• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قرض پر سونا دینا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کو پیسوں کی ضرورت ہے،  عمرو نے کہا کہ میرے پاس پیسے  تو نہیں  ہیں  لیکن 37 گرام سونا ہے وہ میں آپ کو قرض کے طور پر دیتا ہوں اس کو آپ فروخت کرو اور پیسوں سے اپنا کاروبار کرو لیکن سال  بعد مجھے وہی 37 گرام سونا واپس کرو گے کیا یہ معاملہ  یعنی سونا قرض پر دینا سود کے  زمرے میں تو نہیں آتا؟

وضاحت مطلوب ہے:1۔  مذکورہ صورت میں زید سونا کس کو فروخت کرتا ہے؟2۔ خام سونا ہے یا زیور نیز ہاتھ سے بنا ہوا ہے یا مشین سے؟

جواب وضاحت: 1۔ سونا کسی اور کو فروخت کرتا ہے یعنی عمرو کے علاوہ تیسرے شخص کو۔2۔خام سونا ہے۔

مزید وضاحت مطلوب ہے: یہ تیسرا شخص اس سونے کا کیا کرتا ہے؟ کیا یہ تیسرا شخص اس قرض دینے والے کو  تو فروخت نہیں کرتا؟نیز یہ معاملہ زبانی کلامی ہوتا ہے یا تحریری ہوتا ہے؟

جواب وضاحت: تیسرا شخص دکاندار ہے وہ سونا دینے  والے کو فروخت نہیں کرتا اور یہ معاملہ ز بانی ہوتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت قرض کی ہے سود کی نہیں اور سونا  بطور قرض  دینا جائز ہے تاہم اس میں مندرجہ ذیل  امور کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

1۔ کبھی کبھار ایسا کر لیا  تو ٹھیک ہے تا ہم اسے باقاعدہ کاروبار نہ بنایا جائے۔

2۔ اس میں ادھار کی مدت کو  فریقین میں سے کسی کی طرف سے بھی لازم نہ سمجھا جائے بلکہ فریقین  کو یہ معلوم ہو کہ ادھار کی مدت سے پہلے اس سونے کی واپسی کا  مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور دوسرا فریق واپس کرنے کا پابند ہے۔ ادھار کی مدت کو  وہ بطور عذر پیش نہیں کر سکتا اور اگر فریقین میں سے کوئی  بھی  ادھار کی مدت کو لازم سمجھتا ہو تو یہ معاملہ قرض کا نہ  رہے گا بلکہ سونے کی سونے کے بدلے ادھار خرید و فروخت کا ہوگا جو کہ ناجائز ہے۔

3۔جس طرح کا (جتنے کیرٹ  کا) سونا ادھار دیا گیا واپسی  میں بھی اسی طرح کا سونا دینا  لازم ہے۔

4۔ یہ معاملہ قرض کا   کہہ کر کیا جائے یعنی یوں کہا جائے کہ میں یہ سونا آپ کو بطور قرض کے دیتا ہوں۔

شامی (7/406) میں ہے:

‌‌فصل في القرض (هو) ………. (عقد مخصوص) أي ‌بلفظ ‌القرض ‌ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله)  ……… ‌فيصح ‌استقراض ‌الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا

بدائع الصنائع (7/396) میں ہے:

والأجل ‌لا ‌يلزم في القرض  سواء كان مشروطا في العقد أو متأخرا عنه

فتح القدیر (7/213) میں ہے:

‌بيع العينه………ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى، وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه، وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب، فإن تركه بمجرد رغبة عنه إلى زيادة الدنيا فمكروه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved