• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میاں بیوی کا طلاق کے الفاظ میں اختلاف

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے مجھے کئی دفعہ کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، جا اپنی ماں کے گھر” یہ بھی کہا کہ” تم میری طرف سے فارغ ہو ” یہ بات اور یہ الفاظ دس مرتبہ کہے ہیں۔ ہماری 2025-07-12 کو لڑائی ہوئی اس میں بھی میرے شوہر نے سب کے سامنے مجھے کہا تھا “طلاق دیتا ہوں ” پھر 2025-08ـ05 کو دوبارہ بحث ہوئی تب بھی اکیلے میں کہا  کہ”تو فارغ ہے، جا اپنی ماں کے گھر” اور  آخری بار  2025-08-29 کو لڑائی میں پھر کہا اور میری ماں کے سامنے بھی کہا کہ” اگر  اس گھر سے قدم نکالا تو میں طلاق دیتا ہوں”  تب سے میں اپنی ماں کے گھر ہوں اب آپ مجھے بتائیں اس بارے میں میں کیا کروں؟  کیونکہ میرے شوہر نے یہ الفاظ بہت بار مجھے کہے ہیں ان لڑائیوں سے پہلے بھی میرے شوہر نے مجھے بہت دفعہ کہا ہے “میں طلاق دیتا ہوں اپنے باپ بھائیوں کو بلا اور جا ان کے گھر”

وضاحت مطلوب ہے: میاں بیوی کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: شوہر *********، بیوی **********

شوہر کا بیان:

 آج تک دو دفعہ ایسا ہوا ہے، ایک دفعہ آج سے تقریبا تین ماہ پہلے کا واقعہ ہے کہ میں نے کہا تھا کہ” اگر تم گئی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا”  یہ نہیں کہا تھا کہ” طلاق ہے”  پھر دوسری دفعہ اس کے کچھ دیر بعد اس کی والدہ نے کہا کہ” اس کو فارغ کر دے”  تو میں نے کہا کہ” یہ میری طرف سے فارغ ہے”  اس وقت طلاق کی نیت بالکل نہیں تھی اس کے علاوہ میں نے کبھی کوئی طلاق کا لفظ نہیں بولا اس کے بعد تقریبا 10 دن بعد بیوی واپس آ گئی تھی اور ایک ہفتہ  اکٹھے میاں بیوی کی طرح رہے اس کے بعد ہمارے کرائے کے مکان کا مسئلہ تھا مالک  نے خالی کروایا ہم نے اپنا سامان اس کی والدہ کے گھر رکھوایا ان کی رضامندی سے۔ 12 ربیع الاول تک یہ مجھ سے بات کرتی رہی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اس کے بعد انہوں نے ایشو کھڑا کر دیا کہ طلاق ہو گئی ہے ۔

بیوی کا بیان:

میرے شوہر نے میرے چاچو (***) ، کزن(***) ، پھوپی کی بیٹی اور ان کی  بھابھی کے سامنے  دو مرتبہ کہا “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” پھر جب میں کمرے سے باہر گئی تو میرے شوہر نے کہا کہ “اگر تم اس گھر سے باہر گئی یا اپنی والدہ کی طرف گئی  تو میری طرف سے فارغ ہو” میں نے کہا میں اپنی بیٹی کو لے کر جا رہی ہوں تو میرے شوہر نے باہر آ کر کہا  کہ “تو میری طرف سے فارغ ہے” اور پھر میں والدہ کے گھر آگئی۔ اس کے بعد خاندان کے بڑوں نے ہماری صلح کرانے کی بات کی تو اس وقت میرے  خاوند نے اقرار کیا کہ میں نے طلاق دی تھی لیکن اب پھر منکر ہے۔

وضاحت مطلوب ہے: بیوی  کے بیان کے مطابق شوہر نے کئی دفعہ طلاق کے الفاظ کہے ہیں تو کیا بیوی  کے پاس مختلف موقعوں پر کہے گئے طلاق کے الفاظ پر گواہ موجود ہیں یا نہیں؟ اگر موجود ہیں تو ان کا رابطہ نمبر ارسال کریں ۔

جواب وضاحت: صرف آخری مرتبہ جو طلاق کے الفاظ کہے اس وقت یہ گواہ موجود تھے، باقی موقعوں پر کوئی گواہ نہیں تھا۔ گواہوں  کے نمبر درج ذیل ہیں:

چاچو (***) *************کزن (***)********

چاچو (***)  کا بیان:

خاوند نے بیوی کو کہا کہ” اگر تم اپنی ماں کے گھر گئی تو تمہیں طلاق دے دوں گا”  اس کے علاوہ کوئی الفاظ نہیں کہے۔

گواہ  کزن(***) کا بیان:

خاوند نے چاچو ***کو مخاطب کر کے کہا  کہ “اگر یہ گئی تو میری طرف سے فارغ ہے”  اور پھر تھوڑی دیر بعد کہا  کہ “اگر یہ گئی تو اسے طلاق ہے” اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے بیان کے مطابق بیوی کے حق میں تینوں طلاق واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ۔

توجیہ:طلاق کے معاملے میں بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہذا اگر وہ شوہر کا طلاق دینا خود سنے یا اسے معتبر ذریعے سے شوہر کا طلاق دینا معلوم ہو جائے تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے لہذا بیوی کے بیان کے مطابق شوہر نے کئی مرتبہ طلاق کا جملہ استعمال کیا ہے لہذا ان سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کے بعد بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔

فتاوی شامی (449/4) میں ہے:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.

در مختار (4/443) میں ہے:

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..

الدر  المختار مع ردالمحتار (4/516) میں ہے:

(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) و هي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب …  و الكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا. قال الشامي تحت قوله: (و الكنايات ثلاث) حاصله أنها كله تصلح للجواب: أي إجابته لها في سؤالها الطلاق منه، لكن منها قسم يحتمل الرد أيضاً أي عدم إجابة سؤالها كأنه قال لا تطلبي الطلاق فإنه لا أفعله و قسم يحتمل السب و الشتم لها دون الرد و قسم لا يحتمل الرد و لا السب بل يتمحض للجواب

(قوله قضاء) قيد به ‌لأنه ‌لا ‌يقع ‌ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيره.

ہندیہ (1/473) میں ہے:

وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.

فتاویٰ شامی (4/419) میں ہے:

قوله: (ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved