- فتوی نمبر: 34-283
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
چور پر حد سرقہ جاری کرنے سے قبل ہاتھ کو نشہ دینا تاکہ درد محسوس نہ کریں شرعاً کیسا ہے ؟یعنی حد سرقہ میں ایلام اور لوگوں کیلئے سبق اور عبرت دونوں حد کا حصہ ہے یا ایک؟
وضاحت مطلوب ہے: چوری کی حد جاری کرنا حکومت کا کام ہے آپ کو اس سوال کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
جواب وضاحت: میں اصول الشاشی پڑھاتا ہوں ۔اصول الشاشی میں “فاقطعوا ایديهما”پڑھاتے وقت طالب علم نے یہی سوال کیا تو میں نے اس سے کہا کہ معلوم کرکے بتادوں گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حد سرقہ میں اصل مقصود ہاتھ کاٹنا ہے ایلام (تکلیف پہنچانا) اصل مقصود نہیں ہے اس لیے اگر چور کے ہاتھ کو کاٹتے وقت ہاتھ کو سن کر دیں کہ جس سے اس کو درد کا احساس نہ ہو جائز ہے۔
توجیہ: اگر چور کا دایاں ہاتھ شل ہو تو بھی اس کا دایاں ہاتھ کاٹا جاتا ہے حالانکہ اگر ایلام مقصود اصلی ہو تو اس صورت میں ہاتھ کاٹنا بے کار ہے۔
شرح مختصر طحاوی للجصاص (6/322) میں ہے:
مسألة: [إذا كان السارق أشل اليمنى]
قال أبو جعفر: (وإن كان أشل اليد اليمنى، صحيح اليسرى: قطعت يمينه الشلاء).
قال أبو بكر: وذلك لأن نقصان اليمنى لا يمنع قطعها، إذ لو كانت صحيحة مستحقة للإتلاف بالقطع، فيقطع ما بقى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved