• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

متعدد عمروں کے بعد ایک ہی دفعہ حلق یا قصر کرنے کا حکم

استفتاء

ایک شخص نے پانچ عمرے ادا کیے اور قصر تمام عمروں کے آخر میں کیا باقی چار عمروں میں نہ قصر کیا نہ حلق،اب اس شخص پر ایک ہی دم دینا ہے یا چار؟اس کی وضاحت درکار ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ شخص پر   چار  دم لازم ہوں گے۔

توجیہ:اگر کوئی شخص عمرے میں سعی  کے بعد  اور حلق  سے پہلے دوسرا عمرہ شروع کردے تو اس سے یہ دوسرا عمرہ بھی لازم ہوجائے گا  اور ایک احرام پر دوسرا احرام باندھنے کی وجہ سے دم ِ جمع لازم ہوگا اسی طرح اگر دوسرے عمرے کے حلق سے پہلے تیسرے عمرے کا احرام باندھا تو تیسرا عمرہ بھی لازم ہوجائے گا اور اس احرام علی الاحرام کی وجہ سے دوسرا دم ِ جمع بھی لازم ہوگا اسی طرح چوتھے اور پانچویں عمرے کی وجہ سے بھی ایک ایک دم لازم ہوگا مذکورہ صورت میں بھی چونکہ  پہلے عمرے سے حلق یا قصر کیے بغیر یکے بعد دیگرے  چار  عمروں  کا احرام باندھا گیا ہے اس لیے  ہر احرام علی الاحرام کی وجہ سے ایک دمِ جمع لازم ہوگا لہٰذا مذکورہ شخص پر  چار  دم لازم ہوں گے اور آخر میں قصر   کرنے سے سب احراموں  سے   نکل جائے گا۔

مناسک ملا علی قاریؒ(ص:324)میں ہے:

(ولو طاف وسعى للأولى ولم يبق عليه إلا الحلق، فأهل بأخرى لزمته) أي العمرة الأخرى اتفاقاً ولا يرفضها) أي الأخرى والأولى أن يقول: ولا يرفض شيئاً (وعليه دم الجمع وإن حلق للأولى قبل الفراغ من الثانية لزمه دم آخر) أي للجناية على الثانية اتفاقاً (ولو بعده) أي ولو حلق للأولى بعد الفراغ من الثانية (لا) أي لا يلزمه دم آخر.

غنیۃ الناسک (ص:372)میں ہے:

وأما في التراخي بأن أحرم بأخري بعد أن يفرغ من السعي للأولی قبل الحلق فتلزمه الثانية باتفاق الثلاثة، ولا يرفضها وعليه دم الجمع، وإن حلق للأولى قبل الفراغ من الثانية لزمه دم آخر اتفاقا، ولو بعده لا.

زبدۃ المناسک(ص:337)میں ہے:

مسئلہ: اگر پہلے عمرہ کی سعی کر لی ہواور اس کا حلق کرنے سے پہلے دوسرے عمرہ کا حرام باندھا ہے تو وہ عمر ہ الازم ہوگیا لیکن اب اس کونہ چھوڑے اس صورت میں فقط دمِ جمع  لازم ہو گا ،اس  صورت  میں اگر دوسرا عمرہ کرنے سےپہلے حلق کریگا تو دوسرا دم بھی لازم ہوگا بوجہ دوسرے عمرہ کے احرام میں محظور کر نیکے اور جب دوسرے عمرہ کے افعال بجالا کر  فارغ ہوا   اس کے بعد حلق کیا تو دونوں احراموں سے حلال ہو جائیگا اور فقط ایک دم ِجمع لازم ہو گا ۔(غنیہ)

معلم الحجاج(ص:366)میں ہے:

اور اگر پہلے عمرہ کی سعی سے فارغ ہونے کے بعد سر منڈانے سے پہلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا تو دوسرا عمرہ لازم ہو گیا اور دونوں میں سے کسی کو نہ چھوڑے اور جمع کرنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوگا۔

اور اگر دوسرے عمرہ سے فارغ ہونے سے پیشتر پہلے احرام سے حلال ہونے کے لئے سر منڈائے گا تو دوسر ادم دوسرے احرام پر جنایت ہونے کی وجہ سے واجب ہوگا اور اگر دوسرے عمرہ سے فارغ ہو کر پہلے عمرہ کے لئے سر منڈائے گا تو دوسرا دم واجب نہ ہوگا ۔ فقط ایک دمِ جمع لازم ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved