- فتوی نمبر: 34-241
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
کچھ عرصے پہلے مجھے کسی نے زکوۃ کا وکیل بنایا کہ آپ اپنے فلاں رشتہ دار کو زکوۃ دے دیں لیکن ان کے ہاتھ میں نہیں دینی بلکہ یا تو ان کے بچوں کی فیسیں بھر دیں یا ان کو راشن لے کر دے دیں۔ مجھے مسئلے کا علم نہیں تھا کہ زکوۃ کے لیے مالک بنانا ضروری ہوتا ہے۔میں ان کی فیسیں بھر دیتی تھی یا کبھی ان کو ساتھ لے جا کر راشن دے دیتی تھی۔
کئی لاکھ میں یہ زکوۃ بھی وقتا فوقتا میں ان کو دیتی رہی اب مجھے مسئلے کا علم ہوا ہے کہ زکوۃ کے لیے تو مالک بنانا ضروری ہے اب کیا اتنے سالوں کی جو ان کی زکوۃ تھی وہ ادا ہو گئی؟جنہوں نے مجھے دی تھی ان کو بھی مسئلے کا علم نہیں تھا اور اگر میں ان کو بتاؤں گی بھی تو کوئی فائدہ نہیں تو کیا یہ سب میرے ذمے ہوگا یا ان کے ذمے؟
وضاحت مطلوب:کہ آپ ان کی فیس کی ادائیگی ان کے علم میں لانے کے بعد ان کی اجازت سے کرتی تھی یا علم یا اجازت کے بغیر کرتی تھیں؟
جواب وضاحت:جی ان کی فیس کی ادائیگی کا ان کو علم ہوتا تھا انہیں ہر دفعہ الگ سے نہیں بتاتی تھی ان کو یہ پتہ تھا کہ دبئی سے پیسے آتے ہیں اور میں فیس بھر دیتی ہوں اور راشن کا بتاتی نہیں تھی ویسے ہی بلا کے دے دیتی تھی اور فیس لاکھوں روپے ہو جاتی تھی۔ پانچ پانچ چھ چھ مہینے کی جمع ہو جاتی تھی پھر بھرا کرتی تھی کیونکہ جب پیسے آتے تھے تب فیس بھرتی تھی۔
لاکھوں نہیں ہزاروں معذرت، دبئی والی باجی کہتی تھی کہ اگر ان کو پیسے دیں گے تو یہ پیسے کھا جائیں گے اس لیے وہ ان کو دینے نہیں دیتی تھی اور جن کو دیتی تھی ان کے والد صاحب اور وہ بچے آج کروڑوں میں کھیل رہے ہیں خود لاکھوں کی زکوۃ صدقات نکالتے ہیں۔
مزید تنقیح:ان کے علم میں تھا کہ ہماری فیسیں بھری جارہی ہیں نیز ہمارا غالب گمان ہے کہ ہمارے گھر سے یا کسی نے ان کو بتایا تھا کہ آپ کی فیسیں بھری جارہی ہیں اور انہوں نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا تھا اب یہ پتہ نہیں کہ زبان سے انہوں نے رضامندی ظاہر کی تھی یا نہیں لیکن بالفعل وہ راضی تھےہوسکتا ہے شرم و حیاء کی وجہ سے رضامندی کا زبان سے اظہار نہ کیا ہو۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زکوۃ ادا ہوگئی ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں راشن میں چونکہ براہِ راست تملیک پائی گئی ہے لہذا راشن سے ادا کی گئی زکوۃ کی ادائیگی میں تو کوئی شبہ نہیں ہے البتہ جو زکوۃ بچوں کی فیسیں بھر کر ادا کی گئی ہے اس میں اگرچہ براہِ راست تملیک نہیں پائی گئی لیکن نیابۃ ًتملیک پائی گئی ہے اور وہ اس طرح کہ مذکورہ صورت زکوۃ کے پیسوں سے مستحق کا دین ادا کرنے کی ہے کیونکہ فیس مستحق پر دین ہے اور دائن مدیون کی طرف سے نیابۃً وصول کرتا ہے اور پھر اپنے لیے قبضہ کرتا ہے لہٰذا نیابۃً تملیک پائے جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ البتہ اس صورت میں زکوۃ کے ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مستحق کی اجازت سے اس کا دین ادا کیا جائے ،مذکورہ صورت میں مستحق کی طرف سے اگرچہ صراحتاً اجازت نہیں ہے لیکن دلالۃً اجازت پائی گئی ہے کیونکہ ایک مجلس میں جب اس بات کا ذکر ہوا تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور بالفعل اس بات پر راضی تھے اگرچہ شرم و حیاء کی وجہ سے انہوں نے زبان سے کچھ نہیں کہا دوسرا ان کی طرف سے ہر ماہ فیس ادا کرنے کا معمول بھی تھا لہذا دلالۃً اجازت ہونے کی وجہ سے زکوۃ ادا ہوگئی ہے۔
الدر المختار (3/342) میں ہے:
أما دين الحي الفقير فيجوز لو بامره
(قوله: فيجوز لو بأمره) أي يجوز عن الزكاة على أنه تمليك منه والدائن يقبضه بحكم النيابة عنه ثم يصير قابضا لنفسه
فتح القدیر (2/208) میں ہے:
لو قضى دين حي بامره وقع عن الزكوة كانه تصدق على الغريم فيكون القابض كالوكيل له فى قبض الصدقة.
شامی(3/404) میں ہے:
خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض.
(قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه.
البحر الرائق (2/261) میں ہے:
لو أطعم يتيما بنيتها لا يجزئه لعدم التمليك إلا إذا دفع له الطعام كالكسوة
دررالحکام (2/254) میں ہے:
الإذن دلالة كالإذن صراحة في الحكم.
حاشية ابن عابدين (6/ 315) میں ہے:
ولو ضحي عن أولاده الکبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم وعن الثاني أنه يجوز استحسانا بلا إذنهم ۔بزازية
قال في الذخيرة ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في کل سنة صار کالإذن منهم فإن کان على هذا الوجه فما استحسنه أبو يوسف مستحسن ۔
امداد الفتاوی(3/610) میں ہے:
خلاصہ یہ ہے کہ اضحیہ واجبہ میں چونکہ دوسرے کے ذمے سے ادائے واجب کا قصد ہوتا ہے وہ تو بدون اس کی اجازت کے درست نہیں البتہ اپنے متعلقین کی طرف سے بدوں اسکی اجازت کے بھی درست ہے جبکہ ان کی طرف سے قربانی کرنے کی عادت ہو اور اگر قربانی کرنے کی عادت نہ ہو تو ان کی طرف سے بھی قربانی صحیح نہ ہوگی۔
احسن الفتاویٰ (4/260) میں ہے:
سوال: ایک غریب آدمی قرضدار ہے، زکوٰۃ سے اگر اس کی مدد کی جاتی ہے تو خطرہ ہے کہ خود رکھ لے گا اور قرض ادا نہیں کرے گا کیا اس کا قرض اتارنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم براہِ راست قرض خواہ کو دینا جائز ہے؟ کیا مسکین کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کا قرض زکوٰۃ کی رقم سے ادا کررہے ہیں؟
جواب: مسکین کی اجازت سے اس کا قرض بمدِ زکوٰۃ ادا کیا جائے تو جائز ہے مسکین کو مدِ زکوٰۃ کا بتانا ضروری نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved