• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وضو کے بعد سورۃ “إنا انزلناه”پڑھنے والی روایت کی تحقیق

استفتاء

گزارش ہے کہ آپ حضرات کی طرف سے جاری کردہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نور اللہ مرقدہ کا مرتب کردہ ایک سالہ فہم دین کورس پڑھانے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے الحمدللہ عوام تو عوام خود  میرے لئے بہت ہی مفید سلسلہ ہے اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔

آمدم برسر مطلب یہ کہ دوران مطالعہ ودرس کچھ ایسی باتیں جو سمجھ  نہیں آ سکیں   یا جن پر اپنی ناقص عقل کی وجہ سے کچھ اشکال سا ذہن میں آیا وہ سمجھنا یا حل کرنا چاہ رہا ہوں امید ہے تشفی فرما  دیں گے، بعداز تحقیق جو بھی نتیجہ سامنے آئے اس سے بندہ کو بھی مطلع فرمادیں گے،جزاکم اللہ خیرا۔

مسائل بہشتی زیور میں وضو کے بعد سورۃ” انا انزلناه” پڑھنے کا ذکر ہے اور جس روایت میں وضو کے بعد سورۃ” انا انزلناه ” پڑھنے کا ذکر ملتا ہے وہ ناقابل بیان  یعنی موضوع  درجے کی روایت ہے   تو پھر کیسے اس کے پڑھنے کی ترغیب درست ٹھہرے گی؟اس روایت کی تحقیقی بحث حضرت مولانا  مفتی طارق امیر خان صاحب نے اپنی  کتاب “غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ ” میں ذکر کی  ہے چنانچہ وہ پوری بحث نقل کی جاتی ہے:

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ(2/265تا271)میں ہے:

وضوء کے بعد : “ إنا أنزلناه في ليلة القدر“پڑھنے کے مختلف فضائل

حکم : آپﷺ سے ثابت نہیں، بیان نہیں کر سکتے۔

روایت: ” من قرأ في إثر وضوئه: إنا أنزلناه في ليلة القدر مرة واحدة كان من الصديقين، ومن قرأها مرتين كان في ديوان الشهداء، ومن قرأها ثلاثا حشره الله محشر الأنبياء”.

ترجمہ: نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : جو شخص وضوء کے بعد : “إنا أنزلناه في ليلة القدر “ ایک مرتبہ پڑھے گا، وہ صدیقین میں شمار ہو گا، اور جو دو مر تبہ پڑھ لے ، اسے شہداء کی فہرست میں لکھا جائے گا، اور جو تین مرتبہ پڑھ لے، اللہ تعالی نبیوں کے ساتھ اس کا حشر فرمائیں گے۔

اس حدیث کی تحقیق چار (۴) اجزاء پرمشتمل ہے:

1۔روایت کا مصدر اصلی

2۔روایت کے بارے میں ائمہ حدیث کا کلام

3۔ائمہ حدیث کے اقوال کا خلاصہ اور روایت کا حکم

4۔اہم نوٹ

1۔روایت کا مصدر

یہ روایت دیلمی ؒکی “مسند الفردوس میں حضرت انسؓ سےمرفوعاً ( آپ ﷺکا قول ) مروی ہے ، چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ “الحاوي للفتاوي ” میں لکھتے ہیں : روى الديلمي في مسند الفردوس من طريق أبي عبيدة، عن الحسن، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ في أثر وضوئه إنا أنزلناه في ليلة القدر مرة واحدة كان من الصديقين، ومن قرأها مرتين كتب في ديوان الشهداء، ومن قرأها ثلاثا حشره الله محشر الأنبياء وأبو عبيدة مجهول”.

ترجمہ، آپﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص وضو  کے بعد: ” إنا أنزلناه في ليلة القدر ” ایک مرتبہ پڑھے گا، وہ صدیقین میں شمار ہو گا، اور جو دو مرتبہ پڑھ لے، اسے شہداء کی فہرست میں لکھا جائے گا، اور جو تین مرتبہ پڑھ لے ، اللہ تعالی نبیوں کے ساتھ اس کا حشر فرمائیں گے۔ اس سند میں ابو عبیده مجہول راوی ہے۔

حافظ ابن حجر ہیتمیؒ نے بھی “الفتاوى الفقهية الكبرى “میں مذکورہ روایت نقل کر کے لکھا ہے:”رواه الديلمي وفي سنده مجهول“. یہ  روایت دیلمیؒ نے تخریج کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے۔

فائدة :علامہ صفوری شافعی ؒ (المتوفی: ۸۹۴ھ) نے “نزهة المجالس ” میں یہ حدیث نقل کی ہے، لیکن فضیلت مختلف ہے، موصوف رقمطراز ہیں:

” وأن يقرأ أيضا إنا أنزلناه في ليلة القدر” لما ورد في الحديث: من قرأ إنا أنزلناه في ليلة القدر عقب وضوئه غفر له ذنوب أربعين سنة “.

ترجمہ:وضوکرنے والا “إنا أنزلناه في ليلة القدر ” پڑھے، کیونکہ حدیث میں ہے: جو شخص وضوکے بعد : “إنا أنزلناه في ليلة القدر “ پڑھ لے تو اس کے چالیس (۴۰) برس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

علامہ علی متقی ہندی ؒ نے “کنز العمال” میں بھی بحوالہ دیلمی ؒ عن انس ؓ یہ روایت نقل کی ہے۔

روایت پر ائمہ کا کلام:

1- امام سخاوی ؒ  کا قول

حافظ سخاوی ؒ “المقاصد الحسنة ” میں لکھتے ہیں :

“وكذا قراءة سورة “إنا أنزلناه ” عقب الوضوء لا أصل له، وإن رأيت في المقدمة المنسوبة للإمام أبي الليث من الحنفية إيراده مما الظاهر إدخاله فيها من غيره، وهو أيضا مفوت سنته كذا في الأصل “.

اسی طرح وضوکے بعد سورة “انا انزلناه“کی بھی کوئی اصل نہیں، اگر چہ وضو کے بعد کا یہ عمل میں نے امام ابو اللیث حنفیؒ کی جانب منسوب مقدمہ میں بھی پایا  ہے، بظاہر مقدمہ میں یہ کسی دوسرے نے داخل کر دی ہےنیز اس کا پڑھنا سننِ وضو کو فوت کرنے والا ہے۔

فائدہ : امام سخاوی ؒ فرمارہے ہیں کہ وضو کے بعد ”انا انزلناه“ میں مشغول ہو نا مسنون عمل کو فوت کرتا ہے، بظاہر امام سخاوی رحمہ اللہ کے کلام میں وضوکے بعد کے اس مسنون عمل کی طرف اشارہ ہے:

حضرت عمر ؓبن خطاب آپ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں: جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ دعا پڑھے : ” أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين”  اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں، جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔

2- اسماعیل بن محمد عجلونی ؒ   کا قول

موصوف نے ”کشف الخفاء ”  میں حافظ سخاوی ؒکے قول پر اکتفاء کیا ہے۔

3۔ علامہ محمد امیر مالکی ؒ کا کلام

آپ نے “النخبة البهية “ میں اسے “لا أصل “ کہا ہے۔

4۔ علامہ ابو المحاسن قاوقجی حنفیؒ  کا قول

موصوف نے “اللؤلؤ المرصوع “میں پہلے کسی کی جانب سے تفویت سنت کا قول نقل کیا، پھر لکھتے ہیں:

…. لكن حديث قراءة إنا أنزلناه ذكره الفقيه أبو الليث السمرقندي، وهو إمام جليل، وكذا ذكره غيره من علمائنا “.

” …لیکن وضوکے بعد “انا انزلناه“ پڑھنے کی روایت فقیہ ابو اللیث سمرقندیؒ نے ذکر کی ہے، اور وہ ایک بڑے امام ہیں، ان کے علاوہ بھی ہمارے علماء نے اس کو ذکر کیا ہے “۔

۵- ملا علی قاری ؒ کا قول

آپ “الأسرار المرفوعة ” میں حافظ سخاویؒ کا یہ قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

وأراد أنه لا أصل له في المرفوع، وإلا فقد ذكره الفقيه أبو الليث السمرقندي وهو إمام جليل ……

امام سخاوی ؒ کے قول: “لا أصل له “ سے مراد یہ ہے کہ اس روایت کی مرفوع ( آپ ﷺکا قول) روایتوں میں کوئی اصل نہیں، اگر امام سخاوی ؒکے قول کا یہ معنی نہ لیا جائے تو امام سخاویؒ کا یہ کلام درست نہیں ہو گا، کیونکہ فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ نے اسے ذکر کیا ہے ، اور وہ ایک بڑے امام ہیں، چنانچہ اسے مطلقا بے اصل کہنا مراد نہیں ہے، بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ آپ ﷺسے ثابت نہیں ہے …

۶- علامہ غزی ؒ  کا کلام

علامہ غزیؒ “الجد الحثيث “ میں لکھتے ہیں: “لا اصل لها وان اورد ذلك في المقدمة المنسوبة لابي الليث” یہ بے اصل روایت ہے، اگر چہ ابو اللیث کی جانب منسوب مقدمہ میں موجود ہے۔

۷- علامہ طحطاوی ؒ کا قول

علامہ طحطاوی ؒ (المتوفی: ۱۲۳۱ھ ) ، حافظ سخاوی ؒکا قول نقل کر کے لکھتے ہیں: ” ولفظه يدل على وضعه“روایت کے الفاظ اس کے من گھڑت ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

حافظ سیوطیؒ اور حافظ ابن حجر ہیتمیؒ کے اقوال ابتداء میں گذر چکے ہیں، یعنی آپ دونوں نے سند میں ایک راوی کو مجہول قرار دیا ہے، اور حافظ سیوطیؒ کی تصریح کے مطابق وہ راوی ابو عبید ہ ہے۔

ائمہ حدیث کے اقوال کا خلاصہ اور روایت کا حکم

آپ دیکھ چکے ہیں کہ حافظ سخاوی ؒکی متابعت میں علامہ عجلونی ؒ ،علامہ محمد امیر مالکؒی ، علامہ قاوقجیؒ ، حافظ غزیؒ ،علامہ طحطاویؒ  اور ملا علی قاریؒ  ان سب علماء نے اس حدیث کو بے اصل کہا ہے، اور امام سخاوی ؒ کے اس موقع پر بے اصل کہنے سے یہ مراد ہے کہ یہ روایت رسالت مآب ﷺسے مرفوعاً ثابت نہیں ہے ، جیسا کہ ملا علی قاری ؒ نے اس کی وضاحت کر دی ہے، بلکہ امام طحطاوی ؒ نے اس کے من گھڑت ہونے کی بھی تصریح کر دی ہے۔

ان تمام ائمہ کی تصریحات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مذکورہ روایت آپ ﷺ سے ثابت نہیں، چنانچہ رسالت مآب ﷺ کی جانب اس روایت کاانتساب درست نہیں ہے۔

نوٹ: واضح رہے کہ  یہ تفصیل صرف اس حیثیت سے تھی کہ آپ ﷺکے انتساب سے اس روایت کو بیان کر ناشر عاً  کیا مقام رکھتا ہے ؟ آپ جان چکے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے، لیکن بعض فقہاء خصوصا شوافع ؒ نے اپنی فقہی کتب میں وضو کے بعد اس عمل کو مستحب کہا ہے، احناف میں بھی بعض نے اسے مستحب لکھا ہے ، جیسے فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ ، اس لئے آپ ﷺ کی جانب انتساب سے قطع نظر فقہی حیثیت سے وضو کے بعد اس دعا کے پڑھنے کی کیا حیثیت ہے؟ یہ بحث ہمارے موضوع سے خارج ہے، کیونکہ ہم نے یہاں صرف انتساب بالرسول ﷺکی حیثیت سے کلام کیا ہے، حاصل یہ ہے کہ اس دعا کی فقہی حیثیت کے بارے میں فقہاء کرام سے رجوع فرمالیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ حدیث موضوع نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں صرف ایک راوی (ابوعبیدہ)مجہول ہےاور راوی کی جہالت مستلزمِ وضع نہیں اور علامہ سخاویؒ کے “لااصل له” کہنے سے مراد “لا اصل له صحيح“ہےیعنی اس کی کسی صحیح سند کے ساتھ اصل موجود نہیں گو ضعیف سند کے ساتھ اصل موجود ہو۔

الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ المعروف بالموضوعات الکبریٰ لملا علی القاری(ص:340)میں ہے:

٥١٦ – حديث : من قرأ في الفجر بـ (ألم نشرح )و (ألم تر كيف )لم يرمد .

قال السخاوي : لا أصل له .وكذا: «قراءة سورة إِنَّا أَنزَلْنَاهُ عقيب الوضوء».لا أصل له، وهو مُفوت سنته. انتهى .

وأراد أنه لا أصل له في المرفوع وإلا فقد ذكره الفقيه أبو الليث السمرقندي، وهو إمام جليل. وأما قوله: وهو مفوت سنته أي سنة الوضوء، ففيه أن الوضوء ليس له سنة مستقلة  كما حققه الغزالي، وإنما يستحب أن يصلي بعد كل وضوء، ولم يشترط أحد فوريتها بعده، فلا ينافي قراءة سورة وغيرها عقيب الوضوء قبل الصلاة. نعم، قيل: الأولى أن يصلي قبل أن تنشف أعضاء وضوئه.والله أعلم.

حلیہ  شرح منیہ لابن امیر حاج(1/107)میں ہے:

[م] وَأن يقرأ سورة (إِنَّا أَنزَلْنَاهُ ) مرة أو مرتين أو ثلاثا.

[ش] وفي غير ما نسخة لم يذكروا مرتين وكأنه سقط من قلم الناسخ، ثم في مقدمة أبي الليث: ثم يقرأ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) [القدر: 1] إلى آخره على أثر الوضوء؛ لأن النبي ﷺ كان يفعل هكذا. وروي عن رسوله أنه قال: من قرأ إنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) على أثر الوضوء مرة واحدة أعطاه الله تعالى ثواب خمسين سنة صيام نهارها وقيام ليلها، ومن قرأها مرتين أعطاه الله ما أعطى الخليل والكليم والرفيع والحبيب، ومن قرأها ثلاث مرات يفتح الله له ثمانية أبواب الجنة فيدخلها من أي باب شاء بلا حساب ولا عذاب». وروى أبو هريرة عن النبي ﷺ أنه قال: «من قرأ إنا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) على أثر الوضوء مرة واحدة كتبه الله من الصديقين، ومن قرأ مرتين كتبه الله من الشهداء والصالحين، ومن قرأ ثلاث مرات يحشره الله تعالى يوم القيامة في محشرالأنبياء عليهم السلام، انتهى.

وذكر الغزنوي في مقدمته هذين الخبرين أيضاً نحو ما ذكره أبو الليث، وقد سئل شيخنا حافظ عصره قاضي القضاة شهاب الدين الشهير بابن حجر العسقلاني رحمه الله عن هذه الجملة، فأجاب بما نصه: الأحاديث التي ذكرها الشيخ أبو الليث نفع الله تعالى ببركته ضعيفة والعلماء يتساهلون في ذكر الحديث الضعيف والعمل به في فضائل الأعمال ولم يثبت منها شيء عن النبي ﷺ لا من قوله ولا من فعله، انتهى

اعلاء السنن(1/139)میں ہے:

٨٦- عن أنس مرفوعا: «من قرأ في إثر وضوءه إنا أنزلناه في ليلة القدرة واحدة كان من الصديقين، ومن قرأها مرتين كان في ديوان الشهداء ، ومن قرأها ثلثا يحشره الله محشر الأنبياء، رواه الديلمي. (كنز العمال)

وإسناده ضعيف على قاعدة الحافظ السيوطي .

امداد الفتاویٰ (64/1) میں ہے:

س:…آپ نے بہشتی زیور میں لکھاہے کہ بعد وضو{ انا انزلناه} اور دعا پڑھنا چاہئے اور ملا علی قاری  ؒ لکھتے ہیں کہ اس کے ثابت ہونے کی حدیث موضوع ہے اور پڑھنا اس کے خلاف سنت ہے ۔آیا ہم کس کے قول کو تسلیم کریں اور آپ نے کسی صحیح روایت سے لکھا ہو تو جواب دیں۔

ج:… ’’ منیۃ المصلی‘‘ میں انا انزلناه‘پڑھنے کو لکھا ہے اور شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ نہیں لکھا کہ اس کا پڑھنا سنت یا ثواب ہے اور ملا علی قاری اگر خلافِ سنت کہتے ہیں تو جب کہ اس کو کوئی سنت سمجھے ورنہ کوئی حرج نہیں ،پس تعارض نہ رہا ۔

     فی رد المحتار تحت قوله واما الموضوع فلا یجوز العمل به  بحال واما لو کان داخلا فی اصل عام فلا مانع منه  لا لجعله حدیثا بل لدخوله تحت الاصل العام اھ

حاشیہ میں حضرت  مفتی شفیع صاحب ؒ فرماتے ہیں:

     حضرت مولانامد ظلہم العالی  کا جواب مبنی بر صحتِ بیانِ سائل ہے ،ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ نہ ملا علی قاری ؒ نے اس حدیث کو موضوع کہا اور نہ اس پر عمل کو خلافِ سنت بتلایا،جیسا کہ جناب مولانا عبد الحی صاحبؒ کی کتاب سعایہ سے یہ امر واضح ہے،چنانچہ انہوں نے لکھا ہے:    

وفی “المصنوع فی معرفة  الموضوع” لعلی القاری حدیث من قرأ فی الفجر بالم نشرح والم تر لم یرمد قال السخاوی :لا اصل له،وکذا قراءة  انا انزلناه عقیب الوضوء لا اصل له وهو مفوت سنته واراد السخاوی رحمه الله تعالى انه لا اصل له فی المرفوع والا فقد ذکره ابواللیث السمرقندی وهو امام جلیل واما قوله وهو مفوت سنته أی سنة الوضوء ففيه ان الوضوء لیس له سنة مستقلة کما حققه الغزالی وانما یستحب ان یصلی بعد کل وضوء ولم یشترط أحد فورية ما بعده ولا ینافی قراءة سورة وغیرها اھ۔ (سعايةص ۱۸۳ ج۱)  

  اس سے معلوم ہو اکہ اس کے موضوع ہونے کی نسبت ملا  علی قاری  ؒ کی طرف بالکل غلط ہے ،بلکہ سخاوی نے اس کی نسبت ایک تو” لااصل له “کہا تھا (موضوع انہوں نے بھی نہ کہا تھا)پس ملا علی قاری ؒ نے ان کے قول کی توجیہ کی،  اور دوسرے انہوں نے اس کو مفوت سنت کہا تھا (خلاف سنت نہ کہا تھا)علی قاری ؒ نے اس کا جواب دیا پس وه  قراءۃ  “انا انزلناه “کے حامی ہوئے  نہ کہ مانع،اس سے سائل کے بیان کی غلطی معلوم ہو گئی۔     اب سنو کہ سعایہ میں ہے:

     فی الحلية سئل عن احادیث ذکرها ابو اللیث فی مقدمته فی فضل قرأة سورة القدر بعد الوضوء لشیخنا الحافظ ابن حجر العسقلانی فاجاب بانه لم یثبت منها شئی عن رسول الله ﷺ لا من قوله ولامن فعله والعلماء یتساهلون فی ذکر الحدیث الضعیف والعمل به فی فضائل الاعمال اھ۔    

اس سے معلوم ہوا کہ حدیث قراءۃ سورۃ قدر ضعیف ہے نہ کہ موضوع اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سخاوی ؒکے قول” لااصل له “سے ا س کا موضوع ہونا ظاہر  نہیں ہوتا،  جب یہ امر معلوم ہوگیا تو اب سمجھو کہ شرح منیہ میں ہے :  

  ومن الآداب ان یقرأ بعد الفراغ من الوضوء سورة انا انزلناه مرة او مرتین او ثلا ثا کذاتوارث عن السلف وروی فی ذٰلک آثار لا بأس بها فی الفضائل اھ۔

     اور سعایہ میں ہے:   

 وفی المقدمة الغزنوية فی فروع الحنفية ان من المستحبات ان یقراء بعد الوضوء سورة انا انزلناه  ثلث مرات لقوله عليه الصلوة والسلام من قرأ انا انزلناه علی اثر الوضوء مرة کتب الله له عبادة خمسین سنة قیام لیلها و صیام نهارها ومن قرأها مرتین اعطاه الله مایعطی الخلیل والکلیم والحبیب ومن قرأ ثلث مرات یفتح الله له ثمانية ابواب الجنة فیدخلها من ای باب شاء بلا حساب و عذاب، وروی ایضا ۔(قال من قرأ {انا انزلناه فی لیلة القدر} على اثر الوضوء مرة کتبه الله  من الصدقین ومن قرأها مرتین کتبه الله من الشهداء ومن قرأها ثلث مرات يحشره الله تعالى مع الأنبياء انتهى)  

ان تمام تنصیصات  کے مجموعہ سے اتنا ضرور ثابت ہے کہ قراءۃ سورۃ ’’  انا انزلناه ‘‘بعد الوضوء اولی ہے اور اس میں اجر کی توقع ہے، گو ثواب مذکور فی الاحادیث کا اعتقاد جائز نہیں  کیونکہ یہ امر بلا نقل صاحب ِوحی کے معلوم نہیں ہو سکتا اور صاحبِ وحی سے اس کا ثبوت نہیں ہے،پس بہشتی زیور پر کچھ شبہ نہ رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved