• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بيرون ملک رہائش پذیر لوگوں کا اپنا اور اپنی نابالغ اولاد کا صدقہ فطر پیسوں کی صورت میں ادا کرنے میں کس ملک کے غلہ کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

استفتاء

حضرت مفتی صاحب  جو لوگ بیرون ملک محنت مزدوری کی غرض سے رہ رہے  ہیں اور عید الفطر کے موقع پر وہ لوگ وہاں ہوں گے تو کیا وہ صدقہ فطر بیرون ممالک کے  حساب سے ادا کریں گے یا پاکستان کے حساب سے؟

ہماری تحقیق متعدد عربی فتاوی کو دیکھنے کے بعد اب تک یہی ہے کہ جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں وہ اپنا اورنابالغ اولاد کا صدقہ فطر  اسی ملک کے حساب سےادا کریں گے ، پاکستانی مالیت کے لحاظ سے ادا کرنے سے صدقہ فطر ادانہ ہوگا۔

یہاں کچھ غیر متخصصین علماء  حضرات نے فتاوی قاسمیہ (انڈیا) کا حوالہ دیا ہے کہ ’’ نہیں پاکستانی مالیت کا لحاظ ہوگا۔‘‘

وضاحت مطلوب ہے:جن متعدد عربی فتاوی کی بنیاد پر آپ کی یہ رائے بنی ہے اگر وہ عبارتیں ہمیں بھی بھیج دیں تو غور کرنے میں سہولت رہے گی۔

جواب وضاحت: عبارتیں مندرجہ ذیل ہیں۔  فتاوی شامی میں ہے:

و المعتبر في الزکاة فقراء مکان المال، و في الوصية مکان الموصي، و فى الفطرة مکان المؤدى عند محمد، و هو الأصح، و أن رؤسهم تبع لرأسه

و في الرد: (قوله: مکان المؤدي) أي لا مکان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية و العناية بأنه ظاهر الرواية کما في الشر نبلالية و هو المذهب کما في البحر فکان أولي مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مکان المؤدي عنه، قال الرحمتي: وقال في المنح فى آخر باب صدقة الفطر: الأفضل أن يؤدي عن عبيده و أولاده و حشمه حيث هم عند أبي يوسف و عليه الفتوي و عند محمد حيث هو اه، تأمل. قلت: لکن في التتارخانية يؤدى عنهم حيث هو و عليه الفتوى وهو قول محمد و مثله  قول أبي حنيفة و هو الصحيح. (ج2/355،356،ط: دارالفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ثم المعتبر فى الزکاة مکان المال حتى لو کان هو في بلد، و ماله فى بلد آخر يفرق فى موضع المال، و في صدقة الفطر يعتبر مکانه لا مکان اولاده  الصغار و عبيده في الصحيح کذا في التبيين. و عليه الفتوي کذا في المضمرات(1/19، ط: دار الفکر)

حاشیہ  الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

تنبيه المعتبر في الزکاة فقراء مکان المال و في الوصية مکان الموصي و في الفطرة مکان المؤدي عند محمد و هو الأصح لأن رؤسهم تبع لرأسه (1/722،ط: دار الکتب العلمية، وکذا في  ’’مجمع الانهر، 1/225، دار احياء التراث العربي)

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں صدقۃ فطر میں کس جگہ کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟ اس بارے میں صراحتاً کچھ نہیں ملا اور  جو عبارات آپ حضرات نے بھیجی ہیں ان کا تعلق قیمت سے نہیں کہ مؤدی کے مکان کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا مؤدی عنہ کے مکان کی قیمت  کا اعتبار ہوگا بلکہ ان کا تعلق اس سے ہے کہ فطرانہ (خواہ وہ جنس(گندم، جو وغیرہ) کی صورت میں ہو)  مؤدی کے مکان کے  فقراء کو دیا جائے گا یا  مؤدی عنہ کے مکان کے فقراء کو دیا جائے گا مثلاً ایک آدمی سعودیہ میں ہے اور اس کے بچے جن کی طرف سے وہ فطرانہ ادا کر رہا ہے وہ پاکستان میں ہیں  تو یہ آدمی  اپنے بچوں کا فطرانہ خواہ جنس کی  صورت میں  دے یا قیمت کی صورت میں دے، سعودیہ کے فقراء  کو  دے گا یا پاکستان کے فقراء کو دے گا ؟ اس بارے میں اگرچہ اصح یہ ہے کہ سعودیہ کے فقراء کو دے گا تاہم دوسرا قول (کہ اس پر بھی فتوی ہے ) یہ  ہے کہ پاکستان کے فقراء کو دے گا۔ نیز یہ اختلاف بھی صرف افضلیت کی حد تک ہے جائز ناجائز کی حد تک نہیں، چنانچہ اگر یہ شخص اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا فطرانہ سعودیہ میں دیدے یا پاکستان بھجوا دے دونوں صورتیں جائز ہیں۔

تاہم  اگر  قیمت میں بھی اسی ضابطے کو پیش نظر رکھیں  تو پھر بھی مذکورہ مسئلے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہوگی۔

1۔مذکورہ لوگ اگر صدقہ فطر میں  گندم، جو، کھجور دینا چاہیں تو پونے دو کلو گندم یا  ساڑھے تین  کلو جو یاکھجوردے دینا کافی ہے، خواہ اتنی مقدار بیرون ملک دیں یا پاکستان میں دیں۔

2۔اور اگر یہ لوگ پیسوں میں صدقہ فطر ادا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادائیگی کرنے میں جہاں ادائیگی کر رہے ہیں وہاں کی قیمت کا اعتبار کریں گے۔ یعنی انہوں نے اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر بیرون ملک میں ادا کرنا ہے تو بیرون ملک کے حساب سے قیمت کا اعتبار کریں گے۔ اور اپنے بالغ بچوں اور بیوی کی طرف سے ادائیگی میں جس جگہ بچے اور بیوی موجود ہیں وہاں کی قیمت کا اعتبار کریں گے۔ مثلاً بیوی اور بالغ بچے پاکستان میں موجود ہیں اور ادائیگی کرنے والا بیرون ملک میں ہو تو پاکستان کی قیمت کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کریں گے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ نابالغ بچوں کی طرف سے صدقہ فطر خود ان لوگوں پر واجب ہوا ہے اور یہی لوگ مؤدی ہیں جبکہ بالغ بچوں اور بیوی کا صدقہ فطر خود ان (بیوی اور بچوں) پر واجب ہوا ہے لہٰذا اصل اعتبار ان کے اپنے مکان کا ہوگا۔

3۔اوراگر پاکستان  میں   براہ راست کسی مستحق کو بھجوا رہے ہیں تو پھر بھی بیرون ملک کے حساب سے قیمت کا اعتبار کریں گے ۔

4۔ا ور اگر پاکستان میں کسی کو ادائیگی کا وکیل بنا رہے ہیں تو پھر بھی  بیرون ملک کے حساب سے قیمت کا اعتبار کریں گے۔ کیونکہ بعض کتب میں مکان المؤدی کی جگہ مکان من تجب علیہ کے الفاظ آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤدی سے مراد وہ شخص ہے جس پر صدقہ فطر واجب ہوا ہو لہٰذا کسی کو وکیل بنانے کی صورت میں اعتبار وکیل کے مکان کا نہیں بلکہ مؤکل کے مکان کا ہوگا اور وہی مؤدی سمجھا جائے گا اگرچہ ظاہر کے اعتبار سے مؤدی وکیل ہے۔

5۔اور اگر مذکورہ ضابطے  کو پیش نظر نہ رکھیں بلکہ فقراء کے فائدے کو پیش نظر رکھیں تو پھر تفصیل یہ ہوگی کہ مؤدی کے مکان میں قیمت زیادہ ہو تو مؤدی کے مکان کا اعتبار ہوگا اور مؤدی عنہ کے مکان میں قیمت زیادہ ہو تو مؤدی عنہ کے مکان کا اعتبار ہوگا۔

نوٹ: یہ سب تفصیل افضلیت کے اعتبار سے ہے ورنہ مودی عنہ کے مکان کا اعتبار کرنے کا قول بھی تصحیح شدہ ہے۔

ہندیہ (1/191) میں ہے:

وإنما ‌تجب ‌صدقة ‌الفطر من أربعة أشياء من الحنطة والشعير والتمر والزبيب كذا في خزانة المفتين وشرح الطحاوي وهي نصف صاع من بر أو صاع من شعير أو تمر

ہندیہ (1/190) میں ہے:

‌ويكره ‌نقل ‌الزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها الإنسان إلى قرابته أو إلى قوم هم أحوج إليها من أهل بلده، ولو نقل إلى غيرهم أجزأه، وإن كان مكروها ……….. ثم المعتبر في الزكاة مكان المال حتى لو كان هو في بلد، وماله في بلد آخر يفرق في موضع المال، وفي صدقة الفطر يعتبر مكانه لا مكان أولاده الصغار وعبيده في الصحيح كذا في التبيين. وعليه الفتوى كذا في المضمرات

البحرالرائق (2/269) میں ہے:

والمنقول ‌في ‌النهاية معزيا إلى المبسوط أن العبرة لمكان من تجب عليه لا بمكان المخرج عنه موافقا لتصحيح المحيط فكان هو المذهب

فتاوی رحیمیہ (7/194)میں ہے:

سوال: بیرونی ممالک سے اعزہ و اقارب اپنے فطرے کی ادائیگی کے لیے ہندوستان لکھتے ہیں۔ یہاں احتیاطاً چار سیر گیہوں یا اس کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ باہر والوں کے فطرے ہندوستان میں ادا کرنے کے لیے وہاں کے غلے کی قیمت کے مطابق دینے پڑیں گے یا اپنے یہاں کے غلے کی قیمت کے مطابق؟

جواب: افریقیوں کی طرف سے فطرے عمدہ نوع کے گیہوں بنگالی وزن سے پونے دو سیر دیے جائیں، یا افریقہ کے حساب سے اس قدر گیہوں کی قیمت دی جائے۔ ہاں اگر یہاں کے گیہوں کی قیمت زیادہ ہوتی ہو تو یہاں کے حساب سے ادا کرے۔ بہتر یہی ہے کہ گیہوں دے دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved