- فتوی نمبر: 34-223
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
فریق اول ( جامعہ **** )کا مؤقف:
مدرسہ جامعہ *** لاہور نے قربانی 2025 کے لیے جانور خریدنے کا معاہدہ کیا لیکن فروخت کنندہ نے معاہدے کی بہت سی شقوں کی خلاف ورزی کی اور عیب دار جانور دیے اس لیے ادارے نے انتظامیہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلے کے مطابق کچھ رقم کاٹ لی ۔سوال آخر میں ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے:
ادارے کی انتظامیہ کمیٹی کے اجلاس میں مندرجہ ذیل مشاورت اور فیصلے ہوئے :
کمیٹی کو بتایا گیا کہ امسال ادارے نے قربانی 2025 کے جانوروں کی خریداری کے لیے زید نامی شخص سے تحریری معاہدہ کیا اور زید کے مطالبے پر چند قسطوں میں مبلغ 23 لاکھ روپے ایڈوانس ادا کیے۔ لیکن ادارے کی طرف سے خریدے گئے قربانی کے جانوروں میں فروخت کنندہ کی طرف سے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
- معاہدے کے مطابق مدرسے کے نمائندگان چار ذوالحجہ سے جب چاہیں جانور پسند کر کے وزن کروا کر فائنل کر سکتے تھے لیکن نمائندگان نے جب بھی اس سلسلے میں فروخت کنندہ سے رابطہ کیا تو انتظار کا ہی بولا گیا اور جب عید سے دو دن قبل زبردستی وقت لے کر نمائندگان جانور وصول کرنے پہنچے تو پہلے سے نشان زدہ جانور فروخت کنندہ نے دیے یعنی طے شدہ معاہدے کے خلاف مدرسے کے نمائندگان کو پسند کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔
- معاہدے میں طے تھا کہ جانوروں کی تعداد صارفین کی بکنگ پر منحصر ہے البتہ جتنے جانوروں کی ادارے کو ضرورت ہوگی فروخت کنندہ مہیا کرنے کا پابند ہوگا ۔اس شق پر فروخت کنندہ نے خود کہا تھا کہ ادارے کی طرف سے کوئی دن متعین کیا جائے۔ اس پر معاہدے کے وقت زبانی طور پر یہ بات ہوئی کہ ادارہ سات ذوالحجہ تک فائنل تعداد بتائے گا۔ چونکہ مدارس میں جانوروں کی تعداد صارفین کی بکنگ پر منحصر ہوتی ہے لہذا بعض صارفین نے اپنے حصے کینسل کیے جس کے بعد بروقت نئی لسٹ ادارے کی طرف سے فروخت کنندہ کو بذریعہ واٹس ایپ بھیجی گئی لیکن جب ادارے کے نمائندگان جانور لینے پہنچے تو بتایا گیا کہ آپ کا آرڈر جو پہلے تھا ہمارے پاس یہی لکھا ہوا ہے اور مصروفیت کی وجہ سے نیا آرڈر واٹس ایپ پر نہیں دیکھا جا سکا اس لیے یہ زائد جانور آپ کو لینا پڑیں گے بلکہ فروخت کنندہ نے حساب کی کاپی بند کر دی اور یہ کہا کہ جب تک زائد جانوروں کا معاملہ طے نہیں ہوگا مزید آگے بات نہیں ہوگی اور کسی جانور کا وزن نہیں کیا جائے گا جس پر مجبورا ادارے کو زائد جانور لینا پڑے ۔بعد میں مہتمم نے بات کی تو کہا کہ دو زائد جانور لینے ہوں گے البتہ اس میں بچھڑے کا ریٹ طے شدہ ریٹ سے کم کر کے 700 روپے فی کلو اور گائے کا ریٹ طے شدہ ریٹ سے کم کر کے 550 روپے فی کلو کے حساب سے قیمت دے دیں ۔اسی طرح ڈی کیٹگری کی دو عدد مادہ (گائے )مطلوبہ تعداد سے کم دی گئیں حالانکہ معاہدے کے مطابق فروخت کنندہ مہیا کرنے کا پابندتھا۔ بعد میں ادارے نے مارکیٹ سے اس سے کم ریٹ پر نر بچھڑے خریدے جس سے پتہ چلا کہ فروخت کنندہ نے کافی زیادہ ریٹ لگایا ہوا ہے ۔
- معاہدے میں طے تھا کہ ایسا جانور نہیں لیا جائے گا جو بیمار یا لاغر ہو، پسند نہ آیا، کھیرا ،الغرض کسی قسم کے عیب والا جانور نہیں لیا جائے گا جبکہ بعض جانور کہ جن پر ادارے کے نمائندگان نے بات کی لیکن زیدنے صاف کہا کہ یہی جانور ہیں اور یہی لینے پڑیں گے کیونکہ یہ آپ کے لیے ہی میں نے خریدے ہیں۔ اس موقع پر ادارے کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ادارہ یہ جانور قربانی کے لیے خرید رہا ہے جو جانور شرعا قربانی کے لائق ہی نہیں اور اپنے پاؤں پر چل کر قربان گاہ تک بھی نہیں جا سکتا اس کا ادارہ کیا کرے گا؟
- معاہدے سے پہلے جب بات چیت چل رہی تھی اس وقت ادارے کے مہتمم نے گائے کے متعلق خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بوڑھی اور مریل گائیں نہ دی جائیں کیونکہ اس کے گوشت پر لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے ۔اس پر فروخت کنندہ نے زبانی طور پر کہا تھا کہ آپ فکر نہ کریں آپ کو اچھی والی گائے دوں گا کمزور نہ دوں گا۔
- یہ بات بھی زبانی ہوئی تھی کہ اگر ادارے کو مثلا 290 کلو کا جانور چاہیے تو اب 290 کلو کا پورا پورا تو مل نہیں سکتا کچھ کمی بیشی ہو سکتی ہے لہذا ادارے نے 20 کلو کی رینج رکھی کہ مثلا 280 سے 300 کلو کے درمیان جانور ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی فروخت کنندہ نے کی تھی کہ جو وزن ادارے کو درکار ہوگا اسی کے اندر اندر جانور ہوں گے اگر اس سے زائد وزن کا کوئی جانور ہوا تو میں اس زائد وزن کی قیمت نہیں لوں گا چنانچہ معاہدے کی شق نمبر 3 لکھی گئی کہ جانور کا وزن اسی رینج میں ہوگا جو لکھ دیا ہے۔ لیکن بعض جانور طے شدہ وزن سے زائد یا کم تھے۔ جو زائد تھے، فروخت کنندہ اب یہ کہتا ہے کہ زائد وزن کی بھی قیمت دینا ہوگی۔ حالانکہ پچھلے سال بھی زائد وزن کی قیمت کا نہ تو مطالبہ کیا گیا نہ ادا کی گئی کیونکہ معاہدے کے مطابق زائد وزن کی قیمت نہ لینے کا طے تھا۔
- ادارے کو جو جانور دیے گئے ان میں سے کوئی بھی اچھی کوالٹی کا نہیں تھا خاص طور پر ڈی کیٹگری کے تمام جانور مریل تھے جن کی ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں۔ قصائیوں نے دیکھا تو کہا کہ یہ کچرہ کہاں سے لے آئے ہو اس طرح کے تو منڈی میں 45، 46 ہزار کے ملتے ہیں (جبکہ ادارے کو اس کیٹگری کے سب جانور ایک لاکھ سے اوپر قیمت پر دیے گئے)۔ ایک جانور جو بعد میں فوت ہو گیا وہ مدرسے کے باہر سڑک پر پڑا تھا اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کھڑا ہی ہو سکے۔ محلے کے ایک آدمی نے آکر کہا کہ اس کو اٹھا کر اندر لے جائیں پورے علاقے میں باتیں ہو رہی ہیں کہ کس قسم کے مریل جانور لائے گئے ہیں۔ چنانچہ دو تین بانسوں سے ڈولی بنا کر اس پر بٹھا کر اسے اندر ایک طرف رکھا گیا لیکن یہ صبح سے پہلے وفات پا گیا۔ اسی طرح ایک اور جانور تھا جو اٹھ نہیں سکتا تھا لہٰذا اس کی قربانی جائز نہیں تھی لیکن قصائیوں نے اسے ذبح کر دیا اور اسکا گوشت بانٹنا پڑا، اور ادارہ کو اپنی طرف سے رقم ادا کر کے نیا جانور لینا پڑا۔ حالانکہ جب مدرسہ کے نمائندگان جانور لینے گئے تھے تو اس وقت بھی یہ بات ہوئی تھی کہ مدرسہ جانور قربانی کے لئے لے رہا ہے، جس جانور کی قربانی ہی نہیں ہو سکتی، مدرسہ اس کا کیا کرے گا؟ لیکن جب فروخت کنندہ مدرسہ کے نمائندگان کی بات ماننے پر راضی نہ ہوا تو یہ بھی کہا گیا کہ ہم مجبوراً لے جاتے ہیں لیکن اگر یہ مر گیا تو مدرسہ اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ جن صاحب کے توسط سے اس فروخت کنندہ زید سے بات ہوئی تھی، ان کو بتایا گیا اور جانوروں کی تصاویر بھیجی گئیں تو انہوں نے کہا کہ :”چند دن پہلے میں خود اسکے فارم پر گیا تھا تو اتنے مریل جانور دیکھ کر میں نے زیدسے پوچھا کہ یہ جانور کون لے گا؟ اس پر زیدنے کہا کہ یہ عید ہے ان دنوں میں سب بک جاتا ہے ۔ لگتا ہے کہ اس طرح کا سارا مال اس نے آپ کو دے دیا ہے۔”
- بعض جانور ایسے تھے جو لوگوں نے آرڈر پر منگوائے تھے کہ ہم جانور گھر لے جائیں گے لیکن ان کو جانور پسند نہیں آئے۔ ان میں سے ایک نے فروخت کنندہ سے بات بھی کی کہ اس کیٹگری کا کوئی جانور اس قابل نہیں کہ میں گھر لے جا سکوں آپ مہربانی کریں اور میری رقم واپس کر دیں اور اس کو کہیں اور بیچ دیں لیکن فروخت کنندہ نے رقم واپس نہیں کی۔ جاتے جاتے وہ شخص کہہ کر گیا کہ دوبارہ اس مدرسہ میں نہیں آئے گا۔ بعض اور حضرات کو بھی ادارہ کو اپنی طرف سے کچھ رقم بھی واپس کرنی پڑی۔ اس طرح کے مریل جانوروں کی وجہ سے اہل محلہ میں بھی بدنامی ہوئی اور ادارہ کے ساتھ چلنے والے احباب بھی ناراض ہوئے۔
- معاہدہ میں طے تھا کہ پیور ولایتی جانور نہیں لیا جائے گا البتہ کراس پر بات نہیں ہوگی۔ جبکہ ادارہ کو جو جانور فراہم کیے گئے ان میں پیور ولایتی جانور بھی تھے جس پر نمائندگان سے کہا گیا کہ سب چلتا ہے ہمارے پاس تو یہی ہیں۔
- معاہدہ میں طے تھا کہ جانور لینے کے لئے جانے والی ٹیم کو آدھے گھنٹہ سے زیادہ انتظار نہیں کروایا جائے گا۔ لیکن کئی گھنٹے رات گئے تک انتظار کروایا گیا۔
وجوبات جن کی وجہ سے ادارہ موقع پر جانور لینے سے انکار نہ کرسکا:
مبلغ 23 لاکھ ادا کیے جا چکے تھے جن کی واپسی فروخت کنندہ کے تیور دیکھ کر ممکن نہیں لگ رہی تھی۔ عید سے ایک دن قبل 40 جانور ادارہ کس طرح پورے کرتا؟ اور 280 لوگوں کی قربانی کا کیا ہوتا؟ یہ بھی خطرہ تھا کہ 23 لاکھ واپس نہ ہوتے بلکہ اس وقت فروخت کنندہ کا یہ کہنا تھا کہ ساری رقم بیوپاریوں کو دی ہوئی ہے۔ ادارے کے پاس 23 لاکھ نہیں تھے کہ مارکیٹ سے جانور خرید سکتا اس لیے 23 لاکھ کی خطیر رقم پھنسی ہونے، وقت کی کمی، لوگوں کی قربانی، اور مدرسے کے پاس زائد رقم نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً ادارے کو فروخت کنندہ کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر جانور لینے پڑے۔
فروخت کنندہ سے بات چیت:
فروخت کنندہ کو قربانی کے بعد ادارہ میں بلوا کر بات چیت کی گئی۔ فروخت کنندہ ان دو جانوروں کی قیمت چھوڑنے پر راضی ہو گیا جن کی قربانی نہ ہو سکی البتہ طے شدہ قیمت میں کمی پر راضی نہیں ہوا۔ فروخت کنندہ نے خود بتایا کہ ڈی کیٹگری کے جانور اس نے مال دیکھے بغیر محض اعتماد پر اپنے کزن سے لیے ہیں۔ اگر دیکھے ہوتے تو نہ لیتا۔ کمیٹی ممبران نے تمام تفصیل توجہ سے سنی اور سیر حاصل بحث کی۔ اس بات کو مد نظر رکھا گیا کہ ادارہ کی طرف سے فروخت کنندہ کو نقصان نہ ہو۔ بار بار یہ بات کمیٹی کے سامنے دہرائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کا خوف سامنے رکھیں کہیں روز قیامت ہم جواب دہ نہ ہو جائیں۔ دوسری طرف جانوروں میں عیب کے مطابق کٹوتی ضروری تھی تا کہ فروخت کنندہ کو بھی احساس ہو کہ اس نے غلط کیا ہے اور آئندہ کسی مدرسہ کے ساتھ ایسی حرکت نہ کرے۔ نیز ظالم کا ہاتھ روکنا مقصود تھا۔ لہذا کمیٹی نے متفقہ طور پر منڈی کے ریٹ، جانور کے درجہ اور وزن کے اعتبار سے نئی لسٹ مرتب کی کہ اس قیمت پر فروخت کنندہ کو ادائیگی کی جائے گی۔ (لسٹ لف ہے۔)
معاہدے کے مطابق قیمت: 53,07,975،کمیٹی کے مطابق قیمت: 50,08,300،فرق: 2,99,675
23 لاکھ روپے بطور ایڈوانس ادا کیے جاچکے تھے۔کمیٹی نے مزید 27,08,300 روپے ادا کرنے کی منظوری دی جو کہ ادا کر دی گئی ہے۔ اس طرح کل 50,08,300 روپے فروخت کنندہ کو ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ 299675 روپے بوجہ عیوب کاٹ لیے گئے ہیں جو کہ کل قیمت کا چھ فیصد سے کم ہے۔
سوال:
اگرچہ کمیٹی نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ بے جا رقم نہ کائی جائے۔ پھر بھی یہ سوال اس نیت سے بھیجا جارہا ہے کہ زیادتی نہ ہو جائے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ:
1۔ کیا مدرسہ مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق عیوب کی وجہ سے رقم کاٹنے میں حق بجانب ہے؟
2۔ اگر مدرسہ رقم کاٹ سکتا ہے تو کیا جتنی رقم کاٹی گئی، اس میں مدرسہ نے کوئی زیادتی تو نہیں کی؟
ملحوظہ:
1۔ مندرجہ بالا تحریر ایک واسطے کے ذریعہ فروخت کنندہ تک پہنچادی گئی تھی تا کہ جو صاحب درمیان میں واسطہ ہیں اور خود بھی عالم دین ہیں وہ اور فروخت کنندہ پڑھ لیں، اور تحریر کے کسی نکتہ پر اعتراض ہو تو بتادیں، یا کوئی تفصیل زائد بتانا چاہیں تو بتا دیں تاکہ فریقین کی طرف سے ایک متفقہ تحریر استفتاء کے لیے بھیجی جا سکے لیکن چھ دن گزرنے کے باوجود اور بار بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا گیا اس لیے مندرجہ بالا تحریر یک طرفہ طور پر بھیجی جارہی ہے۔
2۔ مدرسہ اور فروخت کنندہ کے معاہدہ کی نقل ساتھ منسلک ہے جس پر فروخت کنندہ کا موبائل نمبر بھی موجود ہے۔ البتہ یہ ملحوظ رہے کہ فروخت کنندہ اس معاملہ میں ادارہ سے منسلک افراد اور ادارہ کی کمیٹی کے اساتذہ کرام سے رابطہ کرکے باتیں بدل بدل کر ادارہ کے افراد پر جھوٹ گھڑ تا رہا ہے تاکہ معاملہ اسکے حق میں ہو جائے۔
3۔ مدرسہ کو فراہم کئے گئے جانوروں میں سے ڈی کیٹیگری کے کچھ جانوروں کی تصاویر بھی ساتھ منسلک ہیں تا کہ اندازہ ہوسکے کہ کیسے جانور دیئے گئے۔ (چونکہ معاملہ اس نہج تک پہنچنے کی امید نہ تھی اس لئے سب جانوروں کی تصاویر موجود نہیں، البتہ مریل جانور کی ایک ویڈیو موجود ہے جو کہ واٹس ایپ پر منگوائی جاسکتی ہے ) گزارش ہے کہ جواب جلد عنایت فرمایا جائے۔
فریق دوم ( زید) کا مؤقف:
(دارالافتاء کی طرف سے فریق دوم سے رابطہ کر کے انہیں اپنا مؤقف بھیجنے کو کہا گیا۔فریق دوم نے بذریعہ واٹس ایپ اپنا تفصیلی مؤقف ارسال کیا جس کا لب لباب یہ ہے):
جامعہ میں جانور مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر کے لیے جاتے ہیں ان میں ایک کیٹگری ڈی ہے جسے وہ وقف قربانی کے نام پر لیتے ہیں۔ اس میں انتہائی چھوٹے اور ہلکے جانور مانگے جاتے ہیں جن کا وزن صرف 160 سے 180 کلو زندہ ہوتا ہے جس سے گوشت بمشکل 70 سے 75 کلو نکلتا ہے ۔یہ جانور عام حالات میں مہیا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن فارم نے دونوں سال معاہدے کے مطابق یہ جانور بھی دیے۔ فارم نے صرف کیٹگری ڈی کے جانور ہلکےوزن کے دیے جو کہ جامعہ کی اپنے ڈیمانڈ تھی باقی تمام کیٹگریز کے جانور پورے وزن کے یا اس سے زیادہ وزن کے فراہم کیے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی اضافی رقم نہیں لی گئی ۔جامعہ کے ساتھی اپنی مرضی سے جانوروں کا وزن کروا کر لے گئے۔ جو پسند نہ آئے وہ واپس کر دیے گئے۔
معاہدے میں یہ طے تھا کہ فارم کی ذمہ داری صرف فارم کے اندر تک ہوگی گاڑی پر جانور لوڈ کر دینے کے بعد اگر کوئی نقصان ہو تو وہ فارم کی ذمہ داری نہیں ہوگی لیکن جامعہ نے اس شرط کے خلاف ورزی کی اور نقصان کی ذمہ داری فارم پر ڈال کر رقم روک لی۔
معاہدے میں یہ بھی طے تھا کہ جانوروں کی باقی رقم فارم پر ہی فائنل وزن کے بعد دی جائے گی لیکن جامعہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کہا کہ ہم جا کر آپ کو رقم ادا کریں گے اور فارم پر ادائیگی نہیں کی۔ فارم نے اعتماد کرتے ہوئے 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے جانور جامعہ کو بغیر ادائیگی کے حوالے کر دیے لیکن بعد میں جامعہ کے ذمہ داران نے اپنا موقف بدل لیا اور کہنے لگے کہ آپ نے اچھے جانور نہیں دیے وغیرہ۔ پھر رقم دینے میں ٹال مٹول شروع کر دی، پیغامات کا جواب دینا چھوڑ دیا اور رابطے بھی بند کر دیے۔
ادارے نے خود ہی اپنی کمیٹی سے یک طرفہ فیصلہ کر کے رقم کاٹ لی کہ چونکہ ہمیں دو جانور بہت سستے مل گئے لہذا منڈی بہت سستی تھی اس لئے ہم رقم کاٹنے کے مجاز ہیں، جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ خاص کر قربانی کی رقم جو کہ پہلے سے طے تھی اور لوگوں کی امانت تھی۔ منڈی ایک بازار ہے جہاں قیمت کا اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے جب مدرسہ نے جانور خریدے ہوں منڈی کا ریٹ کم ہو، جبکہ فارم نے تمام مدارس کے جانور پہلے خرید کر لیے تھے اور اس پر بہت خرچ وغیرہ آتا ہے خوراک، ٹرانسپورٹ، لیبر کی مد میں۔ اس طرح تو فارم نے کئی جانور بہت مہنگے خرید کر دیے۔ اس اعتبار سے مدرسہ زائد رقم فارم کو ادا کرے کیونکہ اس دن منڈی کا بازار مہنگا تھا۔
مدرسہ کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ فارم نے زائد وزن کے جانوروں کے اضافی پیسے مانگے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جانور زائد وزن کے تھے ان کے کوئی زائد پیسے نہ لیے گئے اور نہ ہی کبھی اس کا مطالبہ کیا گیا۔ بلکہ فارم پر وزن کرتے وقت ہی جامعہ کے ذمہ داران کو صاف کہہ دیا گیا تھا کہ جو بھی زائد وزن ہو گا وہ آپ کو بالکل مفت دیا جائے گا۔ اس لیے جامعہ کی طرف سے اٹھایا گیا یہ اعتراض بے بنیاد، خلاف حقیقت اور صرف معاملے کو الجھانے کے مترادف ہے۔
فارم نے مدرسہ کے تمام جانور پورے کر دیے تھے۔ صرف وہ دو جانور جو مدرسہ کے احباب کو پسند نہیں آئے تھے وہ اپنی مرضی سے چھوڑ کر گئے۔ باقی تمام جانور جامعہ کے ذمہ داران نے خود وزن کروا کے گاڑیوں میں لوڈ کروائے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اس لیے یہ اعتراض بھی بے بنیاد ہے کہ مدرسہ کو مکمل جانور فراہم نہیں کیے گئے۔
مدرسہ کو جو جانور فراہم کیے گئے وہ تمام کے تمام کراس جانور تھے۔ فارم پر ولایتی جانور خریدا ہی نہیں جاتا کیونکہ گرمی کے موسم میں فارم کی پالیسی ہے کہ ولایتی جانور نہ خریدا جائے اور نہ ہی کسی ادارے کو فراہم کیا جائے۔ یہ اصول صرف اس مدرسہ کے لیے نہیں بلکہ تمام مدارس و اداروں کے لیے یکساں ہے اور ہمیشہ صرف کراس یا دیسی کراس جانور ہی دیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ادارے والوں نے بے بنیاد اعتراضات اٹھا کر معاملے کو الجھانے کی کوشش کی۔ خود ہی ایک طرفہ فیصلہ کیا اور فارم کی بقایا رقم روک لی۔ یاد رہے کہ یہ فیصلہ اکیلے ادارہ کا اختیار نہیں تھا اور نہ ہی وہ یہ تعین کر سکتے ہیں کہ جانور کراس تھا یا ولایتی۔ مزید یہ کہ فارم نے کوئی جانور زبر دستی نہیں دیا، بلکہ تمام ذمہ داران فارم پر آئے ، اپنی سمجھ بوجھ سے پسند کے مطابق جانوروں کا وزن کرایا اور اپنی مرضی سے جانور لے کر گئے۔
تمام مدارس کو ان کی باری کے مطابق جانور گاڑیوں میں لوڈ کیے گئے۔ جو ساتھی پہلے آئے ان کا مال پہلے لوڈ کیا گیا۔ مدرسہ ہذا کے ساتھیوں کی ضد تھی کہ ہمارا مال سب سے پہلے لوڈ کر دیا جائے، لیکن ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ دیگر مدارس کے احباب بھی اپنی باری پر موجود تھے۔ اس بات کی تصدیق دیگر مدارس کے ذمہ داران سے بھی کی جا سکتی ہے جو اس وقت فارم پر موجود تھے۔ مزید یہ کہ یہ اعتراض اس لیے بھی بے بنیاد ہے کہ اگر تھوڑا انتظار کروایا گیا تو اس کا تعلق کسی صورت فارم کی بقایا رقم روکنے سے نہیں بنتا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ادارے کے لیے طے شدہ رقم سے کٹوتی کرنا جائز نہیں۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں اگر ادارے کا بیان مکمل درست تسلیم کر لیا جائے تب بھی معاملے کی حقیقت یہ بنتی ہے کہ بائع نے ادارے کو کچھ عیب دار جانور دیے جس کا ادارے کے نمائندگان کو علم تھا اور بقول ان کے انہوں نے عیب کے علم کے باوجود مجبوری کی وجہ سے عیب دار جانور لے کر انہیں استعمال بھی کرلیا اور مشتری اگر عیب کا علم ہونے کے بعد کوئی ایسا تصرف کرے جس سے معلوم ہو کہ وہ بیع کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو اس کا خیار عیب ختم ہو جاتا ہے اور یہ تصرف عیب پر اس کی رضامندی سمجھاجاتا ہے لہذا اسے بعد میں مبیع واپس کرنے یا ثمن میں کمی کا اختیار نہیں رہتا لہٰذا ادارے پر بائع کی مکمل طے شدہ رقم کی ادائیگی لازم ہے۔
شامی (7/230) میں ہے:
مطلب في جملة ما يسقط به الخيار، تنبيه: قال في البحر وإلى هنا ظهر أن خيار العيب يسقط بالعلم به وقت البيع أو وقت القبض أو الرضا به بعدهما أو اشتراط البراءة من كل عيب، أو الصلح على شيء أو الإقرار بأن لا عيب به إذا عينه
دررالحکام شرح غرر الاحکام (2/160) میں ہے:
(مشتر وجد بمشتراه ما ينقص ثمنه عند التجار) وهو العيب المعتبر شرعا والمراد به عيب كان عند البائع ولم يره المشتري حين البيع ولا عند القبض؛ لأنه رضا
فتاوی دارالعلوم دیوبند (14/373) میں ہے:
سوال: یہاں پر چمڑے پکائے جاتے ہیں۔ جب پک جاتے ہیں تو ان کو سکھاتے ہیں اور کسی قدر نمی باقی رکھتے ہیں تاکہ وزن زیادہ ہو۔ جب کوئی گاہک آتا ہے اس سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ سوکھے ہوئے ہیں۔ گاہک بدرجہ مجبوری خرید لیتے ہیں ۔عیب کا چھپانا اور ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور گاہک کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ چمڑے گیلے ہیں۔
الجواب: بائع کو عیب کا چھپانا حرام ہے۔ قال في البحر: إن خيار العيب يسقط بالعلم به وقت البيع الخ وقال صاحب الدر المختار لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لأن الغش حرام انتهى. اس صورت میں خیار عیب باقی نہیں رہتا۔ قال الشامي فاذا رضيه المشتري لا خيار له لأنه قبله بكل عيب الخ اور رضائے عیب کے لیے زبان سے کہنا ضروری نہیں بلکہ علم کافی ہے كما قال الشامي إن الرضا بالعيب لا يلزم أن يكون بالقول الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved