• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

آپ ﷺ کی انگوٹھی کتنے ماشے کی تھی اور مرد کے لیے کتنے ماشے کی انگوٹھی پہننا جائز ہے؟

استفتاء

1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کتنے ماشہ کی تھی ؟

2۔کیا اس میں نگینہ بھی  لگا ہوا تھا؟

3۔مرد کے لیے کتنے ماشہ کی مقدار پہننا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ اس کی صراحت تو کسی حدیث میں ہمیں نہیں ملی کہ  آپﷺ کی انگوٹھی کتنے ماشہ کی تھی، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیؓ  کو ایک مثقال ( ساڑھے چار ماشے)  سے کم وزن کی انگوٹھی پہننے کی اجازت دی تھی اور ایک کو ایک مثقال (ساڑھے چار ماشے)  تک کی انگوٹھی پہننے کی اجازت دی تھی اس لیے آپﷺ  کی انگوٹھی بھی  بظاہر ایک مثقال (ساڑھے چار ماشے)  سے کم کی ہوگی یا زیادہ سے زیادہ ایک مثقال (ساڑھے چار  ماشے) کی ہوگی اس سے زیادہ کی نہ ہوگی کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ آپﷺ ایک بات سے دوسروں کو منع کریں اور خود اس کی خلاف ورزی کریں الا یہ کہ کسی بات میں  آپﷺ کو خصوصی اجازت دی گئی ہو جو امت کو نہ دی گئی ہو۔

2۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی  انگوٹھی میں نگینہ  بھی لگا ہوا تھا لیکن کس قسم کا لگا ہوا تھا تو اس میں روایات مختلف ہیں: (۱)وہ  نگ حبشی تھا (۲)چاندی ہی کاتھا(۳)کالے رنگ کا عقیق نامی  پتھر تھا(۴)جذع نامی پتھر تھا جسے اردو میں مہرہ کہتے ہیں جس میں سفیدی و سیاہی ہوتی ہے۔

3۔مرد کے  لیے چاندی کی انگوٹھی ساڑھے چار ماشے یا اس سے کم  مقدار کی جائز ہے، ساڑھے چار ماشے  سے زائد مقدار کی جائز نہیں ہے۔

مسند البزار (10/ 309) میں ہے:

4430- حدثنا محمد بن يحيى الأزدي، قال: حدثنا زيد بن الحباب، قال: حدثنا عبد الله بن مسلم، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، رضي الله عنه، أن رجلا دخل على النبي صلى الله عليه وسلم وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد منك ريح الأصنام فذهب ‌فاتخذه ‌من ‌صفر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم له قولا فيه فقال: يا رسول الله مما أتخذه؟ قال: اتخذه من فضة، ولا تزد على مثقال»

سنن ابی داؤد (رقم الحدیث:4223) میں ہے:

عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، أن رجلا، جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ‌خاتم ‌من ‌شبه، فقال له: «ما لي أجد منك ريح الأصنام» فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال: «ما لي أرى عليك حلية أهل النار» فطرحه، فقال: يا رسول الله، من أي شيء أتخذه؟ قال: «اتخذه من ورق، ولا تتمه مثقالا» كذا فى شعب الايمان وشرح السنة والسنن الكبرى للنسائى وغيرهم أيضا.

جمع الوسائل  فی شرح الشمائل لملا علی قاریؒ (1/138) میں ہے:

(عن أنس بن مالك) وأخرجه الشيخان أيضا عنه (قال: كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من ورق) ‌بكسر ‌الراء ‌وسكونها أي فضة (كان فصه) ……….. (حبشيا) أي حجرا منسوبا إلى الحبش ; لأنه معدنه وقيل: كان فصه عقيقا كما في خبر ذكره في روضة الأحبار، وقيل: كان جزعا، وقال: حبشيا ; لأنه يؤتى بهما من بلاد اليمن، وهو كورة الحبشة

جمع الوسائل فی شرح الشمائل لملا علی قاری(1/138)میں ہے:

(حدثنا قتيبة بن سعيد، وغير واحد) أي وكثير من شيوخ المصنف (عن عبد الله بن وهب) أخرج حديثه النسائي وابن ماجه أيضا(عن يونس) أي الأيلي وقد مر (عن ابن شهاب) أي الزهري تابعي جليل (عن أنس بن مالك) وأخرجه الشيخان أيضا عنه (قال: كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من ورق) بكسر الراء وسكونها أي فضة (كان فصه) ۔۔۔۔ (حبشيا) أي حجرا منسوبا إلى الحبش ; لأنه معدنه وقيل: كان فصه عقيقا كما في خبر ذكره في روضة الأحبار، وقيل: كان جزعا، وقال: حبشيا ; لأنه يؤتى بهما من بلاد اليمن، وهو كورة الحبشة

الدر المختار (9/592) ميں  ہے:

 (‌ولا ‌يتحلى) ‌الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة إذا لم يرد به التزين.

شامی(9/596) میں ہے:

 (قوله ‌ولا ‌يزيده ‌على ‌مثقال) وقيل لا يبلغ به المثقال ذخيرة.

أقول: ويؤيده نص الحديث السابق من قوله  عليه الصلاة والسلام «ولا تتممه مثقالا»

خصائل نبوی مؤلفہ شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ(ص:51)میں ہے:

      یہ حديث (یعنی حوالوں میں مذکور دوسری حدیث از ناقل)بظا ہر اس  روایت کے خلاف ہے جس میں حبشی نگینہ وارد ہوا ہے ،جو لوگ دو انگوٹھیوں کے قائل ہوئے ہیں وہ خود اس حدیث کو بھی دو ہونے پر قرینہ بتاتے ہیں چنانچہ بیہقی وغیرہ کی یہی رائے ہے،ان کے نزدیک تو کوئی اشکال  ہی نہیں  لیکن جو حضرات ایک انگوٹھی کے قائل ہیں  وہ  ان دونوں میں اس طرح جمع فرماتے ہیں کہ حبشی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حبشی رنگ یا حبشی طریقہ کا تھا  یا اس کا بنانے والا حبشی تھا بندہ کے نزدیک تعدد پر  حمل اقرب ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف انگوٹھیاں ہونا  متعدداحادیث سے ثابت ہے کہ ایک انگوٹھی حضور نے  خود بنوائی  پھر ہدیہ  میں خدام نے خود پیش کیں  جیساکہ جمع الوسائل کی مختلف روایات سے یہ مضمون ثابت ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved