• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا شارک مچھلی کھانا حلال ہے؟

استفتاء

شارک مچھلی کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ بعض لوگ  کہتے ہیں کہ یہ سمندری جانور ہےمچھلی نہیں ہے کیونکہ یہ حملہ آور ہوتی ہے اور دانتوں سے شکار بھی کرتی ہے  اور بعض کہتے ہیں یہ مچھلی ہے اور مچھلی چاہے بڑی بھی ہو وہ حلال ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری رائے میں شارک مچھلی بھی ایک  مچھلی  ہی ہے، مچھلی سے ہٹ کر کوئی اور سمندری جانور نہیں ہے  اور اس کا  کھانا جائز ہے ۔

توجیہ: سمندری جانوروں میں سے احناف کے نزدیک صرف مچھلی کھانا جائز  ہے ۔ مچھلی  کے  ایسے خواص لازمہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہیں کہ جن پر مچھلی ہونے کا مدار ہو  اور  ان کے نہ پائے جانے سے وہ سمندری جانور مچھلی نہ رہے۔ اس لیے کسی سمندری جانور کے مچھلی ہونے نہ ہونے کا مدار  مچھلی کی پہچان رکھنے  والوں کے اس کو مچھلی سمجھنے نہ سمجھنے پر ہوگا ۔ شارک کو چونکہ  لغت و عرف میں مچھلی سمجھا جاتا ہے ۔نیز    علامہ دمیری رحمہ اللہ نے  بھی حیاۃ الحیوان میں شارک کو مچھلی  شمار کیا ہے لہذا  شارک   مچھلی ہے اور اس کا کھانا جائز  ہے۔

بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع (5/ 35) میں ہے:

«فالحيوان في الأصل نوعان: نوع يعيش في البحر، ونوع يعيش في البر أما الذي يعيش في البحر ‌فجميع ‌ما ‌في ‌البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه وهذا قول أصحابنا رضي الله عنهم،»

انگریزی عربی  ڈکشنری  میں ہے:

Shark (القرش)

المعجم الوسيط  (2/ 726) میں ہے:

(القرش) جنس من الأسماك الغضروفية كَبِير يخْشَى شَره

تحرير الفتاوی  على التنبیہ والمنہاج والحاوی  لابی زرعہ، ت: ۸۶۲ھ  (3/ 426) میں ہے:

«‌القِرش بكسر القاف، ومنهم من ضبطه بفتحها وبالشين المعجمة، وهو: اللخَم بفتح الخاء المعجمة، وقد صرح المحب الطبري في “شرح التنبيه” بحله فقال: لا أرى التمساح يتقوى بنابه، ولا ينبغي تعليل تحريمه بذلك؛ فإن في البحر حيواناً كبيراً يفترس بنابه كالقرش ونحوه وهو حلال، ولا ريب في أن البحري مخالف للبري. انتهى.

وذكر ابن الأثير في “نهاية غريب الحديث” أن في الحديث حديث عكرمة: اللخَم حلال، وقال: وهو ضرب من سمك البحر يقال: اسمه ‌القرش .»

حياة الحيوان الكبرى (1/ 237) میں ہے:

«وقال الشيخ محب الدين الطبري، في شرح التنبيه: ‌القرش حلال.

حياة الحيوان الكبرى (2/ 40) میں ہے:

«قال الجاحظ: ومن السمك القواطع والأوابد كما في الطير، فرب سمكة تأتي في بعض فصول السنة وتنقطع في بعضها. ومن جملة أنواعه السقنقور، والدلفين، والخرشفلا، والتمساح. وقد تقدم ذكرها في أبوابها ومنها: القرش والعنبر»

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  (7/ 2666) میں ہے:

«وعن جابر رضي الله عنهما قال: غزوت جيش الخبط، وأمر علينا أبو عبيدة فجعنا جوعا شديدا، فألقى البحر حوتا ميتا لم نر مثله، ‌يقال ‌له: ‌العنبر، فأكلنا منه نصف شهر، فأخذ أبو عبيدة عظما من عظامه فمر الراكب تحته، فلما قدمنا ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: ” كلوا رزقا أخرجه الله إليكم، وأطعمونا إن كان معكم ” قال: فأرسلنا إلى الرسول صلى الله عليه وسلم منه فأكله»

(قال) أي: جابر (فأرسلنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منه) أي: بعضه أو شيئا منه (فأكله) : وإنما طلبه لئلا يتوهم جواز أكلهم إياه للضرورة وأكله تبركا به حيث كان رزقا لدنيا لأصحابه رضي الله عنهم مع كونه من عجائب المخلوقات.

امداد الفتاوی( 4/ 104 )میں ہے:

جواب :اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ سمک بجمیع انواعہ حلال ہے۔ اب صرف شبہ اس میں ہے کہ یہ  (جھینگا) سمک ہے یا نہیں؟سوسمک کے کچھ خوا ص لازمہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوئے کہ ان کے انتفاء سے سمکیت منتفی ہوجائے۔ اب مدار صرف عدو ل مبصرین کی معرفت پر رہ گیا ہےاور اگر مبصرین میں اختلاف ہوگا تو حکم میں بھی اختلاف ہوگا ۔چنانچہ اسی وجہ سے جریث میں امام محمد رحمہ اللہ مخالف ہیں جیسا کہ علامہ شامی نے نقل کیا ہے۔ اس وقت میرے پاس جو حياۃ الحيوان دمیری کی،جو کہ ماہیات  حیوانات سے بھی باحث ہے موجود ہے، اس میں تصریح ہے: الروبیان هو سمک صغیر جدا (1/528) اور اس کے مقبول نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، پس یہ مقتضی حلت کو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved