسجد الجامع زيلعي.

شامی (3/29)میں ہے:

(قوله الإذن العام) أي أن يأذن للناس ‌إذنا ‌عاما بأن لا يمنع أحدا ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه وهذا مراد من فسر الإذن العام بالاشتهار، وكذا في البرجندي إسماعيل وإنما كان هذا شرطا لأن الله – تعالى – شرع النداء لصلاة الجمعة بقوله {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] والنداء للاشتهار وكذا تسمى جمعة لاجتماع الجماعات فيها فاقتضى أن تكون الجماعات كلها مأذونين بالحضور تحقيقا لمعنى الاسم بدائع.

امداد الفتاویٰ(4/266)  میں ہے:

’’سوال: ہمارے یہاں سب مدارس میں جمعہ کو تعطیل ہوتی ہے، اتوار کو تعطیل کرنا روا ہوگا یا نہیں؟

 جواب: نہیں، بسبب تشبہ وتعظیم یومِ نصاریٰ کے۔‘‘

فتاویٰ محمودیہ(8/363) ميں  ہے:

’’اتوار کے دن تعطیل کرنے میں تشبہ ہے غیروں کے ساتھ، دینی مدرسہ میں اس کو ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔‘‘

آپ کے مسائل اور ان کا حل( 8/265) میں ہے:

 جواب :اتوار کا دن عیسائیوں کا مذہبی دن ہے اورہفتہ کا دن  یہودیوں کا (یوم السبت) یعنی چھٹی کا دن ہے اس لیے ہفتہ اور اتوار کو چھٹی میں یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے اس لیے چھٹی تو جمعہ کے دن ہی ہونی چاہیے ورنہ مسلمانوں کا پورا معاشرہ گناہگار ہوگا  ………………..

مسائل بہشتی زیور( 1/293 )میں ہے :

مسئلہ : جمعہ کے لیے مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے لیکن محض لاپرواہی یا آسانی کی خاطر اس کو معمول بنا لینا مکروہ تحریمی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved