- فتوی نمبر: 34-280
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
وراثت سے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا ہے ۔ ہمارے دادا زید مرحوم کی کچھ جائیداد چکوال کے قریب گاؤں میں ہے جو تقریبا ً 70-75 مرلہ کے قریب ہے جس میں سے آٹھ دس مرلہ ان کی موروثی تھی باقی انہوں نے خود خریدی تھی ۔ پہلے دادی کا انتقال ہوا پھر دادا کا انتقال ہوا۔ دادا کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے تھے ۔ دادا کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن میں سے میرے والد سمیت دو بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہیں۔ آج سے تقریبا ً چالیس پہلے ہمارے ایک چچا خالد صاحب کا انتقال ہوا اس وقت ان کی بیوی ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ان کے وارث تھے ۔ ان کے بیٹے نے ان کے انتقال کے بعد دادا کی جائیداد میں سے اپنے والد کا حصہ وصول کرلیا تھا۔اور اب وہ اس کو فروخت بھی کر چکے ہیں۔اس کے بعد 2010 میں پنڈی والے چچا بکر صاحب کا انتقال ہوا ۔ ان کا ذاتی گھر پنڈی میں تھا ۔ ان کی اولاد نہیں تھی ۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ میرا موروثی حصہ میرے بہن بھائیوں میں تقسیم کیا جائے ( ان کے انتقال کے وقت ان کے چار بھائی اور ایک بہن حیات تھیں ) ۔ ان کی بیوی بھی حیات ہیں لیکن اس میں سے ان کو حصہ نہیں دیا ۔
البتہ پنڈی والے ذاتی گھر کے متعلق یہ وصیت کی کہ اس کی مالک میری بیوی ہے۔ اس کے انتقال کے بعد یہ مکان اللہ کی راہ میں وقف ہے ۔ انہوں نے ایک وصیت نامہ بھی تحریر کیا تھا جس کی متعلقہ عبارت درج ذیل ہے:
ہبہ وراثت
“میں ہبہ کنندہ ایک لاولد انسان ہوں میری غیر منقولہ جائیداد میں ساڑھے چار مرلے پر تعمیر ایک عدد مکان ڈبل سٹوری ……. ہے، منقولہ جائیداد میں کچھ رقم الائیڈ بینک ………کے تحت چل رہی ہے اور قومی بچت راولپنڈی (لال کرائی) میں آج کی تاریخ میں پانچ عدد ڈیفنس سرٹیفکیٹ (Defence Certificate) ہیں جن کی فی سرٹیفکیٹ مالیت دس ہزار ہے ان کے نمبر درج ذیل ہیں:………
اس کے علاوہ آج کی تاریخ میں دو عدد بہبود سرٹیفکیٹ ہیں جن کی مالیت اور نمبر درج ذیل ہیں:
…………..
میں نے یہ دونوں بہبود سرٹیفکیٹ اپنی بیوی کی رقم سے خریدے ہیں جبکہ یہ دونوں سرٹیفکیٹس میرے نام ہیں، میری بیوی کو یہ رقم ان کے والد مرحوم …….نے جائیداد میں سے حصہ کے طور پر اپنی زندگی میں دی تھی موت ایک یقینی امر ہے جس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کسی انسان (مسلمان) کو موت کا وقت معلوم ہے اگر میری موت میری بیوی سے پہلے واقع ہوجائے تو میری تمام مذکورہ بالا جائیداد کی حقدار میری بیوی ہوگی ……..اسی طرح میری پنشن کی حقدار بھی میری بیوی ہی ہوگی میری آرمی پنشن کا اکاؤنٹ نمبر…….ہے جوکہ GPO چکوال سے وصول کرتا ہوں اور اولڈ ایج پنشن جس کا نمبر …….. ہے اور نیشنل بینک شالیمار پلازہ پنڈی سے وصول کرتا ہوں ۔میری بیوی کی موت کی صورت میں بشرطیکہ اس کی موت میرے سے بعد واقع ہو تو جائیداد کی تقسیم اس طرح ہوگی:
۱۔مکان کو فروخت کرکے اس کی وصول شدہ رقم کے دو حصے کیے جائیں ایک حصہ کی آدھی رقم (2/1) میرے نام اور اسی طرح دوسرے آدھے (2/1) کی رقم میری بیوی کے نام کسی خیراتی ادارے یا مسجد میں ادا کی جائے۔
ب۔ رقم کا دوسرا حصہ (2/1) میرے حیات بہن بھائیوں میں شرعی طریقہ سے تقسیم کیا جائے (آج کی تاریخ میں حیات میری چار بھائی اور ایک بہن ہے) مذکورہ بالا منقولہ جائیداد کے علاوہ میرے اکاؤنٹ (الائیڈ بینک ڈھوک سیداں برانچ راولپنڈی ) میں دو لاکھ میری بیوی کا بھی جمع ہے یہ رقم اس کی مرحومہ بہن نے اپنی زندگی میں اپنے والد کی معرفت ادا کی تھی جوکہ میری بیوی نے اپنی والدہ کے نام حج کی ادائیگی میں استعمال کرنی ہے اگر زندگی میں حج نصیب ہوا تو یہ رقم حج کی ادائیگی میں خرچ ہوجائے گی بصورت دیگر اگر میری بیوی کی موت میرے سے پہلے واقع ہونے کی صورت میں یہ دو لاکھ کی رقم ذاتی طور پر کسی خیراتی ادارہ یا مسجد میں بیوی کے نام ادا کروں گا یا پھر ان کے حیات بھائیوں کی خواہش پر ان کو واپس لوٹادوں گا اگر میری موت بیوی سے پہلے واقع ہوئی تو ایسی صورت میں میری بیوی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق اس کو مصرف میں لانے کی مجاز ہوگی”
ہمارے ایک تایا عمر چکوال سے گوجر خان شفٹ ہوگئے تھے ۔ ان کا انتقال 2016 میں ہوا ۔ ان کے ورثاء میں بیوی ( جو کہ اب فوت ہوچکی ہیں )،دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔انہوں نے کہہ دیا تھا کہ میرے موروثی حصہ کے مالک وہ دو بھائی ہیں جو گاؤں میں اس گھر میں رہ رہے ہیں ۔ اور سادہ کاغذ پر اس کی ایک تحریر بھی لکھ دی تھی (جس کی نقل ساتھ لف ہے) ۔اس تحریر کی متعلقہ عبارت یہ ہے کہ “میں عمر ولد زید ساکن ۔۔۔۔ یہ تحریر کررہا ہوں کہ گاؤں ڈھاب خوشحال کی رہائشی زمین میں میرا جو حصہ ہے میں اپنے بھائیوں حاجی ضیاء اور واجد کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں میرے بعد کوئی مطالبہ کا حق نہیں رکھتا ” ان دو بھائیوں میں سے ایک ہمارے والد صاحب اورایک ہمارے تایا ضیاء تھے ۔ضیاء صاحب کی صرف بیٹیاں ہی تھیں ۔ اس لیے انہوں نے اپنا ذاتی موروثی حصہ تو خود ہی رکھا لیکن تایا عمر کی طرف سے ملا ہوا حصہ ہمارے والد کو دے دیا ۔لیکن خاندان کے لوگوں کی باتوں کی وجہ سے ہم نے تایا عمر کے بیٹوں کو ان کے والد کے مکمل حصہ ( جو آٹھ دس مرلہ تھا ) بشمول اس حصہ کے جو حاجی ضیاء کو دیا تھا ، اس کی رقم ادا کرکے معاملہ صاف کردیا تھا تا کہ کسی کو بولنے کا موقع نہ ملے ۔واضح رہے کہ ہمارا مشترکہ نظام ہے۔ والد صاحب ذمہ دار ہیں، ہم بھائی جو کماتے ہیں وہ ان کو دے دیتے ہیں اس لیے یہ ادائیگی انہی کی طرف سے تھی۔
تایا ضیاء کا انتقال تقریبا 2022 میں ہوا تھا ۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں ۔ بیوی پہلے ہی انتقال کر گئی تھی ۔ اب ميرے والد صاحب مسمی واجد ، ایک چچا رضوان اور ایک پھوپھی فاطمہ حیات ہیں ۔ ہماری والدہ حیات ہیں اور ہم دو بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔چچا رضوان کی اہلیہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ورثاء میں ہیں ۔ اور پھوپھی کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ان کے شوہر نہیں ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ زید کے فوت شدہ اور زندہ ورثاء کی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے دادا زید مرحوم کی وراثت کے 11 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو دو حصے مرحوم زید کے ہر بیٹے کے ہوں گے اور ایک حصہ مرحوم زید کی بیٹی کا ہوگا۔مرحوم زید کے بیٹے خالد کا حصہ چونکہ اس کے بیٹے نے وصول کر لیا ہے لہذا ان کے حصے میں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔
زید مرحوم کے بیٹے بکر کے اثاثوں میں سے الائیڈ بنک کی رقم اور بہبود سرٹیفیکیٹ کی رقم چونکہ ان کی بیوی کی تھی اس لیے یہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی بلکہ ان دونوں کی حقدار ان کی بیوی ہی ہے۔اور محکمے کی طرف سے ملنے والی پنشن میں ضابطہ یہ ہے کہ ان میں سے جو پیسے مرحوم کی وفات کے وقت ان کی ملک میں تھے یا جن میں ان کا حق ثابت ہو چکا تھا ان میں تو وراثت جاری ہوگی اور وہ تمام ورثا ءمیں تقسیم ہوں گے قطع نظر اس سے کہ حکومت ان کو کس کے نام جاری کرتی ہے جبکہ وہ پیسے جو حکومت کی طرف سے ہمدردانہ بنیادوں پر دیے جاتے ہیں وہ حکومت کی پالیسی کے مطابق اسی وارث کو دیے جائیں گے جس کے نام حکومت ان کو جاری کرے۔اس کی مزید تفصیل معلوم کرنی ہو تو جو جو فنڈ حکومت جس نام سے جاری کرتی ہے اس کی الگ سے تفصیل مہیا کرکے معلوم کی جاسکتی ہے۔
بکر نے اپنی وراثت کے بارے میں جو وصیت کی ہے اس پر عمل کرتے ہوئےکل وراثت کا صرف ایک تہائی حصہ کسی خیراتی ادارے یا مسجد میں دے دیا جائے گا ۔ اور جو وصیت انہوں نے اپنے ورثاء کے لیے کی ہے چاہے بیوی کے لیے ہو یا حیات بہن بھائیوں کے لیے کی ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ان کی بیوی اور ان کے بہن بھائی اس وصیت پر راضی ہوں تو ان کی وصیت پر عمل کیا جائے گا اور اگر وہ ان کی وصیت کے مطابق عمل پر راضی نہ ہوں تو کل وراثت کے 12 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 3 حصے ان کی بیوی کو ملیں گے اور 2،2 حصے ہر بھائی کو ملیں گے اور 1 حصہ ان کی بہن کو ملے گا۔
زید مرحوم کے بیٹے عمر نے اپنے بھائیوں حاجی ضیاء اور واجد کے حق میں جو دستبرداری کی ہے اس کا شریعت میں کچھ اعتبار نہیں لہذا ان کی وراثت ان کے بیوی بچوں میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی۔ اور مذکورہ صورت میں جو حصہ دستبرداری کے نتیجے میں ضیاء اور واجد کو ملا تھا وہ چونکہ عمر کے بیٹوں کو پیسے دے کر واجد نے خرید لیا ہے اس لیے خریدنے کی وجہ سے (نہ کہ دستبرداری کی وجہ سے) وہ واجد کا ہوگا لہٰذا عمر کے بیٹوں پر لازم ہے کہ وہ اس حصے کی قیمت میں سے اپنی بہنوں کا حصہ ان کو ادا کریں ۔
زید مرحوم کے بیٹے ضیاء کی وراثت کے 45 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 10،10حصے ضیاء کی ہر بیٹی کو ملیں گے اور 6،6 حصے دو بھائیوں ( واجد اور رضوان) میں سے ہر ایک کو ملیں گے اور تین حصے ضیاء کی بہن فاطمہ کو ملیں گے۔
نوٹ : آپ کے والد واجد اور آپ کے چچا رضوان اور آپ کی پھوپھی فاطمہ چونکہ فی الحال حیات ہیں اس لیے ان کی وراثت کی حتمی تقسیم فی الحال نہیں بتائی جا سکتی۔ لہذا جب ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو اس وقت ان کے ورثاء کی تفصیل بتا کر مسئلہ دوبارہ معلوم کر لیا جائے۔
غمز عيون البصائر فی شرح الأشباه والنظائر للحموی (3/ 354) میں ہے :
لوقال الوارث تركت حقي لم يبطل حقه إذالملك لا يبطل بالترك” وفي شرح الحموي عليه” اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكاً لازماً لم يبطل بذلك كما لومات عن ابنين فقا ل أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عيناً فلا بد من التمليك وإن كا ن ديناً فلا بد من الإبراء .
فتاوی شامی(6/656) میں ہے :
(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved