- فتوی نمبر: 35-10
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > وضوء کا بیان
استفتاء
اس جدید دور میں ٹچ موبائل میں موجودقرآن پاک کی ایپ سے تلاوت کرنے کے لیےکیا وضو ضروری ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تلاوت کرنے کے لیے تو وضو ضروری نہیں البتہ قرآن کو چھونے کے لیے وضو ضروری ہے اور جب قرآن کریم موبائل کی سکرین پر کھلا ہوا ہو تو اس وقت اگرچہ بعض حضرات نے اس کھلے ہوئے صفحے کو چھونے کی اجازت دی ہے لیکن ہماری تحقیق میں صحیح یہی ہے کہ اس وقت قرآن (الفاظ اور مذکورہ صفحے کے بیاض/ سادہ حصے)کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں اگرچہ ان نقوش کو کسی کاغذ پر لکھے ہوئے حروف کی طرح قرار حاصل نہیں ہے لیکن عرفاً ان نقوش کو سکرین پر موجود سمجھا جاتا ہے اور اس طرح کی چیزوں میں حکم کا مدار عرف پر ہوتا ہے اس لیے موبائل کی سکرین پر موجود نقوش حروفِ قرآنی کے حکم میں ہیں نیز سکرین پر اگرچہ صرف ایک صفحہ نظر آتا ہے لیکن بقیہ مصحف حکماً موجود ہے لہذا سکرین پر لکھے ہوئے حروف مفرد ورق پر لکھے ہوئے حروف کی طرح نہیں ہیں بلکہ مصحف کے حکم میں ہیں اس لیے موبائل کی سکرین پر نظر آنے والے صفحے (الفاظ اور بیاض / سادہ حصے) کو چھونا جائز نہیں ہے ۔
امداد الفتاویٰ(1/146)میں ہے:
سوال : فونوگراف جوایک آلہ نقل الصوت ہے اس میں تقاریرنغمات موسیقی اورقرّاء سے رکوعات قرآن مجیدکی آوازیں ایک خاص ایجادسے بندکی جاتی ہیں اورپھروہی اصوات تنہائی میں مجالس میں تماشاگاہوں میں آلہ مذکورکورکھ کرسنتے ہیں تواس طرح قرآن مجیدکی آوازکااس میں بندکرنااور پھر فونو گراف سے سننادرست ہے یانہیں اورفونوگراف باجاہے یاکیاہے اورکلام مقدس کی اس قسم کی آوازقرآن ہوگی یاکیاکہیں گے۔ حضرت امام اعظم ؒفقہ اکبرمیں فرماتے ہیں ۔ والقرآن في المصاحف مکتوب، وفي القلوب محفوظ وعلی الألسن مقرو۔ یہ تعریف آوازمذکورپرنفی میں صادق آئے گی یااثبات میں بھی، یہ امربھی قابل گزارش ہے کہ جس آلہ سے اس کے پلیٹ پرصوت بھری جاتی ہے اس سے اس کی پلیٹ پرکچھ خطوط دوائرکے طورپربن جاتے ہیں اورجب اس کامشین چلایاجاتاہے تواس کاایک پرزہ جس کے آخرمیں ہیرے کی کنی لگی ہوتی ہے وہ کنی اس دوائرپرگشت کرتی ہے اوراس سے صوت پیداہوتی ہے وہ خطوط آپس میں کچھ ممتازنہیں معلوم ہوتے بلکہ ہرپلیٹ پرخطوط یکساں سے معلوم ہوتے ہیں ممکن ہے کہ فی الواقع کچھ تمایزہولیکن محسوس نہیں ہوتاچلانے والے کویادرکھناپڑتاہے کہ اس ہیئت پرفلاں چیزمنقش ہے اوراس پردوسری چیزپس ان نقوش کاکیاحکم ہے اوریہ توظاہرہے کہ چونکہ یہ آلہ لہوہے نہ کہ تذکراس لئے بھرنااورسنناخلاف ادب قرآنی ہے لیکن اگرکوئی بھردے تواس پلیٹ کابغیروضو کے چھوناجائزہے یانہیں اورتعریف قرآن کی اس پرصادق ہے یانہیں اوریہ بھی ظاہرہے کہ یہ آلہ خودباجانہیں ہے بلکہ محض نقل صوت کرتاہے اگرباجابھراجائے توباجے کی آوازنکلتی ہے ورنہ جوبھرا جائے اس لئے مطلقاباجا نہیں کہاجاسکتا۔ بہرحال امیدہے کہ اس کی نسبت حضرت اقدس اپنی رائے تحریرفرمائیں گے؟
الجواب : ان نقوش میں جب تک پڑھے جانے کی صلاحیت ثابت نہ ہوحروف مکتوبہ کے حکم میں نہیں اس لئے ان کامس کرنامحدث وجنب کوجائزہے جیسادماغ میں ارتسام الفاظِ قرآنیہ کاہوتاہے اوراس دماغ کامس کرناجائزہے البتہ اگروہ پڑھے جانے لگیں تواس وقت دلالت وضعیہ غیرلفظیہ کی وجہ سے ان کاحکم حروف مکتوبہ کادیاجائے گا ۔ یہ حکم تونقوش کاہے اورجوآوازاس سے نکلتی ہے وہ تلاوت نہیں ہے بلکہ نقل اورعکس تلاوت کاہے مشابہ صوت طیراورصداکے پس اس کاحکم بھی تلاوت کاسانہ ہوگااورآپ کی یہ رائے صحیح ہے کہ اس کاحکم باجہ کاسانہیں ہے بلکہ تابع ہوگامحکی عنہ کے جوازوعدم میں لیکن چونکہ مقصوداس سے تلہی ہے اس عارض کی وجہ سے قرآن بھرنااس میں جائزنہ ہوگا،اسی طرح سننابھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved