- فتوی نمبر: 34-236
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > جمعہ کی نماز کا بیان
استفتاء
کشمیر میں ایک سرکاری ادارے میں 20 /25.بندے ہوتے ہیں جمعہ پڑھنے باہر نہیں جا سکتے ، ادھر اس کیمپ میں جمعہ شروع کیا ہوا ہے، وہاں سے مین بازار ایک کلومیٹر دور ہے اب کیا وہاں کیمپ میں جمعہ پڑھا سکتے ہیں اور جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟2۔ مذکورہ ادارہ شہر کے اندر ہے یا کسی گاؤں میں؟ اگر گاؤں میں ہے تو گاؤں کا شہر سے فاصلہ کتنا ہے اور مذکورہ گاؤں میں اور مساجد ہیں یا نہیں ؟ 3۔ادارہ میں جمعہ شروع کرنے کی کیا مجبوری ہے؟4۔ گاؤں میں ضروریات زندگی سکول، ڈاکٹر ،آبادی وغیرہ کی تفصیل کیا ہے؟
جواب وضاحت: 1۔سائل خود فوجی ہے اور فوجی یونٹ میں ہے۔2۔فوجی یونٹ شہر سے آٹھ سو میٹر دور دیہات میں ہے اور بقیہ مساجد ہم سے 700 میٹر دور ہیں ۔3۔ہمیں یونٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔4۔قریب دکانیں صرف کریانے کی ہے جس میں تمام ضروریات کی چیزیں نہیں ملتیں ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے شہر جاتے ہیں ۔ ہمارے یونٹ میں جمعہ شروع ہوئے تین ماہ ہو چکے ہیں اور جمعہ ہم سے پہلے لوگوں نے شروع کیا تھا جوکہ چلے گئے ہیں اور ہم دو ہفتے پہلے یہاں آئے ہیں اب بھی جمعہ شروع ہے باہر سے قاری صاحب جمعہ پڑھانے کے لیے آتے ہیں، کیا اب ہم جمعہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
تنقیح: یونٹ کے باہر سے کوئی یونٹ میں نہیں آسکتا یعنی یونٹ کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ یونٹ میں جمعہ جائز نہیں۔
توجیہ: چونکہ یونٹ دیہات میں ہےاور دیہات میں ضروریات زندگی بھی نہیں ملتیں اور یونٹ میں عام لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت بھی نہیں ہے اس لیے یونٹ میں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔
ہدایہ (1/34) میں ہے:
لا تصح الجمعة إلا فى مصر جامع او في مصلى المصر ولا تجوز في القرى
شامی (2/138) میں ہے:
وعبارة القهستانى: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التى فيها اسواق
شامی(3/30) میں ہے:
(و) السابع: (الإذن العام) من الإمام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين كافي ………. فلو دخل أمير حصنا) أو قصره (وأغلق بابه) وصلى بأصحابه (لم تنعقد) ولو فتحه وأذن للناس بالدخول جاز وكره
فتاوی مفتی محمود (2/639) میں ہے :
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک یونٹ ایک ریگستانی علاقے میں کئی مہینے فوجی مشقت کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں جس کو سکیم کہتے ہیں کیا ان لوگوں کو نماز ظہر پڑھنی چاہیے یا نماز جمعہ؟
جواب : روایت فقہیہ کے مطابق اس یونٹ کی اس علاقے میں اقامت جمعہ صحیح نہیں نماز جمعہ کی صحت اور وجوب کے لیے مصر یعنی شہر یا قصبہ اور قریہ کبیرہ کا ہونا شرط ہے لہذا ایسے مواقع پر نماز ظہر باجماعت جمعہ کی بجائے پڑھا کریں ہدایہ میں ہے: ولا جمعة بعرفات في قولهم جميعا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved