• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک مجلس کی تین طلاقیں جمہور کے دلائل کی روشنی میں

استفتاء

سوال:مسمی زید  ولد  خالد  سکنہ ***نے اپنی بیوی مسماۃ  فاطمہ  دختر بکرسکنہ*** کو مؤرخہ 27 فروری 2025  میں ایک ہی مجلس میں تین بار لفظ طلاق بول دیے۔ ہمارے درمیان صلح کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کا حل بیان فرمائیں۔

الجواب: بصورت صحت سوال واضح ہو کہ شرعاً اگر کوئی شخص بیک وقت ایک بار یا کئی بار طلاق دیتا ہے تو وہ ایک شمار ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: “الطلاق ‌مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان” طلاق دوبار ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا شائستگی سے چھوڑ دینا ہے” اس آیت کریمہ میں  لفظ “مرتان” بولا گیا ہے جو کہ تثنیہ کا صیغہ ہے جس کی مفرد “مرۃ” ہے جس کا معنی ہے ایک دفعہ تو “مرتان” کا معنی ہوا ایک کے بعد دوسری دفعہ ( مختلف اوقات میں) ایک  ہی نشست میں لفظ طلاق کئی بار بولنے سے وہ کئی نہیں بلکہ ایک  “مرہ” ہی شمار ہوگا۔

جیسا کہ سورۃ النور میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ياأيها الذين آمنوا ‌ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم [النور:58]

“اے ایمان والو! تمہارے غلام لونڈیاں اور نابالغ لڑکے لڑکیاں، تین وقتوں میں تمہارے پاس آنے کی اجازت لیا کریں1 فجر کی نماز سے پہلے 2 دوپہر کے وقت جب تم آرام کرنے کے لیے کپڑے اتار رکھتے ہو اور 3 عشاء کی نماز کے بعد تین وقت تمہاری خلوت اور پردہ کے ہیں”

اس آیت کریمہ میں تین مختلف اوقات میں طلب اجازت کو تین”مرہ”  کہا گیا ہے اگر کوئی شخص فجر سے پہلے کئی بار اجازت مانگے تو وہ ایک “مرہ” اجازت ہوگی اسے  دوپہر اور عشاء کے بعد الگ سے اجازت لینا ہوگی نہ کہ  فجر والی کو ہی تین “مرہ” شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح آیت طلاق میں بھی طلاق کے لیے ” مرہ” کے الفاظ ہیں تو کوئی شخص ایک مجلس میں جتنی بار طلاق بولتا رہے وہ طلاق یک”مرہ” ہوگی نہ کہ  اس سے زائد کیونکہ اس صورت میں آیت کریمہ میں شوہر کو دی گئی سہولت فإمساك بمعروف  تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے” ہی سلب ہو جاتی ہے۔

ایک وقت میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں  اسی پے عمل رسول اکرمﷺ  کے زمانہ میں بھی جاری و ساری رہا۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کثرت سے تین طلاقیں دیتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے کہ جس کام میں لوگوں کے لیے نرمی رکھی گئی تھی لوگوں نے اس میں جلد بازی کی ہے لہذا انہوں نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی جاری کر دیا۔(صحیح مسلم1/477)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں اور رہی بات عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تو انہوں بھی اپنی وفات کے وقت اپنے اس فتویٰ  پر پشیمانی کا اظہار کیا تھا۔

نیز عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رکانہ بن عبد یزید  رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی  کو ایک مجلس میں تین طلاقیں  دے دیں پھر اس بات پہ بہت غمگین ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا تو نے اسے کیسے طلاق دی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے  اسے تین طلاقیں  دیں ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا ایک مجلس میں ؟ اس نے کہا: جی ہا ں ایک مجلس میں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک طلاق ہے، اگر تورجوع کرنا چاہے تو کر لے۔ تو اس نے رجوع کر لیا تھا۔

نیز حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:

انه نقل عن على وابن مسعود وعبدالرحمن بن عوف والزبير مثله (فتح البارى، 9/450)

یہی مؤقف سیدنا علی، ابن مسعود، عبد الرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام سے بھی منقول ہے۔

پیر کرم شاہ بھیروی صاحب کا فیصلہ:

بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق سے بھی ایک رجعی طلاق واقع ہوگی علماء ازہر نے بھی اسی بات کو ترجیح دی ہے۔(ضیاء القرآن1/153)نیز اپنی رائے کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے ہیں۔ ناچیز کی ناقص رائے میں بحالات موجودہ علماء مصر اور علماء جامعہ ازہر کے فتویٰ کے مطابق ہی عمل کرنا بہتر ہے۔

اسی طرح مولا عبد الحی حنفی لکھنوی فرماتے ہیں:

“کہ تین طلاقوں کی صورت میں بوقت ضرورت عورت  کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار  ہواور مفاسد زائدہ کا احتمال ہو تو اس ( یعنی تین کو ایک ماننا ) پر عمل کرنے میں کچھ مضائقہ نہ ہوگا”( مجموعۃ الفتاویٰ2/68)

نوٹ: اس سے کسی مکتبۂ فکر کو انکار نہیں کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دینا خلاف شرع ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا اس خلاف شرع عمل کی اصلاح کی جائے گی  یا پھر اس کو تین کہہ کر نافذ کیا جائے گا جیسا کہ اگر کوئی شخص کسی گناہ پر منت مان لے تو کیا اس کو منت پوری کرنے کا حکم دیا جائے گا یا پھر اس سے کفارہ ادا کروا کہ خلاف شرع عمل سے باز رکھا جائے۔ فلیتفکر

تنبیہ: جو لوگ حلالے کا مشورہ دیتے ہیں انہیں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا  کہ کیا میں تمہیں سانڈ کی خبر نہ دوں صحابہ نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا  وہ (کرایہ کا سانڈ) حلالہ کرنے والا ہے۔ حلالہ کرنے والے پر اور کروانے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔

الحاصل:  مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ایک طلاق واقع ہو چکی ہے اور عدت ( تین حیض) ابھی باقی ہے لہذامسمیٰ توقیر عباس مسماۃ شہلا اکبر کے ساتھ رجوع ( صلح ) کر کے اپنے گھر کو آباد کر سکتا ہے۔

سوال  یہ ہے کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہمارا جواب یہ ہے کہ مذکورہ صورت  میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے ۔ لہذا اب  نہ صلح  ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے ۔یہی موقف جمہور  صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  ،تابعین ؒ                  ،تبع تابعین     ؒ      ، ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ  ؒ   ،امام مالک     ؒ ،   امام شافعی ؒ   ،  امام ابن حنبل ؒ) اور جمہور( اکثر )امت مسلمہ کا ہے ۔اگر اس میں اختلاف ہے تو  یا غیرمقلدین کا ہے یا اہل تشیع  (شیعہ حضرات ) اور قادیانیوں کا ہے ۔ان کے علاوہ پوری امت مسلمہ میں سے کسی قابل قدر شخصیت کا اس میں اختلاف نہیں۔

ذیل میں ہم پہلے جمہور اہل علم کے موقف کے دلائل مختصراً ذکر کریں گے  اور پھر مذکورہ فتوے میں جن دلائل کے پیش نظر ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق کہا گیا ان پر اپنا مختصر تبصرہ ذکر کریں گے کیونکہ تفصیلی دلائل  اور  تفصیلی تبصرہ کے لیے مستقل کتابیں موجود ہیں مثلاً  “عمدۃ الاثاث   فی  حکم الطلقات الثلاث ”  از مولانا سرفراز خان صفدر  ؒ    اور  “حرام کاری سے بچئے ” از مولانا منیر احمد منور صاحب  دامت برکاتہم   وغیرہ ۔

جمہور کے دلائل :

1۔صحیح بخاری  ( رقم الحدیث 5259 )میں ہے :

« أن سهل بن سعد الساعدي أخبره:أن عويمرا العجلاني جاء إلى عاصم بن عدي الأنصاري، فقال له: يا عاصم، أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا، أيقتله فتقتلونه، أم كيف يفعل؟ ………. فأقبل عويمر حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسط الناس، فقال: يا رسول الله، أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا، أيقتله فتقتلونه، أم كيف يفعل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (قد أنزل الله فيك وفي صاحبتك، فاذهب فأت بها). قال سهل: فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغا قال عويمر: ‌كذبت ‌عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم.»

ترجمہ : سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عویمر العجلانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے، اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد  کو دیکھے تو کیا اسے وہ قتل کر سکتا ہے؟ لیکن پھر تم قصاص میں اسے (شوہر کو) بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے !      ۔۔۔۔۔۔۔  عویمر نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ مسئلہ نبی کریم ﷺسے پوچھے بغیر میں  نہیں رہوں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ نبی کریم ﷺ لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی    غیر شخص کو  پالیتا  ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن اس صورت میں آپ اسے قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور  تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر دونوں (میاں بیوی) نے لعان کیا۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ اس وقت موجود تھا۔ لعان سے جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، (اور آپﷺ نےا ن تین طلاقوں کو نافذ بھی  کردیا) جیساکہ  سنن  ابی داؤد   (رقم الحدیث 2250) میں ہے :

«عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم،وكان ما صنع ‌عند ‌النبي صلى الله عليه وسلم ‌سنة.»

ترجمہ : انہوں (عویمر العجلانی   ؓ  ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاقیں  دے دیں تو رسول اللہ  ﷺنے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔

2۔ صحیح بخاری (2/792) میں ہے :

باب: من قال لامرأته: أنت علي حرام…….وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

ترجمہ :  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے تین طلاقیں دی ہوں تو وہ فرماتے کہ اگر تم  ایک یا دو طلاقیں   دے دیتے ( تو پھر وہ حلال ہو سکتی  تھی ) کیونکہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا تھا ۔ اگر  تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں  تو پھر وہ حرام ہوگئی  ہے جب تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔

3۔صحیح مسلم ( رقم الحدیث 3656)  میں ہے :

عن نافع؛ أن ابن عمر  ……..وأما أنت طلقتها ثلاثا. فقد ‌عصيت ‌ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك. وبانت منك.

ترجمہ : نافع  رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (اکٹھی تین طلاق دینے والے سے )فرمایا تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (یعنی بتایا ہوا طریقہ ہے) اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے طلاق مغلظ کے ساتھ جدا ہو گئی ۔

4۔سنن النسائی (رقم الحدیث  3430) میں ہے :

أخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب قال: أخبرني مخرمة ، عن أبيه قال: سمعت محمود بن لبيد قال: «أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا، ثم قال: أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ حتى قام رجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله.؟»

ترجمہ : حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں تو آپ ﷺ    غصے میں کھڑے ہو گئے  اور فرمایا کہ اللہ تعالی کی کتاب کو کھلونا بنایا جاتا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ! یہاں تک کہ( حضور ﷺ   کے غصے کو دیکھ کر) ایک آدمی نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں اس  ( طرح طلاق دینے والے)کو قتل نہ کر دوں !

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ورنہ آپ ﷺ اس قدر غصے کا اظہار کیوں فرماتے !        محض ایک لغو بات کرنے پر اس قدر شدید ناراضگی کا اظہار فرمانا کہ پاس والے اس شخص کے قتل کے لیے تیار ہو جائیں یہ اس بات  کی دلیل ہے کہ واقع میں تین طلاقیں نافذ ہو جاتی ہیں ،اگرچہ ایسا کرنا ناپسندیدہ اور لغو عمل ہے ۔ ( خیر الفتاوی)

5۔ سنن  ابی داؤد (رقم الحدیث 2197) میں ہے :

عن مجاهد، قال: كنت عند ابن عباس، فجاءه رجل فقال: إنه طلق امرأته ثلاثا، قال: فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه، ثم قال: ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول: يا ابن عباس، يا ابن عباس، وإن الله قال: {ومن يتق الله يجعل له مخرجا} [الطلاق: 2] وإنك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجا، عصيت ربك، وبانت منك امرأتك

ترجمہ :   مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے  !  اس پر )عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے) پھر آ کر کہتا ہے اے ابن عباس   !اے ابن عباس   !( کوئی راہ نکالیے کی دہائی دینے لگتا ہے)اللہ تعالی کا فرمان ہے : ومن يتق الله يجعل له مخرجا ( سورۃ الطلاق ) (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کا راستہ نکالتے ہیں)۔

تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے )تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا ۔اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔

6۔ سنن ابن ماجہ ( رقم الحدیث 2024) میں ہے  :

حدثنا محمد بن رمح قال: أنبأنا الليث بن سعد، عن إسحاق بن أبي فروة، عن أبي الزناد، عن عامر الشعبي، قال: قلت لفاطمة بنت قيس: حدثيني عن طلاقك، قالت: «طلقني زوجي ثلاثا، وهو خارج إلى اليمن، فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم»

ترجمہ :  عامر الشعبی ؒ     کہتے ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ بنت قیس  رضی اللہ عنہا  سے  عرض کیا کہ مجھے اپنی طلاق  کا قصہ بتائیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے  میرے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں جب وہ یمن  جارہے تھے  تو حضور ﷺ نے  ان طلاقوں کو نافذ کردیا تھا ۔

7۔سنن دارقطنی ( رقم الحدیث 3974) میں ہے :

 نا علي بن محمد بن عبيد الحافظ ، نا محمد بن شاذان الجوهري ، نا معلى بن منصور ، نا شعيب بن رزيق ، أن عطاء الخراساني حدثهم ، عن الحسن ، قال: نا عبد الله بن عمر ، أنه طلق امرأته تطليقة وهي حائض ثم أراد أن يتبعها بتطليقتين أخراوين عند القرئين فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال: «يا ابن عمر ما هكذا أمرك الله إنك قد أخطأت السنة، والسنة أن تستقبل الطهر فتطلق لكل قروء» ، قال: فأمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فراجعتها ، ثم قال: «إذا هي طهرت فطلق عند ذلك أو أمسك» ، فقلت: يا رسول الله ارأيت لو أني طلقتها ثلاثا كان يحل لي أن أراجعها؟ ، قال: «لا كانت تبين منك وتكون معصية»

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں  کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دی۔ پھر ان کا ارادہ ہوا کہ دو  طہروں میں مزید  دو طلاقیں بھی دے دیں ۔یہ بات آپ ﷺ  تک پہنچی تو آپﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ اے ابن عمر  !      اللہ تعالی نے تمہیں ایسا کرنے کا حکم تو نہیں دیا تھا  تم نے  سنت کی خلاف ورزی کی ہے ! سنت یہ ہے کہ  پہلے تم  طہر  (  عورت کے پاک ہونے )کا انتظار کرو پھر ہر طہر  میں ایک طلاق دو۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے آپ ﷺنے حکم دیا تو میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا ۔پھر آپ  ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جب یہ پاک ہو جائے تو اس وقت  چاہو تو اس کو طلاق دے دینا یا اپنے نکاح میں رکھ لینا ۔حضرت عبداللہ بن عمر   ؓ          كہتے ہیں میں نے پوچھا   يا رسول الله  !      اگر میں اس کو تین طلاقیں( اکٹھی) دے دیتا تو کیا میرے لیے رجوع کرنا جائز ہوتا  ؟  آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ نہیں  ،یہ تم سے بائنہ ہو جاتی اور یہ (اکٹھی تین طلاقیں   دینا )   گناہ ہوتا ۔

8۔سنن  دارقطنی ( رقم الحدیث 3975 ) میں ہے  :

نا ابن مبشر ، نا أحمد بن سنان ، نا يزيد ، أنا محمد بن إسحاق ، عن نافع ، قال: كان ابن عمر يقول: «من طلق امرأته ثلاثا فقد بانت منه امرأته وعصى ربه تعالى وخالف السنة»

ترجمہ : نافع      ؒ                      کہتے ہیں کہ حضرت  عبداللہ بن عمر ؓ               فرماتے تھے کہ  جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دے گا  اس کی بیوی اس سے بائنہ ہوجائے گی  اور  یہ  شخص  اپنے رب کی نافرمانی اور سنت کی مخالفت کرے گا ۔

9۔ سنن بیہقی  ( رقم الحدیث: 14608) میں ہے  :

أخبرنا أبو الحسن على بن الحسين بن على البيهقى صاحب المدرسة بنيسابور، أخبرنا أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد القرميسينى بها، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسى، حدثنا محمد بن حميد الرازى، حدثنا سلمة بن الفضل، حدثنا عمرو بن أبى قيس، عن إبراهيم بن عبد الأعلى، عن سويد بن غفلة قال: كانت الخثعمية تحت الحسن بن على -رضى الله عنهما-، فلما أن قتل على -رضى الله عنه- بويع الحسن بن على؛ دخل عليها الحسن بن على فقالت له: ‌لتهنك الخلافة. فقال الحسن: أظهرت الشماتة بقتل على؟! أنت طالق ثلاثا. فتلففت فى ثوبها وقالت: والله ما أردت هذا. فمكثت حتى انقضت عدتها وتحولت، فبعث إليها الحسن بن على ببقية من صداقها وبمتعة عشرين ألف درهم، فلما جاءها الرسول ورأت المال؛ قالت: متاع قليل من حبيب مفارق فأخبر الرسول الحسن بن على -رضى الله عنه-، فبكى وقال: لولا أنى سمعت أبى يحدث عن جدى النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال: “من طلق امرأته ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره”. لراجعتها.

ترجمہ :  حضرت سوید بن غفلہ ؓ      سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی ؓ کی  شہادت کا سانحہ ہوا  اور حضرت حسن ؓ        کے ہاتھ پر بیعت کرلی گئی تو  حضرت حسن  ؓ اپنی بیوی  خثعمیہ   کے پاس  تشریف لائے  انہوں نے آپ    ؓ      كو    خلافت کی مبارکباد دی جس پر حضرت حسن  ؓ    نے (غصہ میں ) فرمایا کہ تم  سیدنا  علی   ؓ        کی  شہادت پر  خوشی  کا اظہار کررہی ہو  !  تمہیں  تین  طلاق ہے  ۔ عائشہ  خثعمیہ نے اپنی چادر سمیٹتے ہوئے کہا  :  اللہ کی قسم ميری ایسی کوئی نیت نہیں تھی  ۔ چنانچہ وہ اپنی عدت پوری ہونے  تک وہیں  ٹھہری رہیں ۔   پھرحضرت حسن  ؓ      نے  ان کا بقیہ مہر  اوربیس  ہزار درہم  بطور متعہ  بھجوائے  ۔ جب   خثعمیہ کے پاس یہ مال پہنچا اس  کو دیکھ  کر وہ کہنے لگیں  : جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے  یہ بہت تھوڑا سامان ہے  ۔حضرت حسن  ؓ    کو جب قاصد نے   ان کا یہ جملہ پہنچایا تو وہ بھی رونے لگے اور  فرمایا :  اگر میں نے  اپنے والد  سے اپنے  نانا کی یہ حدیث نہ سنی ہوتی   تو میں اس سے ضرور رجوع کرلیتا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا  : ” جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں   دے دی ہوں  وہ عورت شوہر کے لیے اس وقت  تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک  وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے( اور وہ شوہر اس سے صحبت کرنے کے بعد طلاق نہ دے دے)۔”

10۔موطا امام مالک (رقم الحدیث 1630 ) میں ہے :

«إن رجلا ‌من ‌أهل ‌البادية طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها، ……….قال أبو هريرة: الواحدة تبينها، والثلاثة تحرمها، حتى تنكح زوجا غيره ، قال ابن عباس مثل ذلك.»

ترجمہ :اہل بادیہ میں سے ایک شخص نے  اپنی بیوی کو رخصتی سے پہلے ہی (اکٹھی) تین طلاقیں دے دیں ۔مسئلہ پوچھنے پر حضرت ابوہریرہ   ؓ     نے  فرمایا  ایک طلاق دی ہو  تو اس  کی وجہ سے جس عورت کی رخصتی نہ ہوئی ہو وہ نکاح سے نکل جاتی ہے  اور تین طلاقیں ( اکٹھی ) دی ہوں ( یعنی یوں کہا ہو تجھے تین طلاق )تو یہ اس عورت کو  شوہر پر حرام کردیتی ہیں جب تک کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔حضرت ابن عباس  ؓ         نے بھی اسی جیسا جواب دیا ۔

11۔مصنف ابن ابی شیبہ  (رقم الحديث: 18089) میں ہے :

حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر، عن شقيق بن أبي عبد الله، عن أنس، قال: «كان عمر إذا أتي برجل قد ‌طلق امرأته ثلاثا ‌في ‌مجلس أوجعه ضربا وفرق بينهما»

ترجمہ :حضرت عمر  ؓ     کے پاس جب کوئی ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں  تو آپ اس  کو سزا دیتے اور میاں بیوی میں علیحدگی کروادیتے ۔

مذکورہ بالا احادیث و آثار سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  اکٹھی تین طلاقیں دینے کو اگرچہ ناپسند  فرماتے تھے  اور اسے گناہ قرار دیتے تھے  لیکن اگر کوئی  اکٹھی تین طلاقیں دے دیتا تو اسے تین ہی قرار دے کر شوہر اور بیوی میں علیحدگی کروادیتے تھے ۔

ذیل میں ہم ان دلائل کا جائزہ لیں  گے جن کی بنیاد پر مذکورہ  بالا فتوے میں اکٹھی تین طلاقوں کو ایک  طلاق کہا گیا ہے ۔

پہلی دلیل : ” الطلاق مرتان

مذکورہ فتوے میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر سورہ بقرہ کی آیت ” الطلاق مرتان ” کو دلیل بنایا گیا ہے لیکن اتنا مجیب کو بھی معلوم ہے کہ خالی اس آیت سے استدلال کرنا کافی نہیں اسی لیے انہیں سورہ نور کی آیت کو ملا کر استدلال کرنا پڑا کیونکہ سورہ بقرۃ کی  آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ جب تک دو طلاقیں دو الگ الگ مجلسوں میں نہ دی جائیں گی وہ دو شمار نہ ہوں گی کیونکہ عقلاً  ، شر عا  ً، لغۃ   ً کسی کام کو دو یا تین مرتبہ کرنے کے لیے مجلس کا الگ الگ ہو ناضروری نہیں چنانچہ اگر کوئی آدمی ایک مجلس میں کسی  قول یا فعل کو کو دو مرتبہ یا تین مرتبہ  انجام دے تو عقلا ً ، شر عاً ،لغۃ   ً یہ کہنا درست ہے کہ  اس نے  اس قول یا فعل  کو   دو مر تبہ یا تین مرتبہ  انجام دیا  ہے۔

باقی رہی سورہ نور کی آیت تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اگر اوقات کا ذکر نہ ہوتا تو ایک مجلس میں ہی تین مرتبہ اجازت طلب کرنا کافی ہوتا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے کےوقت  تین مرتبہ اجازت مانگو اگراجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس ہو جاؤ۔

چنانچہ صحیح ابن حبان (169/2) میں ہے:

عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عبد الله بن أبي سلمة، أن أبا موسى، استأذن على عمر ثلاث مرات، فلم يؤذن له، فرجع، فبلغ ذلك عمر، فقال: ما ردك؟ فقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “إذا استأذن أحدكم ثلاث مرات، فلم يؤذن له، فليرجع

 ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ  ؓ نے حضرت عمر  ؓ     ( کے دروازہ) پر تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہیں اجازت نہ ملی تو واپس چلے گئے ، حضرت عمرؓ                           کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو ان سے پوچھا کہ آپ واپس کیوں گئے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جب تم میں سے کسی شخص کو تین مرتبہ اجازت مانگنے پر اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔

اس حدیث میں تین مرتبہ ( ثلاث مرات)  اجازت کا ذکر ہے  اور وہ ایک ہی مجلس میں ہے ، یہ نہیں کہ ایک مرتبہ اجازت مانگ کر آدمی اپنے گھر چلا جائے اور پھر واپس آکر دوسری مجلس میں دوبارہ اجازت مانگے اور پھر واپس گھر چلا جائے اور پھر واپس آکر تیسری مرتبہ اجازت مانگے۔

اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ  كسی قول يا فعل کے تین مرتبہ  شمار ہونے کے لیے تین الگ الگ اوقات ضروری ہیں جیسا کہ سورہ نور کی آیت میں ہے  تو اگر کوئی شخص ایک دن میں تین مختلف اوقات میں تین طلاقیں دے مثلا ایک طلاق صبح دے، ایک دو پہر کو اور ایک شام کو دے تو کیا مجیب یا اس کے ہم نوا ان تین طلاقوں کو تین ماننے کے لیے تیار ہیں  ؟

نوٹ :مجیب نے اگرچہ صرف  ایک مجلس کی متعدد  طلاقوں کو ایک مرہ  کے حکم میں ایک ہی طلاق شمار کیا ہے  لیکن علامہ ابن تیمیہ ؒ  نے مجموع الفتاوى (33/ 7)   میں اور  مشہور  غیر مقلد عالم نواب وحید الزمان نے نزل الابرار اور  کنزالحقائق  میں   تصریح  کی ہے کہ  ایک طہر میں دی گئی تمام طلاقیں صرف ایک ہی طلاق شمار ہو گی ۔

باقی رہی یہ بات کہ  “اگر ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دیں تو اس سے “فامساک بمعروف ” کی سہولت سلب ہو جاتی ہے ” بے محل ہے کیونکہ اگر کوئی آدمی تین الگ الگ مجلسوں میں بلکہ جب کبھی بھی تین طلاقیں دے گا تو مذکورہ سہولت تو پھر بھی فوت ( سلب ) ہو جائے گی تو کیا اس وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تین الگ الگ مجلسوں کی تین طلاقیں بھی ایک  ہی طلاق شمار ہو ں؟ اور اگر انہیں ایک شمار نہ کیا جائے تو  ” فامساک بمعروف ”   کی سہولت  سلب ہوجائے گی  ؟

اصل بات یہ ہے کہ مذکورہ سہولت  قرآن نے دو طلاقوں تک دی تھی ( خواہ وہ ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں ) لہٰذا طلاق دینے والا اگر ایک یا دو طلاق دینے پر اکتفاء کرتا تو اسے مذکورہ سہولت میسر رہتی  لیکن جب  اس  نے تین طلاقیں دے دیں (خواہ وہ ایک مجلس میں دی  ہوں یا الگ الگ مجالس میں دی  ہوں)تو اس نے یہ قرآنی سہولت خود ضائع کردی ۔

دوسری دلیل :

مذکورہ فتوے میں ایک مجلس کی  تین طلاقوں کے ایک ہونے پر صحیح مسلم کی مندرجہ ذیل حدیث کو بھی  دلیل بنایا گیا ہے  :

صحيح مسلم  (رقم الحديث 1472)   میں ہے :

«عن ابن عباس. قال:كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة. فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد ‌استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة. فلو أمضيناه عليهم! فأمضاه عليهم.»

 ترجمہ: سیدنا  حضرت عبد اللہ بن عباسؓ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کثرت سے تین طلاقیں دیتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے کہ جس کام میں لوگوں کے لیے نرمی رکھی گئی تھی لوگوں نے اس میں جلد بازی کی ہے لہذا انہوں نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی جاری کر دیا۔(صحیح مسلم1/477)

اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ  اس حدیث کی عربی عبارت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس  کا ترجمہ  “ایک مجلس کی  تین طلاقیں   “بنتا ہو۔ جب اس حدیث میں ایسے الفاظ ہی نہیں ہیں  کہ جن کا ترجمہ  “ایک مجلس کی تین طلاقیں  “بنتا ہو تو مذکورہ حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال ہی درست نہیں ۔

باقی رہی یہ بات کہ”  حضرت عمر فاروق   ؓ    نے اپنی وفات کے وقت اپنے  اس فتویٰ  پر پشیمانی کا  اظہار کیا تھا ”  تو یہ بات   بھی کسی معتبر ذریعہ سے   ثابت نہیں ہے اس لیے کہ  یہ بات جس سند سے ثابت ہے اس سند میں ایک راوی  خالد بن یزید بن ابی مالک  ہے   اگر چہ بعض محدثین نے ان کی توثیق کی ہے لیکن جمہور محدثین اس کی تضعیف کرتے ہیں۔ امام نسائی ؒ فرماتے ہیں  کہ وہ ثقہ نہیں  ہےاور امام  دارقطنی  ؒ    فرماتے ہیں وہ ضعیف ہے ۔ امام  ابوداؤد   ؒ      نے ایک روایت میں ان کو ضعیف کہا اور دوسری روایت میں منکر الحدیث فرمایا  ۔  امام الجرح والتعدیل  یحییٰ بن معین   ؒ          فرماتے ہیں کہ دو کتابیں ایسی ہیں جن کو دفن کر دینا ہی     زیادہ مناسب ہے ایک تو عراق میں ہے جو ابن الکلبی کی تفسیر ہے جس میں ابوصا لح  عن ابن عباس    ؓ             کے طریق سے روایت کرتے ہیں  اور دوسری علاقہ شام میں ہے ۔ اور   جو کتاب شام میں ہے وہ خالد ابن یزید بن ابی مالک کی کتاب الدیات ہے وہ صرف اس بات پر راضی نہ ہوا کہ اپنے باپ پر جھوٹ باندھتا حتی کہ اس نے آپ ﷺ کے صحابہ پر بھی کذب بیانی شروع کر دی ۔

اغاثۃ  اللہفان فی مصاید الشیطان لابن القيم  (1/ 577 ) میں ہے :

قال الحافظ أبو بكر الإسماعيلي في «مسند عمر»: أخبرنا أبو يعلى، حدثنا صالح بن مالك، حدثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك، عن أبيه، قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: ‌ما ‌ندمت على شيء ندامتي على ثلاث: أن لا أكون حرمت الطلاق ………

تہذيب التہذيب لابن حجر العسقلانی(1/ 536) میں ہے:

خالد ‌بن ‌يزيد بن عبد الرحمن بن ‌أبي ‌مالك هانئ الهمداني الدمشقي، أبو هاشم….

قال أحمد بن أبي يحيى، عن أحمد بن حنبل: ليس بشيء.

وقال ابن أبي الحواري، عن يحيى بن معين: بالعراق كتاب ينبغي أن يدفن، وبالشام كتاب ينبغي أن يدفن، فأما الذي بالعراق فكتاب التفسير عن ابن الكلبي، عن أبي صالح، عن ابن عباس. وأما الذي بالشام فكتاب الديات لخالد بن يزيد بن ‌أبي ‌مالك، لم يرض أن يكذب على أبيه حتى كذب على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم…… وقال عباس عن يحيى: ليس بشيء.وقال النسائي: ليس بثقة.وقال الدارقطني: ضعيف.

تیسری دلیل :

مذکورہ فتوے میں ایک مجلس  کی تین طلاقوں کے ایک ہونے  پر  مسند احمد کی حدیث  ِرکانہؓ   کو  بھی دلیل بنایا گیا ہے  اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث دو طرح سے مروی ہے ایک میں ہے کہ حضرت رکانہ  ؓ          نے تین طلاقیں دیں اور دوسری میں ہے کہ  انہوں نے طلاق بتہ دی   تھی ۔ اس بارے میں محدثین کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ   حضرت رکانہ  ؓ نے طلاق بتہ  دی  تھی   ۔طلاق بتہ میں  ایک طلاق یا تین طلاق کی نیت کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کا مدار طلاق دینے والے کی نیت پر ہوتا ہے ۔ اسی  وجہ سے   رسول اللہ ﷺ نے  حضرت رکانہؓ     سے اس بارے میں قسم بھی لی کہ ان کی نیت صرف  ایک ہی طلاق  دینے کی تھی ۔ اور چونکہ طلاق بتہ  میں تین  طلاق کا بھی احتمال   موجود ہے اس لیے ممکن ہے کہ کسی راوی نے اس کو تین طلاق کے لیے متعین سمجھ کر روایت  بالمعنی کے طور پر  یوں کہہ دیا  کہ  انہوں نے تین طلاقیں دی تھیں  ۔   اس واقعہ میں طلاق بتہ کو ترجیح دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ امام ابوداؤد  ؒ     فرماتے ہیں  “ هذا اصح من حديث ابن جريج ان ركانة  طلق امراته ثلاثا  لأنهم أهل بيته وهم أعلم به،”  یعنی جس حدیث میں ہے کہ حضرت رکانہ   ؓ    نے طلاق بتہ دی  تھی وہ  اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے  جس میں ہے کہ  حضرت رکانہ  ؓ    نے  تین طلاقیں دیں کیونکہ طلاق بتہ والی بات ان کے گھر والے روایت کررہے ہیں اور  طلاق  جیسے  گھر یلو  معاملہ  کو گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں  ۔ لہٰذا اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال درست نہیں ۔

شرح النووی على مسلم (10/ 71) میں ہے:

«واحتجوا أيضا بحديث ركانة أنه طلق امرأته ألبتة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم ما أردت إلا واحدة قال الله ما أردت إلا واحدة فهذا دليل على أنه لو أراد الثلاث لوقعن وإلا فلم يكن لتحليفه معنى وأما الرواية التي رواها المخالفون أن ركانة طلق ثلاثا فجعلها واحدة فرواية ضعيفة عن قوم مجهولين ‌وإنما ‌الصحيح ‌منها ما قدمناه أنه طلقها ألبتة ولفظ ألبتة محتمل للواحدة وللثلاث ولعل صاحب هذه الرواية الضعيفة اعتقد أن لفظ ألبتة يقتضي الثلاث فرواه بالمعنى الذي فهمه وغلط في ذلك»

سنن ابی داؤد( رقم الحديث 2208) میں ہے  :

عن نافع بن عجير بن عبد يزيد بن ركانة أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته سهيمة البتة، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك، وقال: والله ما أردت إلا واحدة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “والله ما أردت إلا واحدة؟ ” فقال ركانة: والله ما أردت إلا واحدة، فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فطلقها الثانية في زمان عمر، والثالثة في زمان عثمان. ….

قال أبو داود: وهذا أصح من حديث ابن جريج: أن ركانة طلق امرأته ثلاثا، لأنهم أهل بيته وهم أعلم به، وحديث ابن جريج رواه عن بعض بني أبي رافع، عن عكرمة، عن ابن عباس.

چوتھی دلیل :

مذکورہ فتوےمیں   ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ  صحابہ کرام میں سے  سیدنا علیؓ،  حضرت عبد اللہ بن مسعود  ؓ ، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ اور حضرت زبير بن عوام  ؓ      کا بھی یہی موقف تھا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی  طلاق کے حکم میں ہوتی ہیں ۔ اس  دلیل کا  جواب یہ ہے کہ    ان صحابہ کرام کی طرف اس موقف کی نسبت کرنا کسی سند سے ثابت نہیں  ہے  ۔ بلکہ اس کی حیثیت  ایک بے دلیل اور بے سند دعوے سے زیادہ  کچھ  نہیں  ہے۔اس لیے کہ یہ بات  حافظ ابن حجر ؒ  نے    ابن مغیث (المتوفی ۴۵۹ ھ) کی کتاب الوثائق سے نقل کیا ہے ۔ اور ابن مغیث نے  بھی اس  موقف کی سند  ذکر نہیں کی   بلکہ اس  قول  كو ابن وضاح  القرطبی   ؒ     ( المتوفی ۲۸۷ھ)   سے روایت کیا  ہے  ۔  اس میں اولا ً تو ابن مغیث  اور  ابن وضاح      القرطبی   ؒ                 کے درمیان  جو انقطاع ہے  وہ  ان  دوونوں کے سن وفات سے ظاہر ہے ۔  دوسرا  یہ کہ  ابن وضاح      القرطبی     ؒ      نے یہ بات  کس  کتاب میں  بیان کی ہے اور کس سند سے ذکر کی ہے  یہاں کچھ بھی مذکور نہیں  ہے۔  اسی طرح علامہ ابن تیمیہ   ؒ              نے بھی مجموع الفتاوی میں اس قول کو مذکورہ صحابہ کرام کی طرف  بغیر کسی سند کے منسوب کیا ہے ۔ جبکہ  حضرت علی ؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود  ؓ  سے سند کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ یہ حضرات بھی اکٹھی تین طلاقوں کو تین ہی قرار دیتے تھے ۔   لہٰذا    مذکورہ صحابہ کرام کی طرف  منسوب کی گئی ایک بے سند بات سے استدلال کرنا درست نہیں ہے ۔

فتح الباری   لابن حجر (9/ 363 )میں ہے :

الرابع: أنه مذهب شاذ فلا يعمل به، وأجيب بأنه نقل عن علي، وابن مسعود، وعبد الرحمن بن عوف، والزبير مثله، نقل ذلك ابن مغيث في كتاب الوثائق له وعزاه لمحمد بن وضاح، ونقل الغنوي ذلك عن جماعة من مشايخ قرطبة كمحمد بن تقي بن مخلد، ومحمد بن عبد السلام الخشني وغيرهما، ونقله ابن المنذر عن أصحاب ابن عباس، كعطاء، وطاوس، وعمرو بن دينار.»

المقنع  فی الوثائق لابن  مغیث ( ص 80) میں ہے  :

  قال المحقق في ديباجة الكتاب عن المولف هو احمد بن محمد  بن مغيث الصدفي الطليطلي أبو جعفر كبير طليطلة وفقيهه ….. وألف المقنع في  الوثائق كانت وفاة سنته 459 ھ .

(قال ابن مغيث ) : ينقسم الطلاق على ضَربَيّن  طلاق سنة وطلاق بدعة. فطلاق السنة هو الواقع على الوجه الذي ندب الشرع إليه» وطلاق البدعة هو نقيضه؛ وذلك أن يطلقها في حيض أو نفاس أو ثلاثاً في كلمة واحدة» فإن فعل لزمه الطلاق. ثم اختلف أهل العلم بعد إجماعهم على أنه مطلق كم يلزمه من الطلاقء فقال علي بن أبي طالب رضي اله عنه وابن مسعود: تلزمه طلقة واحدة. وقاله ابن عباس» ……….. وقال مثله الزبّير بن العوام وعبد الرحمن بن عَوف رضي الله عنهما وروينا  ذلك كله عن ابن وضاح .

مجموع الفتاوى لابن تیمیہ  (33/ 8) میں ہے :

«وهذا القول منقول عن طائفة من السلف والخلف من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل الزبير بن العوام وعبد الرحمن بن عوف ويروى عن علي وابن مسعود وابن عباس القولان؛»

السنن الکبریٰ للبیہقی  (رقم الحدیث : 15066) میں ہے :

«أخبرنا أبو عمرو الرزجاهى، حدثنا أبو بكر الإسماعيلى قال: قرأت على أبى محمد إسماعيل بن محمد الكوفى، حدثنا أبو نعيم الفضل بن دكين، حدثنا حسن، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن علي رضي الله عنه ‌فيمن ‌طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها، قال: لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.»

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کو ہمبستری سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے ۔

علاوہ ازیں ہم دیل نمبر 9 کے تحت حضرت حسنؓ کی   حضرت علیؓ سے مرفوع حدیث بھی نقل کرچکے ہیں  کہ من طلق امرأته ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں   دے دی ہوں  وہ عورت شوہر کے لیے اس وقت  تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک  وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے۔

شرح معانی الآثار للطحاوی (رقم ا لحدیث 4185 ) میں ہے  :

 حدثنا ابن مرزوق، قال: ثنا بشر بن عمر، قال: ثنا شعبة، عن منصور، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، أنه سئل عن رجل ‌طلق امرأته ‌مائة، فقال: ثلاث تبينها عنك، وسائرها عدوان

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود   ؓ     سے اس شخص کا حکم پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں  دی تھیں تو آپ نے  فرمایا کہ تین طلاقوں سے تو بیوی جدا ہو گئی اور بقیہ طلاقیں  ظلم اور زیادتی ہیں۔

اغاثہ اللہفان  لابن القیم (1/ 330 ) میں ہے :

«فقد صح بلا شك عن ابن مسعود وعلى وابن عباس: ‌الإلزام ‌بالثلاث لمن أوقعها جملة، وصح عن ابن عباس أنه جعلها واحدة. ولم نقف على نقل صحيح عن غيرهم من الصحابة بذلك،»

پانچویں  اور چھٹی دلیل  :

پانچویں اور چھٹی دلیل میں کچھ اہل علم حضرات کے فتووں کا ذکر ہے ان کے فتووں کا مختصر جواب یہی ہے کہ یہ فتوے  قرآن و حدیث کے مذکورہ دلائل کے مقابلے میں  شرعی دلیل اور حجت نہیں ہیں ۔

ساتویں دلیل :

آخر میں   ایک مجلس کی تین طلاق کو غیر شرعی قرار دے  کر  اس کی  اصلاح کا  طریقہ یہ تجویز کیا  گیا ہے   کہ تین طلاقوں کو نافذ ہی نہ کیا   جائے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر شریعت  کسی کام  سے منع کردے اور اسے  غیر شرعی قرار دے   دے تو شریعت  کا مقصد اس  کام کو جرم قرار دے کر اس سے روکنا  ہوتا ہے   نہ یہ کہ  اس  جرم کا ارتکاب کرنے کے باوجود  اس جرم کو جرم نہ مانا جائےاور مجرم پر حکم  نافذ نہ کیا جائے  ۔ اور  ایسا   تو دنیا کے کسی قانون میں بھی نہیں ہوتا کہ   کسی  جرم  کو  روکنے اور اس کی اصلاح کا یہ طریقہ تجویز کیا جائے کہ اس جرم کے پائے جانے کے باوجود جرم کا وجود تسلیم نہ کیا جائے اور اس کی سزا   یا تو   بالکل ختم  ہی کردی جائے یا اس میں  کمی  کردی جائے ۔ ایسا کرنے سے اس گناہ اور غیر شرعی کام کا سد باب تو نہیں ہوگا ہاں   یہ ضرور ہوگا کہ لوگ اس  جرم کو ہی کو ہلکا سمجھ کر  اس پرمزید جرأت کرنے لگیں گے ۔

 شریعت میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں  جیسے  حالت حیض میں بیوی کو طلاق دینے سے منع کیا گیا ہے اور یہ غیر شرعی طریقہ ہے  لیکن جب حضرت عبداللہ بن عمر   ؓ نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی تو حضور ﷺ اس   غیر شرعی طریقہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے  ان  پر  سخت ناراض بھی ہوئے اور اس طلاق کو ان پر نافذ بھی کیا ۔

صحيح البخاری (5/ 2011) میں ہے :

باب: إذا طلقت الحائض يعتد بذلك الطلاق.

«عن أنس بن سيرين قال: سمعت ابن عمر قال:طلق ابن عمر امرأته وهي حائض، فذكر عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: (ليراجعها). قلت: تحتسب؟ قال: فمه؟

وعن قتادة، عن يونس بن جبير، عن ابن عمر قال: (مره فليراجعها). قلت: تحتسب؟ وقال أبو معمر: حدثنا عبد الوارث: حدثنا أيوب، عن سعيد بن جبير عن ابن عمر قال: حسبت علي بتطليقة.»

ترجمہ :  باب : جب حیض والی عورت کو طلاق دی جائے تو وہ طلاق شمار ہوتی ہے ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ۔ پھرحضرت  عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا ، آنحضرت ﷺ نے اس پر فرمایا کہ  ان کو رجوع کرلینا  چاہیے  ۔ ( انس  بن سیرین کہتے ہیں ) میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا یہ طلاق ، طلاق سمجھی جائے گی ؟ انہوں نے کہا کہ چپ رہو۔ پھر  اور کیا سمجھی جائے گی  ! ۔۔۔۔۔ حضرت ابن عمر  ؓ           کہتے ہیں کہ اس   کو میرے حق میں  طلاق شمار کیا  گیا تھا۔

حاصل یہ ہے   کہ اکٹھی تین طلاقیں دینا شرعا ً ممنوع   ہے لیکن اگر کوئی ایسا کرے گا تو تینوں  طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ یہ  بات دلائل و براہین سے ثابت  ہے ۔اور جن   مغالطوں کی بنیاد پر غیر مقلدین قرآن و سنت اور امت کے اجماع کے مقابلہ   میں حرام کو حلال قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں ان مغالطوں  کی حقیقت بھی الحمدللہ واضح ہوگئی۔نیز جمہور امت کے مقابلہ  میں یہ موقف کہ  اکٹھی تین طلاقیں ایک ہی ہوتی ہیں۔

غیر مقلدین  (اہل حدیث)  کے علاوہ شیعہ اور قادیانیوں  کا  بھی ہے۔

چنانچہ المبسوط لابی جعفر  الطوسی المتوفی 460 ھ(5/4) میں ہے :

فالمحرم عندنا غير واقع وعند المخالف يقع والطلاق الثلاث بلفظة واحدة او في طهر واحد متفرقا لايقع عندنا الا واحدة وعندهم يقع الجميع وقال بعضهم هو بدعة وقال خرون ليس ببدعة

فقہ احمدیہ (ص 80) میں ہے  :

احمدیہ کے نزدیک اگر تین طلاقیں ایک ہی دفعہ دے دی جائیں تو ایک رجعی طلاق متصور ہوگی ۔۔۔۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں اگر تین طلاقیں  ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گزرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved