• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دلالی کے متعلق جاری شدہ فتوے پر سوال کا جواب

استفتاء

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ  زید کا کپڑے کا   ایک جائز کاروبار ہے،بکرا سے کہتا ہے کہ میں آپ کے کاروبار کی طرف لوگوں کی رہنمائی کروں گا اور گاہک آپ کے پاس بھیجوں گا اس گاہک سے جو بھی نفع آپ کو ہوگا اس میں دس فیصد میرا کمیشن ہوگا ۔

اس مسئلے میں زید اور بکر کا اختلاف ہے ،زید کا موقف ہے کہ فیصد کے حساب سے یعنی دس فیصد کمیشن لینا جس کاسوال میں ذکر کیا ہے جائز ہے ،بشرطیکہ گاہک کے ساتھ غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام نہ لیا جائے اور دکاندار کمیشن لینے کی وجہ سے سامان مارکیٹ کے ریٹ سے زیادہ پر فروخت نہ کرے۔

شامی (6/63) میں ہے:

مطلب في أجرة الدلال   تتمة قال في التاترخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم

 وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام

بکر کا موقف ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے جو کاروبار حلال و جائز ہو اس میں گاہک مہیا کرنے والے کے لئے اس کے عمل کے عوض اجرت مقرر کرنا جائز ہے ،بشرطیکہ( اجرت )  اس طرح معلوم اور متعین ہو کہ اس میں نزاع کا اندیشہ نہ ہو ۔

صورت مسئولہ میں زیداور عمر کا یہ معاملہ کرنا کہ میں آپ کے کاروبار کی طرف لوگوں کی رہنمائی کروں گا اور گاہک آپ کے پاس بھیجوں گا یہ دلالی  ہے ،اس کے بارے میں دس فیصد کمیشن مقرر کرنا جائز نہیں ،کیونکہ یہ اجرت مجہول ہے ، ہوسکتا ہے کہ کاروبار میں نفع نہ ہویا جو نفع ہو اس کی مقدار دلال کو معلوم نہ ہو ،اس لیے نزاع کا اندیشہ  بہرحال ہے اس لیے  جائز نہیں۔

شامی(6/37،طبع ایچ ایم سعید) میں ہے:

قال في البزازية اجرة السمسار والمنادي والحمامي والصکاک وما لايقدر فيه الوقت ولاالعمل تجوز لما کان للناس به حاجة ويطيب الاجر الماخوذ لو قدر اجر المثل

زیداور بکر دونوں کے اختلاف کا خلاصہ یہ ہے کہ زید  نفع میں سے مخصوص فیصد  کی صورت میں کمیشن کو جائز قرار دیتا ہے اور بکر متعین رقم کو جائز کہتا ہے۔ مثلاایک سوٹ میں سو روپے کمیشن متعین کرے ۔

مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں کہ جمہور فقہاء احناف کے نزدیک ان دونوں میں سے کون سی صورت جائز ہے ؟

الجواب: حنفیہ کے نزدیک زید کا مؤقف درست نہیں، کیونکہ کمیشن ایجنٹ کے لیے نفع میں سے مخصوص فیصد مقرر کرنا درست نہیں اور زید نے اپنے حق میں جو دلیل ذکر کی ہے وہ کل  ثمن میں سے فیصدی حصہ مقرر کرنے سے متعلق ہے نہ کہ نفع میں سے۔ بکر کا مؤقف متقدمین فقہائے حنفیہ کے مطابق درست ہے لیکن متاخرین فقہائے حنفیہ کے مطابق درست نہیں اور بکر نے اپنے حق میں جو دلیل ذکر کی ہے اس میں متقدمین  حنفیہ کے مؤقف کا ذکر ہے جبکہ زید کی ذکر کردہ دلیل میں متاخرین فقہائے حنفیہ کا مؤقف ذکر کیا گیا ہے۔

نوٹ: دلال اور کمیشن ایجنٹ کی اجرت کے جائز ہونے کی ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ فریقین کو معلوم ہو کہ درمیان والا شخص کمیشن ایجنٹ یا دلال ہے۔

فتاوی ہندیہ(4/ 451) میں ہے:

دفع ثوبا إليه وقال بعه بعشرة فما زاد فهو بيني وبينك قال أبو يوسف رحمه الله تعالى إن باعه بعشرة أو لم يبعه فلا أجر له وإن تعب له في ذلك ولو باعه باثني عشر أو أكثر فله أجر مثل عمله وعليه الفتوى هكذا في الغياثية

سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا فتویٰ میں پوچھے گئے سوال پر دیئے گئے جواب کے بارے میں ایک بات یہ پوچھنی ہے کہ حنفیہ متقدمین کا مذہب اس بارے میں کیا ہے کہ جو دلال ہے وہ اگر اپنی اجرت ایسے طے کرتا ہے کہ جتنے کی چیز بکی اس میں اتنے فیصد میری اجرت ہوگی، تو آیا متقدمین حنفیہ کے نزدیک یہ صورت درست ہے  یا نہیں؟ اور متاخرین  کے نزدیک اس صورت کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

متقدمین حنفیہ کے نزدیک مذکورہ صورت جائز نہیں جبکہ متاخرین حنفیہ کے نزدیک مذکورہ صورت جائز ہے۔ متقدمین حنفیہ کے نزدیک مذکورہ صورت کے جائز نہ ہونے کی درج ذیل وجوہات ہیں۔

ⅰ۔مذکورہ عمل کے انجام دینے (یعنی چیز کے بیچنے) میں کتنا وقت لگے گا اس میں جہالت فاحشہ ہے یعنی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ چیز ایک آدھ دن یا اس سے بھی کم وقت میں بک جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بکنے میں کئی مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ جائے۔

ⅱ۔مذکورہ عمل دلال کی قدرت میں نہیں کیونکہ کسی چیز کا بکنا خریدار کے پائے جانے پر موقوف ہے اور خریدار کا پایا جانا دلال کی قدرت اور اختیار میں نہیں ہے دلال صرف کوشش کرتا ہے اور کوشش کے باوجود ہو سکتا ہے کہ خریدار نہ ملے۔

ⅲ۔عقد کے وقت اجرت مجہول بھی ہے اور موہوم(غیر یقینی) بھی ہے۔موہوم اس طرح ہے کہ اگر چیز نہ بکی تو دلال کو محنت کے باوجود اجرت نہ ملے گی اور بک گئی تو اجرت ملے گی الغرض اجرت کا ملنا موہوم(غیر یقینی)ہے۔

اور مجہول اس طرح ہے کہ فی الحال یہ معلوم نہیں کہ یہ چیز کتنے میں بکے گی کیونکہ قیمت کی کم و بیش ہونے سے فیصد پر فرق پڑے گا مثلاً ثمن کے ایک فیصد پر معاملہ ہوا اور چیز 100 روپے میں بکی تو اجرت ایک روپیہ ہوگی، 200 میں بکی تو دو روپے ہوگی۔لہذا عقد کے وقت اجرت مجہول(نامعلوم)ہے۔

متاخرین کے نزدیک مذکورہ صورت کے جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت کا عرف ہے اور عرف کی وجہ سے اجرت کا مجہول اور موہوم ہونا وغیرہ مفضی الی النزاع نہیں رہا جبکہ فساد کی اصل علت مفضی الی النزاع ہونا تھا۔

المحیط البرہانی (16/47) میں ہے:

وإذا دفع الرجل الحر إلى سمسار درهماً وأمره أن يشتري له كذا وكذا على أن يكون الدرهم المدفوع إليه، أو دفع إليه ثوباً، وأمره أن يبيعه ويكون هذا الدرهم له أو استأجر الرجل ليبيع له أو يشتري فهذا فاسد؛ لأن البيع والشراء قد يتمان بكلمة واحدة، وقد يتمان بكلمات، فكان المعقود عليه مجهولاً

المبسوط للسرخسی  (18/89) میں ہے:

وإذا دفع الرجل ‌إلى ‌سمسار ‌ألف ‌درهم وقال اشتر بها زطيا لي بأجر عشرة دراهم فهذا فاسد؛ لأنه استأجره لعمل مجهول فالشراء قد يتم بكلمة واحدة وقد لا يتم بعشر كلمات، ثم استأجره على عمل لا يقدر على إقامته بنفسه فإن الشراء لا يتم ما لم يساعده البائع على البيع

الاصل للشیبانی (3/457) میں ہے:

وقال أبو حنيفة: إذا دفع الرجل إلى الرجل ألف درهم فقال: اشتر لي بها ثوباً زُطّياً بأجر عشرة دراهم، فإن هذا فاسد لا يجوز. وكذلك إن سمى له الثياب فقال: مائة ثوب زطي فإنه فاسد لا يجوز أيضاً، من قبل أن الشرى ليس له وقت، ولا يدري أيشتري في شهر أو في سنة أو أقل من ذلك أو أكثر، وليس هو بعمل معلوم مثل غسل ثوب ومثل خياطة ثوب. ألا ترى أنه يتيسر له الشرى فيشتري فيفرغ منه في يوم واحد، أو يتعذر عليه فلا يفرغ منه في شهر أو أكثر. وكذلك السماسرة في شرى الثياب كلها والطيالسة  وغير ذلك من أنواع الثياب وغيرها.

درر الحکام (1/429) میں ہے:

‌وإذا ‌لم ‌تبين ‌المدة تكون الإجارة فاسدة وإذا لم ينتفع بها حقيقة فلا تلزم أجرة وعلى ذلك فلو استأجر شخص ظئرا على أن ترضع ابنه إلى أن يمشي فالإجارة فاسدة ويلزم أجر المثل في المدة التي تكون أرضعت فيها الصبي.

كذلك إذا قال رجل لدائنه ابق ساكنا في داري إلى أن أؤديك دينك فالإجارة فاسدة وإذا سكن الدائن لزمه أجر المثل: (الخيرية، والكفوي) .

إلا أنه لا يلزم تعيين المدة في استئجار السمسار والدلال والاغتسال في الحمامات وما إلى ذلك مما لا يمكن تعيين العمل والوقت لها: أي أنه وإن لم تعين فيها المدة فالإجارة صحيحة لحاجة الناس إليها وكل شيء تمس الحاجة إليه فالقياس فيه الجواز (رد المحتار، الباجوري)

درر الحکام(1/557) میں ہے:

استثناء: إنه ‌وإن ‌لزم ‌في ‌إجارة الآدمي بيان مدة الإجارة، أو تعيين العمل، كما ذكر في المجلة إلا أنه يستثنى من ذلك السمسار والدلال والحمامي والحكاك ومن إليهم ممن لا يمكن تقدير الوقت أو العمل في استئجارهم، ويصح استئجارهم بلا بيان الوقت والمدة استحسانا لاحتياج الناس إليهم

امداد الاحکام (3/606)میں ہے:

سوال:(الف) ایک شخص زید ہے، دوسرا بکر ہے،تو زید نے بکر سے کہا کہ ہمارے پاس سودا ہے،اور اگر سودا کو تم اپنی معرفت کسی کے ہاتھ فروخت کروا دو گے تو تم کو اتنا روپیہ کمیشن دینگے،تو اس طرح کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟

الجواب:(الف) اس صورت کو عالمگیریہ نے ذخیرہ سے حرام لکھا ہے،اور شامی نے بھی تاتارخانیہ سے حرمت نقل کی ہے،ولیکن محمد بن سلمہ سے اس میں گنجائش نقل کی ہے۔

قال في التاتارخانية: وفي الدلال والسمسار أجرالمثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم، وفي الحاوي، سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لابأس به، وإن كان في الاصل فاسدا لكثرة التعامل، وكثير من هذا غيرجائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام،وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسخ له ثيابا في كل سنة.

اور حضرت مولانا تھانوی مدظلہم اس صورت میں جواز ہی کو اختیار کرتے ہیں۔والجواب عن الفساد للجهالة،ان هذه الجهالة لا يفضي الى النزاع،فكانت يسيرة،وهي لا يفسد الاجارة والبيع۔اور اس زمانہ میں اس کی ضرورت بھی بہت زیادہ ہے،پس اس کو جائز کہنا ہی بہتر ہے۔

احسن الفتاویٰ (7/274) میں ہے:

سوال: اآپ نے کمیشن پر کام کرنے کے جواز کا فتوی دیا ہے،بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ عدم جواز کی دو وجہیں جو قفیز طحان کے مسئلہ میں پائی جاتی ہیں،وہ یہاں بھی موجود ہیں مثلاً زید نے عمرو سے یہ کہا کہ میری یہ مشین فروخت کروا دیں تو میں تمہیں اس میں سے 100 روپے دوں گا یہاں بھی اجرت من العمل ہے اور عمرو قادر بقدرۃ الغیر بھی ہے،کیونکہ جب تک کوئی شخص خریدے گا نہیں عمرو بیچنے پر قادر نہیں،ما بہ الفرق کی وضاحت مطلوب ہے۔

جواب:کمیشن کا جواز خلاف قیاس ہے۔

(فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة

(قوله أو مدة) إلا فيما استثنى: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي

احسن الفتاویٰ (7/273) میں ہے:

سوال: دلال کی اجرت فی روپیہ ایک آنہ یا کم و بیش جیسا کہ عام رواج ہے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اجرت دلال میں فقہاء حنفیہ رحمہم اللّٰہ کی عبارات مختلف ہیں،مگر حاجۃ الناس کو مد نظر رکھتے ہوئے قول جواز مختار و مفتی بہ ہے،تعیین اجرت ضروری ہے اور ایک آنہ فی  روپیہ بھی صورتِ تعیین ہے۔

قال في التتارخانية: ‌وفي ‌الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

‌إجارة ‌السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved