• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تصاویر پر مشتمل اشیاء کی خرید وفروخت کا حکم

استفتاء

آپ کو کچھ  تصاویر ارسال کی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے ان  تصاویر کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟

1۔ایک تصویر تتلی نما اسٹیکر کی ہے جس میں چہرے کے نقوش ہونٹ، آنکھیں اور ناک  نہیں ہیں۔

2۔دوسری تصویر سالگرہ کے موقع پر استعمال ہونے والے اسٹیکر کی ہے جو تصاویر پر مشتمل نہیں ہے۔

3۔تیسری تصویر بے بی شاور پارٹی سے متعلق سامان کی ہے، جو تصاویر پر بھی مشتمل  ہے۔

4۔ چوتھی تصویر شاپنگ بیگ کی ہے جس پر بے بی  شارک کارٹون کی شارک مچھلی  کی تصاویر بنی ہوئی ہیں  ۔

تنقیح : بے بی شاور پارٹی  یورپ میں منائی جانے والی ایک پارٹی ہے جس میں حاملہ عورت اپنے پہلے حمل کے بارے میں خاندان کی عورتوں کو بُلا کر باقاعدہ  تقریب  منا کر خبر دیتی ہے اور ساتھ ہی حمل کے لڑکا یا لڑکی ہونے کی بھی خبر دیتی ہے تاکہ خاندان والے بچے کی آمد سے پہلے اس سے متعلق ضروری سامان گفٹ کی صورت میں دیدیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ تصاویر میں سے تتلی نما اسٹیکر کی خریدوفروخت جائز ہے کیونکہ چہرے کے نقوش (آنکھ، ناک، ہونٹ) واضح  نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسٹیکر  تصویر کے حکم میں نہیں  ہے ۔

2,3۔مذکورہ سامان میں سے جو سامان جاندار کی تصاویر پر مشتمل ہے اس کی خرید وفروخت تصویر کی وجہ سے جائز نہیں اور جو سامان تصاویر پر مشتمل نہیں ایسا سامان ان لوگوں کو بیچنا جائز نہیں ہے جن لوگوں کے بارے میں علم ہو کہ وہ انہیں صرف سالگرہ یا بے بی شاور پارٹی میں استعمال کریں گے (کیونکہ مذکورہ پارٹیوں کا منانا جائز نہیں ہے) البتہ جن لوگوں کے بارے میں علم نہ ہو کہ وہ اس سامان کو کہاں استعمال کریں گے  ان کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے کیونکہ اس سامان کا سالگرہ اور بے بی شاور پارٹی کے علاوہ استعمال  بھی معاشرے میں موجود ہے۔

4۔چونکہ  شاپنگ بیگ سے اصل  مقصود  بیگ ہوتا ہے تصویر  مقصود نہیں ہوتی (بشرطیکہ تصویر کی وجہ سے بیگ کی قیمت میں فرق نہ آتا ہو)  اس لیے شارک مچھلی  کی تصویر والے شاپنگ بیگ کی فروخت جائز ہے۔ البتہ اگر خریدار کے پیش نظر شارک مچھلی کی تصاویر ہوں کہ اسے بغیر تصویر کے شاپنگ بیگ مطلوب نہ ہو تو اس کے لیے مذکورہ شاپنگ بیگ خریدنا جائز نہیں ہے۔   نیز یہ حکم صرف تصویر والے شاپنگ بیگ بیچنے کا ہے ورنہ ایسی تصاویر بنانا  جائز نہیں ہے۔

شرح مختصر الطحاوی  للجصاص  (6/ 391) میں ہے:

فإن قيل: فينبغي أن يكره بيع الحرير والحلي من الرجال؛ لأنهما على هيئتهما ينتفع بهما في الجهة المحظورة.

قيل له: لم نقل إن بيع السلاح مكروه، لأجل إمكان الانتفاع به على هذه الهيئة في الوجه المحظور، دون أن تكون الحال دالة عليه، وهو أن يكون في عسكر الفتنة، أو زمان الفتنة مع ما وصفنا من حاله.

وأما الحرير والحلي، فليس لهما حال ظاهرة يمنع بيعهما وإن كان الانتفاع بهما ممكنًا على الوجه المحظور

درمختار (6/408) میں ہے:

(ويكره) تحريما (‌بيع ‌السلاح ‌من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي

(قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية ط (قوله: من أهل الفتنة) شمل البغاة وقطاع الطريق واللصوص بحر (قوله: إن علم) أي إن علم البائع أن المشتري منهم (قوله: لأنه إعانة على المعصية) ؛ لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا يقتل به إلا بصنعة تحدث فيه كالحديد، ونظيره كراهة بيع المعازف؛ لأن المعصية تقام بها عينها، ولا يكره بيع الخشب المتخذة هي منه، وعلى هذا بيع الخمر لا يصح ويصح بيع العنب. والفرق في ذلك كله ما ذكرنا فتح ومثله في البحر عن البدائع، وكذا في الزيلعي لكنه قال بعده وكذا لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعمالها المحظور

فقہ البیوع (1/320) میں ہے:

أما إذا كان البيع شيئا آخر من المباحات وهو مشتمل على صور فتدخل فى البيع تبعا فيجوز بيعها وهذا مثل الجرائد والصحف والكتب التى يقصد منها مضمونها المباح  ولكنها ربما تشتمل على صور ممنوعة.

کفایت المفتی (9/343) میں ہے:

جواب:ایسے مارکے جن پر تصاویر بنی ہوئی ہوتی ہیں سینکڑوں روز مرہ کی اشیاء پر موجود ہیں ہاتھی مارکہ کاغذ،دیاسلائی کی ڈبیاں اور کپڑے کے تھان،چینی کے برتن،اخبارات ورسائل اور ہزاروں چیزیں ہیں ان کی خریداری کا حکم یہ ہے کہ اگر تصویر کی خریداری مقصود نہ ہو اور تصویر کو اس چیز کی قیمت میں دخل نہ ہو یعنی  خود تصویر کی کوئی قیمت اسمیں شامل نہ ہو تو ایسی چیزوں کا خریدنا مباح ہے۔

کفایت المفتی (9/241) میں ہے:

سوال: کپڑے کے تھان کہ جس پر کار خانہ کے رجسٹر و چھاپ کا لیبل چسپاں ہوتا ہے جو جاندار کی تصویر ہویابکس کہ جس پر تصویر جاندار ہو اور اس میں اشیائے فروخت بند ہوتی ہیں اس کا دوکان میں رکھنا تصویررکھنےکے حکم میں ہو گا یا نہیں؟ عام طور پر لوگ اس میں مبتلا ہیں چونکہ یورپ کی بنی ہوئی اشیاء پر اکثر تصویر دار لیبل چسپاں ہوتے ہیں اس سے احتراز دشوار امر ہے تو اس کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟

جواب:اس میں چونکہ تصویر کی بیع و شراء مقصود نہیں ہوتی اس لیے ضرورۃ گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved