- فتوی نمبر: 35-07
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
1973میں میرے والد صاحب (زید ) اور والدہ صاحبہ نے کچی آبادی مرضی پورہ میں واقع ڈھائی مرلہ کا ایک گھر جو دو کمروں، کچن اور ہاتھ روم پر مشتمل تھا خریدا جورجسٹری شد ہ نہیں تھا۔ گھر بہت خستہ حال تھا۔ بجلی، سرکاری پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات سے محروم تھا۔ میرے والد صاحب نے بجلی ، سر کاری پانی اور پھر گیس کے کنکشن لگوائے اور گھر کی ضروری مرمت اور تعمیر کر کے اُسے رہنے کے قابل بنایا۔
تقریباً 1995 میں محلے کے ایک شخص نے میرے والد صاحب کے جعلی دستخط اور شناختی کارڈ کی کاپی حاصل کر کے ایک سٹامپ پیپر بنوایا کہ زید نے اپنا گھر مجھے فروخت کر دیا ہے لیکن گھر خالی نہیں کر رہا ہے۔ جس کو بنیاد بنا کر اُس نے جھوٹا مقدمہ کر دیا جو تقریباً تین، چار سال تک چلا اور فیصلہ میرے والد صاحب کے حق میں ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد اُس علاقے کے کچھ با اثر زمیندار اور سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے اشخاص جو غریب لوگوں پر فر داً فر دا ً جھوٹے مقدمے کرتے تھے۔ وہ اپنے پیسے اور سیاسی اثر ورسوخ کی وجہ سے لوگوں کے گھروں پر قبضہ کر لیتے اور اُن کا سامان گھر سے باہر پھینک دیتے۔ بیچارے غریب اور مزدور لوگ مقد مے بازی اور اُن اشخاص کی غنڈہ گردی کی وجہ سے اُن سے صلح کر لیتے اور رقم ادا کر دیتے۔ اُن بااثر افراد میں سے ایک شخص نے ہم پر بھی مقدمہ دائر کر دیا جو کچھ سال بعد میرے والد صاحب کے حق میں ہو گیا۔ پھر اُسنے اپیل کی وہ بھی میرے والد صاحب کے حق میں ہوگئی۔ 1992 میں والد صاحب نے گھر کی تعمیر ومرمت کے لیے گھر کا ایک حصہ گرا کر تعمیر کرنا چاہا تو اس شخص نے پھر اپنی پھوپھی کے نام سے تیسری بار مقدمہ دائر کر دیا۔ والد صاحب 2007 میں یہ مقدمہ بھی جیت گئے کیونکہ میرے والد صاحب کے نام 1-PT اور یوٹیلیٹی بلز تھے جو میرے والد کی ملکیت کو ظاہر کرتے تھے۔ اُن لوگوں نے اُس کے بعد کوئی اور مقدمہ تو نہیں کیا لیکن غنڈہ گردی کی وجہ سے ہمیں گھر بھی نہیں بنانے دیا اور ہم اسی ٹوٹے پھوٹے گھر میں کئی سال رہتے رہے۔ اس دوران والد صاحب اور میں گھر کے مالکانہ حقوق کے لیے محکمہ اوقاف اور ایل ڈی اے دفاتر کے کافی عرصہ چکر لگاتے رہے لیکن سرکاری محکموں کی افسر شاہی ، رشوت اور سفارش کے بغیر ہم اس میں نا کام رہے۔
2012 میں، میں نے اپنے ایک دوست سے بات کی کہ ہمارا اُن لوگوں کے ساتھ ہی کوئی سمجھوتہ کروا دو کیونکہ اُس کے اُن لوگوں کے ساتھ قریبی اور گھر یلو تعلقات تھے۔ میرے دوست نے کہا ٹھیک ہے میں تم لوگوں کی رجسٹری بنوا دیتا ہوں لیکن وہ کسی اورحصہ دار سے بنواؤں گا۔ تم یہ رجسٹری اپنے نام سے بنوالو کیونکہ تمہارے والد صاحب سے یہ لوگ بہت چڑ کھاتے ہیں۔ رجسٹری بننے کے بعد کوئی بھی تمہیں تنگ نہیں کرے گا اور تم لوگ گھر بنا لینا۔ مجھے رجسٹری بنوانے کے معاملات کا بالکل بھی کوئی علم نہیں تھا کہ یہ کیسے اور کہاں سے بنتی ہے؟ اس لیے رجسٹری میں جو کچھ بھی لکھا گیا وہ میرے دوست نے ہی لکھوایا۔ اس رجسٹری بنوانے کے حوالے سے میں نے اپنے گھر میں کسی سے بھی کوئی بات نہیں کی تھی حتیٰ کہ اپنے والدین سے بھی نہیں کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اگر رجسٹری نہ بن سکی یا کوئی اور مسئلہ ہو گیا تو سب کی آس اور امید کو ٹھیس پہنچے ۔ میں نے رجسٹری بنوالی جس کا کل خرچہ 550,000 روپے ہوا ، جو صرف میں نے ہی برداشت کیا تھا اس میں کسی بھائی بہن کا ایک روپیہ بھی شامل نہیں تھا اور نہ ہی کسی سے پورے حصے کی کبھی بات ہوئی تھی۔ میں نے اپنے صرف دو بھائیوں کے نام رجسٹری میں لکھوائے کیونکہ باقی دو بھائیوں نے شادی کے بعد کافی سال پہلے کراچی میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ ان دو بھائیوں کے نام بھی رجسٹری میں لکھوانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ دومنزلہ گھر تعمیر کرنے لیے میرے پاس پوری رقم نہیں تھی میں نے سوچا کہ یہ بھائی پیسے ملا لیں گے تو دومنزلہ گھر بن جائے گا۔ لیکن گھر تین منزلہ بنانا پڑا کیونکہ ایک بھائی کی فیملی 8 افراد پر مشتمل تھی اور ہم 2 بھائی ، 4 بہنیں اور والدین تھے۔ تین منزلہ گھر بنانے کے لیے ہمیں قرض لینا پڑا جس کی وجہ سے گھر کی تعمیر کے اخراجات میں بہت اضافہ ہو گیا اور اس کی تعمیر مکمل ہونے میں بھی تقریباً 8 سے 9ماہ لگ گئے اور جو قرض لیا تھا وہ بھی بعد میں زیادہ تر مجھے ہی ادا کرنا پڑا۔ گھر کی تعمیر پر کُل خرچہ 16,73,964 روپے آیا جس میں ایک بھائی کے 331,000 روپے، دوسرے بھائی کے 482,385 روپے اور باقی میرے 860,579 روپے شامل تھے۔ اس میں رجسٹری کی رقم جو صرف میں نے ہی ادا کی تھی شامل نہیں ہے۔ گھر بننے کے تقریباً 6 ماہ بعد 2013 میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ گھر بیچنا چاہتے ہیں جس کی کل مالیت 72 لاکھ روپے لگی ہے۔ تو کیا یہ رقم صرف ہم تین بھائیوں میں فی کس اخراجات کے حساب سے تقسیم ہوگی یا پھر والدہ اور دوسرے بہن بھائی بھی حصہ دار ہونگے ؟ کیونکہ بہنیں اپنے حصے کا مطالبہ کر رہی ہیں کہ گھر تو والدین نے خریدا تھا اور اُسکی پہلی تعمیر اور مقدمات کے سارے اخراجات انہوں نے ہی برداشت کئے تھے اور تم نے رجسٹری کسی کو بتائے بغیر بنوائی تھی۔ اس وقت ہم 4 بھائی ، 5 بہنیں اور والدہ ہیں ایک بھائی کا انتقال 2024 میں ہو گیا تھا تو کیا اُن کی اولاد کا بھی کوئی حصہ ہوگا؟ کیونکہ میں نے پڑھا اور سُنا ہے کہ اگر بیٹا والد کے انتقال کے بعد فوت ہو تو پھر وراثت میں اُسکی اولا دکو بھی حصہ ملتا ہے۔ براہ مہربانی شریعت کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح : ہمارے گھر کا نظام مشترکہ نہیں ہے ۔ ہر بھائی کی فیملی الگ الگ ہے ۔والدہ اور بہن میرے ساتھ ہیں۔ہمارے مرحوم بھائی کی اہلیہ حیات ہیں اور ان کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں جو سب حیات ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں گھر کی رجسٹری کا خرچہ سب ورثاء پر ان کے حصے کے تناسب سے آئے گا کیونکہ اس کا فائدہ سب کو ہے اور تعمیر کا خرچہ جو آپ تین بھائیوں نے کیا ہے اس کے حقدار آپ تینوں ہی ہیں ۔ اور تعمیر کے خرچے کے حصول کا طریقہ یہ ہےکہ اس گھر کی دو قیمتیں لگوائی جائیں ۔ ایک قیمت موجودہ تعمیر کے ساتھ اور دوسری قیمت موجودہ تعمیر کے بغیر لگوائی جائے ۔ دونوں قیمتوں میں جو فرق ہو وہ آپ تینوں بھائیوں کے درمیان جنہوں نے اس کی تعمیر کا جس تناسب سے خرچہ اٹھایا ہے اسی تناسب سے تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد بقیہ رقم تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق درج ذیل طریقے پر تقسیم کی جائے گئی ۔ کل رقم کے 7200 حصے کیے جائیں گے جن میں سے آپ کی والدہ کو 1040 حصے(14.44 فیصد) ، چاروں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 840 حصے(11.67فیصد فی کس)، پانچ بہنوں میں سے ہر ایک کو 420 حصے(5.83فیصد فی کس) اور جس بھائی کا 2024 میں انتقال ہوا ہے اس کی بیوہ کو 105 حصے (1.46فیصد)اور مرحوم بھائی کے بیٹے کو 238 حصے(3.31فیصد) اور بھائی مرحوم کی تینوں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 119 حصے (1.65 فیصد فی کس) ملیں گے۔
فتاوی شامی ( 446/9) میں ہے :
(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية. (قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية.
فتاوی شامی (5/ 681) میں ہے:
«(ولو أعار أرضا للبناء والغرس صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه» (قوله مقلوعين) أو يأخذ المستعير غراسه وبناءه بلا تضمين المعير هداية، وذكر الحاكم أن له أن يضمن المعير قيمتها قائمين في الحال ويكونان له وأن يرفعهما إلا إذا كان الرفع مضرا بالأرض، فحينئذ يكون الخيار للمعير كما في الهداية .
الدر المختار مع رد المحتار (6/ 30) میں ہے :
«و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار (ويتملكه) بالنصب عطفا على ” يغرم “؛ لأن فيه نظرا لهما.»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved