- فتوی نمبر: 34-286
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد صاحب کا شہر میں سات مرلے کا مکان تھا والد صاحب کی وفات ہوئی تو ہم تین بھائی اور دو بہنیں تھیں۔میری والدہ اور دادا کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہوگیا تھا، دادی اماں والد صاحب کے بعد فوت ہوئیں، والد صاحب کی چار بہنیں ہیں ، کوئی بھائی نہیں ہے۔ والد صاحب کی ایک بہن بھی فوت ہو گئی ہے جس کا انتقال والد اور دادی اماں کی زندگی میں ہوا تھا ۔ (1) کیا ان کا یا ان کی اولاد کا بھی حصہ ہے ؟(2) اب اس مکان میں کس کس کا حصہ بنتا ہے؟(3) اور کس طرح حصہ تقسیم کرنا ہے؟
تنقیح: پہلے دادا ابو فوت ہوئے پھر والد صاحب فوت ہوئے اور پھر دادی اماں فوت ہوئی ، دادی کی وفات کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی نہیں تھا البتہ دادی کا ایک بھائی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ والد کی جس بہن کا انتقال والد اور دادی کی زندگی میں ہوگیا تھا اس کو وراثت میں سے کچھ نہ ملے گا۔البتہ دیگر ورثاء اپنی رضامندی سے مرحوم بہن کے بچوں کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
2۔ مرحوم (والد ) کی اولاد اور اس کی وہ بہنیں جو دادی کے انتقال کے وقت زندہ تھیں وہ وارث ہوں گی۔
3۔ مذکورہ صورت میں مرحوم ( والد) کےترکہ (مکان) کو 432 حصوں میں تقسیم کرکے اس کے تین بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 96،96حصے (22.222فیصد فی کس ) ، دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 48،48 حصے(11.111فیصد فی کس ) اور تین بہنوں میں سے ہر بہن کو 16،16حصے (3.704 فیصد فی کس) ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved