- فتوی نمبر: 34-274
- تاریخ: 07 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء و مفتیان دین اس مسئلہ کے بارے کہ ہمارے دیار میں لوگ اپنے آپ کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے نسب سے مشہور کر رہے ہیں جیسے جولاہے اپنے آپ کو انصاری کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کہتے ہیں اسی طرح موچی اپنے آپ کو غفاری کہلاتے ہیں اور حضرت ابو ذر غفاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کہتے ہیں اور لوہار ان کے باپ دادا ہمیشہ لوہار ہی لکھتے آئے ہیں اب ایک بھائی عثمانی اور دوسرا فاروقی لکھنا شروع ہو گئے ہیں اسی طرح کمبوہ بھائی بھی فاروقی لکھنا شروع ہو گئے ہیں ایک فاروقی بھائی سے میں نے کہا آپ کمبوہ لکھو فاروقی نہ لکھو آپ تو حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی اولاد نہیں جس سے وہ آگ بگولہ ہو گیا اور کہا کہ مجھے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے محبت ہے میں اسی لیے فاروقی ہوں تم حنفی دیوبندی کیوں ہو میں نے کہا کہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کا مقلد ہوں اور علمی دلائل مانگنا شروع کیے تو میں چپ ہو گیا۔
1۔ کیا کسی صحابیؓ کی محبت کی وجہ سے ان کا نسب جیسے صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی الحسینی لکھ سکتے ہیں جبکہ وہ لوگ ان کی اولاد میں سے نہیں۔
2۔استاذ کا لقب جیسے رحیمی، قاسمی لکھ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جواب سے قبل یہ ضابطہ ذہن نشین رہے کہ حدیث میں آیا ہے”من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام“[صحيح البخارى،رقم الحدیث:6766] ( ترجمہ: جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے حالانکہ وہ جانتا بھی ہے کہ دوسرا شخص اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس کے اوپر حرام ہے) مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے آ پ کو اپنی قوم کے علاوہ کسی قوم کی طرف منسوب کرے تو یہ سخت گناہ کی بات ہے لہذا جس نسبت کی وجہ شہرت نسب کی ہو مثلا صدیقی، فاروقی، عثمانی، وغیرہ وہاں نسب کے علاوہ کسی اور وجہ سے یہ نسبت لگانے کے باوجود سننے والے کو یہ خیال ہو گا کہ یہ نسبت نسب کی وجہ سے ہے اس لئے وہاں یہ نسبت کسی اور وجہ سے لگانا درست نہیں ہو گا اور جو نسبت نسب کی بناء پر معروف نہ ہو وہاں نسبت لگانے سے چونکہ نسب بدلنے کا شبہ نہ ہوگا وہاں مذکورہ ممانعت بھی نہیں ہو گی جیسے مکی، مدنی، یا دیوبندی کی نسبت لگانا۔اس تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کا جواب یہ ہے کہ:
1- درست نہیں۔
2- درست ہے۔
سنن ابی داؤد (2/211) میں ہے:
عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة إلى يوم القيامة”
آپ کے مسائل اور انکا حل( 8/286) میں ہے:
سوال: اگر کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ تخلص صدیقی،یا فاروقی،یا عثمانی،یا علوی، شکریہ نسب کے حساب سے نہیں ،عقیدت و محبت کی وجہ سے ملاتا ہے مثلا ” غلام سرور صدیقی” نام کے ساتھ ملانا جائز ہے یا نہیں ؟ عقیدت ومحبت کی وجہ سے۔
جواب : عقیدت ومحبت کے اظہار کے لیے کسی بزرگ کی طرف نسبت کرنے کا تو مضائقہ نہیں ،لیکن ” صدیقی” یا “فاروقی” وغیرہ کہلانے میں تلبیس وتدلیس پائی جاتی ہے سننے والے یہی سمجھیں گے کہ حضرت کو ان بزرگوں سے نسبی تعلق ہے اور غلط نسب جتانا حرام ہے اس لیے یہ بھی درست نہ ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved