• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ذوی الارحام میں میراث کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

آج سے تقریبا نوماہ قبل میری حقیقی خالہ کاانتقال ہوا۔خالہ صاحبہ کی کوئی اولادنہیں  تھی وہ بےاولادتھیں  میرے نانا،نانی، پرنانا ،پرنانی خالہ سے کافی پہلے انتقال کرچکے تھے۔ میرے ایک ہی ماموں تھے ان کابھی پہلے انتقال ہوگیاتھا۔ ماموں کی صرف تین بیٹیاں ہیں، بیٹا نہیں ہے۔ میری والدہ کابھی خالہ سے پہلےانتقال ہوگیاتھا۔ہم دوبھائی اورایک بہن موجودہیں۔ میری خالہ کاایک ہی چچاتھااورایک چچازادبھائی تھاان دونوں کابھی پہلے انتقال ہوگیا ہے، خالہ کے چچازادبھائی کی صرف لڑکیاں ہیں، لڑکا  نہیں ہے۔

میری خالہ کااوپرتک کوئی بھی عصبہ مردنہیں بچا سب کاانتقال میری خالہ سے پہلے ہوگیاتھا اب خالہ کے ورثاء میں خالہ کے شوہر ،تین بھتیجیاں یعنی میرے ماموں کی لڑکیاں ،دوبھانجے اورایک بھانجی یعنی ہم دوبھائی اورایک بہن ہے۔ خالہ نے ترکہ میں 10800000 (ایک کروڑآٹھ لاکھ) روپے چھوڑے ہیں۔ اب خالہ کے ترکہ سے خالہ کے شوہرکوکتناحصہ ملے گا؟ اوردوسرے وارثین کوکتناکتناحصہ ملے گا؟

وضاحت مطلوب ہے کہ: کیا میت کے تایا نہیں ہیں؟

جواب وضاحت: نہیں ہیں۔

مزید وضاحت مطلوب ہے:مرحومہ کے دادا کی اولاد یا پرداد کی اولاد میں سے کوئی ہو تو اس کے متعلق نادرا سے معلوم کرکے بتائیں۔

جواب وضاحت: مرحومہ کے دادا کا تو پاکستان بننے سے پہلے انڈیا میں انتقال ہو گیا تھا نادرا میں اس کا کوئی ریکارڈ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ البتہ مرحومہ کا ایک چچا تھا جو پہلے ہی انتقال کر چکا ہے اور اس کی بھی نرینہ اولاد نہیں تھی دو لڑکیاں تھیں باقی پر دادا یا اسکی اولاد کا مجھے علم نہیں اور نہ میں نے ان کے متعلق اپنے بڑوں سے کچھ سنا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحومہ کے ترکہ کے کل 90 حصے کیے جائیں گے جن  میں سے 45 حصے(50 فیصد) مرحومہ کے شوہر کو اور 10,10 حصے(11.111 فیصد فی کس)مرحومہ کی تینوں بھتیجیوں میں سے ہر ایک کو اور 6،6 حصے(6.666 فیصد فی کس) مرحومہ کے  دونوں بھانجوں میں سے ہر ایک کو اور 3 حصے(3.333 فیصد) مرحومہ کی بھانجی کو ملیں گے۔

اس حساب سے ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپوں میں سے  مرحومہ کے شوہر کو54,00000 (چون لاکھ) روپے اور تینوں بھتیجیوں میں سے ہر ایک کو12,00000(بارہ لاکھ) روپے اور دونوں بھانجوں میں سے ہر ایک کو7,20,0000 (سات لاکھ بیس ہزار) روپے  اور ایک بھانجی کو 3,60,0000 (تین لاکھ ساٹھ ہزار )روپے ملیں گے۔

مفید الوارثین (ص: 176) میں ہے:

درجہ سوم میں یہ دس آدمی نمبر اول کے ذوی الارحام ہیں یہ سب مساوی اور برابر ہیں ان میں سے کوئی مقدم اور زیادہ مستحق نہیں۔

1 ۔اگر ان 10 میں سے صرف ایک ہی شخص موجود ہو تو بلا تکلف اس کو کل مال مل جائے گا۔

2۔اگر چند آدمی ہیں لیکن سب ایک ہی رشتہ دار کی اولاد ہیں جب بلا تکلف مرد کو دہرا عورت کو اکہرا مل جائے گا مثلا 10 بھانجا، بھانجی یعنی سگی بہن کے پانچ بیٹے، پانچ بیٹیاں موجود ہیں تو مرد کو دہرا عورت کو اکہرا مل جائے گا۔

3۔لیکن اگر چند آدمی موجود ہوں اور کئی رشتہ داروں کی اولاد ہوں تو ان میں باہم تقسیم ہونے کا حساب مشکل ہے غور سے سمجھو۔

حساب : جب یہ دس آدمی ان میں سے دو چار موجود ہوں یا ایک ہی نام کے کئی عدد موجود ہوں مثلا تین بھانجے، چار بھانجیاں، پانچ بھتیجیاں تو ایسے وقت میں دو باتوں کا لحاظ ضروری ہوگا : اول یہ کہ جو شخص عصبہ کی اولاد ہو وہ مقدم رہے گا اور جو عصبہ  کی اولاد نہیں بلکہ ذوی الارحام کی اولاد ہے وہ عصبہ کی اولاد کے سامنے میراث سے محروم رہے گا۔

دوسرے یہ کہ جب کئی  آدمی مساوی درجہ کے مستحق ہوں تو خود موجود لوگوں کے مرد و عورت ہونے کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ ان کی اصلوں کو دیکھتے ہیں کہ اگر وہ خود ہوتے تو کس حساب سے پاتے مثلا بھتیجیاں بھائی کی اولاد ہیں اور بھانجیاں بہن کی اولاد ہیں تو بھائی کی موجودگی میں بہن کو جو حصہ ملا کرتا ہے اسی حصہ کو لا کر بہن کی اولاد پر تقسیم کر دیں گے۔ اور للذكر مثل حظ الانثين کا قاعدہ جاری کریں گے۔ اور بھائی کو جو حصہ اوپر کے درجہ میں بوقت زندگی ملتا ہے اس کو لا کر بھائی کی اولاد پر تقسیم کر دیں گے لیکن اولاد کی تعداد کے مطابق اس کا حصہ بڑھا دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved