• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر نے بیوی کو طلاقنامے کے نوٹس بغیر دستخط کے بھیجے

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  زید  نے اپنی بیوی کو 24-11-21 کو طلاق نامہ  ارسال كيا   کہ” میں طلاق دیتا ہوں” ۔ پھر نوٹس اول 25-8-21کو بھیجا گیا پھر دوسرا نوٹس 25-9-21 کو بھیجا گیا جبکہ تیسرا  نوٹس نہیں دیا گیا ۔اب شوہر  رجوع  یعنی صلح کرنا چاہتا ہے ۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کیا اب رجوع ہوجائے گا ؟ اگر ہوجائے گا تو دوبارہ نکاح اور  حق مہر کے ساتھ ؟یا پھر بغیر نکاح وحق مہر کے ساتھ؟

24-11-21 کے طلاقنامہ کی عبارت:

منکہ  زید  ولد خالد   ………کی شادی ہمراہ مسماۃ۔۔۔۔کے ساتھ سر انجام پائی تھی۔اس شادی کے نتیجے میں ایک بچی پیدا ہوئی شادی کے بعد فریقین کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی ہے مصالحت کی تمام کوششیں بدقسمتی سے بے سود ثابت ہوئی ہیں  ………….. لہذا من مقر  مسماة كو  آج مؤرخہ 24-11-21 کو طلاق دیتا ہے اور اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں۔ یہ کہ مسماۃ من مقر کی جانب سے آزاد ہے ………. الخ

25-08-21 کے طلاق نامہ (نوٹس اول) کی عبارت:

 …………….. من مقر  نے  مسماة مذكوریہ سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے۔یہ کہ اب من مقر اپنے پورے ہوش و حواس خمسہ وثبات عقل خود مسماۃ کو طلاق کا( نوٹس اول ) اب  میں طلاق دیتا ہوں۔مورخہ 21-8-2025کو بھیج رہا ہوں۔ اور دوسرانوٹس اپنے مقررہ وقت ایک ماہ بعد ارسال کر دوں گا۔

21-09-25 کے طلاقنامہ (دوئم نوٹس) کی عبارت:

اب من مقر اپنے پورے ہوش و حواس خمسہ وثبات عقل خود مسماۃ کو طلاق کا (نوٹس دوئم ) ”  اب میں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں “یہ کہ نوٹس 2025-09-21 بھیج رہا ہوں یہ کہ من مقرر نے مؤرخہ 21-08-2025 کو طلاق کا پہلا نوٹس بھیجا تھا ۔مگر بے سود رہا اب تیسرا نوٹس اپنے مقررہ وقت تک ایک ماہ بعد  ارسال  کر دوں گا۔

شوہر کا بیان:

میں نے پہلا طلاق نامہ خود نہیں لکھوایا بلکہ وکیل نے لکھا تھا میں نے بس لکھنے کا کہا تھا اور پھر بغیر کچھ پڑھے دستخط کر دیے تھے اور صرف ڈرانے کے لیے بھیجا تھا اور پھر پہلا طلاق نامہ ارسال  کرنے کے ایک ہفتہ بعد اکٹھا رہنا شروع کر دیا ۔پھر واٹس ایپ سے دو طلاق کے نوٹس اگست اور ستمبر میں بغیر دستخط کے صرف ڈرانے کی نیت سے سینڈ کیے ۔پھر یہ نوٹس میں نے پھاڑ دیے اگلی کاروائی کچھ نہیں کی۔

بیوی کا بیان

 بیوی سے رابطہ ہوا بیوی نے مذکورہ صورتحال کی تصدیق کی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں  واقع ہو چکی ہیں لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی کوئی گنجائش ہے ۔

توجیہ:پہلے طلاق نامے پر شوہر کے دستخط کرنے سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی تھی ۔پھر ایک ہفتہ کے بعد میاں بیوی نے اکٹھا رہنا شروع کر دیا اس سے رجوع  ہوگیا اور نکاح باقی رہا۔ پھر شوہر نے بغیر دستخط کے بیوی کو طلاق کے دو نوٹس  ڈرانے کی نیت سے بھیجے ۔ان سے بقیہ دو طلاق بھی واقع ہو گئیں کیونکہ  جب شوہر اس لکھے ہوئے کو اپنی تحریری تسلیم کررہا ہے اور بیوی کو بھیج ر ہا ہے تو اب دستخط کی ضرورت نہیں لہذا یہ تحریر شوہر کی جانب منسوب ہوگی اور چونکہ یہ تحریر مرسوم ہے اس لیے ڈرانے کی نیت کا اعتبار نہیں۔

حاشیہ ابن عابدین(4/442) میں ہے:

ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها، وقع إن أقر الزوج أنه كتابه

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

حاشیہ امداد الفتاویٰ(5/179) میں ہے:

ہر چند کہ “لکھو”  کا مفعول لفظوں میں مذکور نہیں، لیکن اس درخواست کی منظوری میں اس نے یہ کہا ہے اس میں اس کی تصریح ہے کہ طلاقنامہ لکھو جواب اس پر مبنی ہے اور جواب میں جو تین کا وقوع لکھا ہے یہ اس وقت ہے کہ اس لکھے ہوئے کو وہ جائز رکھے یعنی یا تو اس پر دستخط کر دے  یا لے کر بیوی کو د یدے، یا کسی اور کو دیدے کہ تو بیوی کے پاس پہنچا دے، چونکہ غالب اس واقعہ میں یہی ہے اس لیے جواب میں یہ قید نہیں لگائی  اور اگر شوہر تین طلاق کو جائز نہ رکھے تو طلاق بلا عدد لکھنے کے لیے کہنے سے صرف ایک طلاق واقع ہو گی اور چونکہ یہ صریح ہے اس لیے رجعی واقع ہو گی۔

کفایت المفتی (6/258) میں ہے:

سوال: زید نے اپنی منکوحہ کو ایک شہر سے دوسرے  شہر طلاق لکھ کر بھیج دی جس کو عرصہ بیس روز کا ہوا بعد ازاں اپنی زوجہ کو اپنی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے نیز یہ بھی کہتا ہے میرا طلاق دینے کا  قطعی ارادہ نہ تھا…………… الخ

جواب: اگرخاوند اس امر کا اقرار کرے کہ لکھی ہوئی تحریر اسی نے لکھ کر یا لکھوا کر بھیجی ہے تو طلاق پڑ گئی اور جس قسم کی طلاق تحریر میں ہوگی اس قسم کی پڑی  ہے اور اگر تین طلاقیں لکھی تھیں تو تین پڑیں اور رجوع جائز نہیں ………. الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved