- فتوی نمبر: 34-253
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > وکالت
استفتاء
فریق اول ( زید ) کا بیان:
میں نے *** مارکیٹنگ لاہور کے ذریعے ایک دکان بک کروائی تھی۔ 35 لاکھ روپے ایڈوانس ادا کیے تھے، لیکن باقی اقساط ابھی باقی تھیں، مکمل طور پر ادا نہیں ہوئیں۔ یہ منصوبہ دراصل ایک جوائنٹ وینچر (مشترکہ منصوبہ) تھا۔زمین کی ملکیت نقی مال (شیخ صاحبان وغیرہ) کی تھی۔جبکہ تعمیر اور مارکیٹنگ کا کام *** مارکیٹنگ والے کر رہے تھے۔
بعد ازاں دونوں فریقین (زمین مالکان اور *** مارکیٹنگ) کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور منصوبہ آگے نہ چل سکا۔ میں نے اپنی رقم واپس مانگی تو *** مارکیٹنگ نے کہا:”آپ وہاں کام کی جگہ (سائٹ ) پر پڑا سریا (لوہا) اٹھا لیں، اسی سے اپنے پیسے پورے کر لیں۔”پھر میں نے زمین مالکان (نقی وغیرہ) سے بات کی تو انہوں نے کہا:”آپ *** مارکیٹنگ سے ایک لیٹر لکھوا کر ہمیں دے دیں، پھر پیسوں کی ذمہ داری ہم لے لیتے ہیں۔”میں نے ان کی مرضی کے مطابق لیٹر بنوا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ لیٹر ہمارے پاس آگیا ہے، اب پیسوں کی ذمہ داری ہماری ہے۔ ایک ہفتے بعد آکر رقم لے لیجئے گا۔”لیکن بعد میں ریٹ کے مسئلے اور تاخیر کی وجہ سے نہ لوہا دیا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔ وقت گزرتا رہا اور اب تک میری رقم ادا نہیں ہوئی۔آخر کار نقی مال (زمین مالکان) نے یہ کہہ کر مجھے ٹال دیا کہ”مارکیٹنگ اور لین دین کی ذمہ داری تو *** مارکیٹنگ والوں کے ساتھ پہلے سے ہمارے معاہدے میں طے تھی، لہٰذا اب پیسے دینا انہی کا کام ہے، ہم بری الذمہ ہیں۔”
سوال:شرعاً میری رقم کی واپسی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟*** مارکیٹنگ پر جن کے ساتھ اصل بکنگ اور معاہدہ ہوا تھا؟یا زمین کے مالکان (نقی / شیخ برادران ) پر جنہوں نے بعد میں لیٹر کی بنیاد پر اپنی ذمہ داری قبول کرنے کا کہا تھا لیکن اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اصل ذمہ داری ***والوں پر ہے؟
دوسرے فریق (***مارکیٹنگ) کا مؤقف :
زید نے نقی سٹار مال واقع ***میں ایک عدد دکان کی بکنگ کروائی بکنگ کی رقم 35 لاکھ روپے جمع کروائی جو کہ pay order کی شکل میں نقی سٹار مال پلازہ نقی بلڈنگ کے جوائنٹ (مشترکہ) اکاؤنٹ میں جمع ہو گئے ، بعد ازاں زید نے اپنی دکان کی بکنگ کی رقم کے ریفنڈ (واپسی) کی درخواست دی نقی سٹار مال مشترکہ پراجیکٹ ہے۔ زید نے سائٹ پر موجود سریا ریفنڈ (واپسی) کے بالمقابل ڈیمانڈ کیا جو کہ خالد (یکے از مالکان زمین) اور زید کی مشاورت اور رضامندی سے طے پاگیا کہ سائٹ پر موجود 26 ٹن سریا ریفنڈ کے بدلے دے دیا جائے جس پر زید نے خالد کی ڈیمانڈ پر مجھ سے ایک لیٹر جو کہ سریے کی بابت لکھنے کا کہا جو لیٹر 24-08-17لکھ کر دیا۔ لیٹر لے کر زید خالد وغیرہ کے پاس چلے گئے بقول زید ، خالد نے زید سے ایک ہفتے میں سریے کے بدلے 35 لاکھ روپے دینے کی حامی بھر لی اور کہا کہ سریا 35 لاکھ سے زیادہ قیمت کا ہے اس لیے سریا بیچ کر ایک ہفتے میں آپ کی رقم مبلغ 35 لاکھ روپیہ ادا کر دیں گے اس لیٹر کے بعد تقریبا 10 ماہ تک عامر صاحب کا مجھ سے یا کمپنی کے کسی بھی نمائندے سے رابطہ نہیں تھا۔
زید کی درخواست سے ہمیں پتہ چلا کہ خالد سریا بیچ کر رقم خرد برد کر چکا ہے لہذا ہماری طرف سے ریفنڈ کی رقم کی ادائیگی سریے کی شکل میں تقریبا 11 ماہ پہلے ہو چکی ہے۔
تیسرے فریق (شیخ برادران) کا مؤقف:
زمین مالکان میں سے خالد صاحب سے فون پر بات ہوئی ہے انہو ں نے زبانی طور پر بتایا کہ ہمارا **** مارکیٹنگ کے ساتھ معاملہ ہوا تھا جس میں زمین ہماری تھی اور ہم نے خرچہ بھی کرنا تھا باقی عملی ذمہ دار یاں *** مارکیٹنگ کے ذمے تھیں اور وہی فرنٹ پر تھے اور خرید وفروخت بھی انہوں نے کرنی تھی۔زبانی بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ **** مارکیٹنگ اور ہمارے معاملات عدالت میں چل رہے ہیں لیکن *** مارکیٹنگ نے باہم اتفاق رائے سے زید صاحب کے پیسے اپنے ذمے ڈال لیے ہیں جس کی تحریر آپ کو مہیا کی جارہی ہے.
“تحریر ہے کہ مسمیٰ زید ولد عمر …… لاہور نے ایک دوکان****** لاہور میں دوکان ***مارکیٹنگ سے بک کروائی تھی جس کے عوض کمپنی کے جوائنٹ اکاؤنٹ میں رقم مبلغ 3500000 بذریعہ پے آڈر جمع کروائے تھے جوکہ مذکورہ کی رقم ہماری ذمہ داری ہے جس کے لیے میں مسمیٰ زید ولد عمر سے بروز پیر مورخہ 25-07-14 تک کا ٹائم لیا ہے جوکہ مقررہ وقت پر ہم رقم بصورت کیش+ چیک دینے کے پابند ہوں گے بصورت دیگر ہمارے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائے جانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہمارے پاس زید صاحب نے اپنا ایک بیان جمع کروایا جس کا حاصل یہ تھا کہ میں نے *** مارکیٹنگ کے ذریعے ایک دکان کی بکنگ کے لیے 35 لاکھ روپے جمع کروائے تھے۔ جس کے بعد ان کے قضیے کے دوسرے فریق بکر(*** مارکیٹنگ ) سے رابطہ کیا گیا جس پر انہوں نے اپنا تحریری بیان جمع کروایا جس کے مطابق انہوں نے زید کے 35 لاکھ روپے کے بدلے ان کو سائٹ پر پڑا سریا اٹھانے کا کہا، زید نے اس پر رضامندی ظاہر کردی لیکن تیسرے فریق یعنی شیخ برادران نے سریے کی جگہ رقم دینے کا وعدہ کیا۔ گویا اس طرح اس مرحلے پر *** مارکیٹنگ اپنی ذمہ داری سے سکبدوش ہوگیا اور شیخ برادران نے ذمہ داری قبول کرلی۔
لیکن جب معاملے کے تیسرے فریق شیخ برادران سے رابطہ کیا گیا تو ان کے ایک نمائندے خالد صاحب نے یہ کہا کہ ہم دونوں پارٹیوں (*** مارکیٹنگ+ شیخ برادران) کے معاملات اپنی جگہ ہیں اور وہ عدالت میں چل رہے ہیں لیکن *** مارکیٹنگ والوں نے باہم اتفاقِ رائے سے زید صاحب کے پیسے اپنے ذمے لے لیے ہیں اور اس پر ایک تحریر بھی لکھی گئی چنانچہ انہوں نے وہ تحریر مہیا کردی جس پر بکر صاحب نے پیسوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور 14-07-2025 تک کا وقت مانگا ہے۔ اس تحریر پر بکر ، زید اور شیخ برادران تینوں کے دستخط ہیں اور یہ تینوں کے اتفاق رائے سے لکھی گئی ہے۔تحریر کی عبارت درج ذیل ہے:
“تحریر ہے کہ مسمیٰ زید ولد عمر…… لاہور نے ایک دوکان****لاہور میں دوکان *** مارکیٹنگ سے بک کروائی تھی جس کے عوض کمپنی کے جوائنٹ اکاؤنٹ میں رقم مبلغ 3500000 بذریعہ پے آڈر جمع کروائے تھے جوکہ مذکورہ کی رقم ہماری ذمہ داری ہے جس کے لیے میں مسمیٰ زید ولد عمر سے بروز پیر مورخہ 25-07-14 تک کا ٹائم لیا ہے جوکہ مقررہ وقت پر ہم رقم بصورت کیش+ چیک دینے کے پابند ہوں گے بصورت دیگر ہمارے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائے جانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا”
اس تفصیل کی روشنی میں زید صاحب کے پیسوں کے ذمہ دار بکر ***مارکیٹنگ والے ہیں، خالد نہیں ہیں اس لیے وہ *** مارکیٹنگ سے مطالبہ کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved