• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں جائیداد بیٹوں میں تقسیم کرنا اور بیٹیوں کو محروم کرنا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں 2016 میں اپنے بیٹوں کے درمیان 42 کنال زمین تقسیم کی اور اس میں اپنی بیٹیوں کو محروم کیا جس پر بعض بھائیوں نے کوشش کی اور ترغیب دی لیکن بڑے بھائی اور والد صاحب کے ذہن میں یہ بات نہ آئی،  بعد میں قرعہ اندازی کے ذریعے زمین تقسیم کی اور نقشہ قرعہ اندازی کے برعکس بنایا گیا اور بڑے بھائی نے چھوٹے بھائیوں سے نقشے پر سائن کروا لیے کیونکہ بڑے بھائی کو والد صاحب کی  حمایت حاصل تھی۔

یاد رہے کہ زمین کے انتقالات ہو گئے تھے لیکن مستقل قبضہ کسی کو نہیں ملا تھا صرف ایک بھائی کو مسجد کے گراؤنڈ کے لیے قبضہ دیا گیا تھا 2020 کے آخر میں والد صاحب نے اپنے اس فیصلے سے رجوع کر لیا اور سب بھائیوں کو فرمایا کہ سب سات بھائیوں کے ذمے آٹھ بہنوں کا حصہ باقی ہے بعض بھائیوں کو یہ بات بری لگی اور عملاً  اس بات کو ماننے سے انکار کرتے رہے اور زبانی اقرار کرتے رہے آخر کار والد صاحب نے نقشے کو ختم کرنے کا حکم دیا اور  ایک بھائی کے ذریعے سب کو پیغام بھیجا کہ سب مشورے سے دوبارہ نقشہ بنوائیں جس پر اس کام کو بعض بھائیوں نے مؤخر کیا کہ والد صاحب کی وفات کے بعد کریں گے تو شریعت میں اس نقشے کی کوئی اہمیت ہے جس کو والد صاحب نے اپنی زندگی میں ختم کرانے کا حکم دیا ہو اور سب کو بتا دیا ہو کہ اپنی بہنوں کو بھی تقسیم میں شامل کریں؟

وضاحت مطلوب ہے۔ یہ مسئلہ چو نکہ دیگر افراد سے بھی متعلق ہے اس لیے سب بھائیوں کا رابطہ نمبر ارسال کریں اور سوال پر سب افراد کے دستخط کروا کر  ارسال کریں  جس کو سوال سے اختلاف تو وہ بھی  ساتھ  لکھ کر بھیجے۔

جواب وضاحت: زید  (بہنوئی) ******** خالد(بہنوئی) ********

بکر (بہنوئی)********ضیاء (بہنوئی)********

عمر (بہنوئی) ********محمد( بھانجا) ********

صہیب (بھانجا) ********رضوان(بھانجا)********

واجد (بھانجا) ********عبداللہ(بھائی) ********

عبدالرحمٰن(بھائی)********

دارالافتاء  کی طرف سے ان سب سے ان کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ  کیا گیا تو بعض نے مندرجہ ذیل جوابات دیئے۔

زید(بہنوئی)  کا مؤقف:

اس تحریر کی رو سے بعض امور کا تعلق عینی شہادت سے ہے۔ہاں اتنا علم ہے کہ بہنوں میں سے اکثر اپنے وراثتی حقوق سے اس لیے دستبردار ہوئی ہیں کہ بھائیوں کے مابین جو جائیداد کا تنازع چلا  آرہا ہے وہ جلدی حل ہو جائے۔

عمر  (بہنوئی)  کا مؤقف:

أعتذر عن الإجابة على هذا السؤال، لأن هذا الأمر من اختصاص أهل العلم والفتوى، وليس لي فيه علم كافٍ.

رضوان(بھانجا) کا مؤقف:

جی، میں اس معاملے سے واقف ہوں۔ میرے ایک ماموں نے مجھے پرانا نقشہ واٹس ایپ پر بھیجا  وہی نقشہ جو کاٹا گیا تھا  اور انہوں نے بتایا کہ اس پچھلے نقشے پر آپ کے والد گواہ تھے، لیکن یہ نقشہ ان کے والد (یعنی میرے دادا) نے ختم کر دیا تھا۔ لہٰذا میں اس بات سے اُس وقت واقف تھا جب میرے دادا حیات تھے۔

‎دوسری بہن کے معاملے کے حوالے سے، جب میرے دادا بیمار ہوئے اور ہمارے گھر آئے، تو ہم نے اُن سے یہ بات سنی کہ  میں نے اپنے بیٹوں سے کہا  کہ وہ اپنی بہنوں کو ان کا حصہ دیں، جو میں نے 2016 میں نہیں دیا تھا۔

محمد(بھانجا) کا مؤقف:

ہاں جی یہ تو اسی طرح ہے میرے نانا کی وفات سے کچھ ماہ پہلے اس نے سارے بھائیوں کو یہ تر غیب دی تھی کہ آپ کے ذمے ہے کہ  بہنوں کو ان کا حصہ دے دو بھائی تو نہیں دے رہے ہماری ماں اور خالہ کہتی ہیں کہ ہم بحث کرتے نہیں اور ہم اللہ سے مانگیں گے ۔

عبداللہ (بھائی) کا مؤقف:

 مفتی صاحب آپ میرے سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟  بے شک یہ ہمارے بھائیوں کا مسئلہ ہے دوسری بات یہ ہے کہ میں نے تو یہ بھیجا نہیں آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں یہ ہمارے بھائیوں کا مسئلہ ہے میں اس میں پڑنا نہیں چاہتا ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً مذکورہ زمین پر بیٹوں کا قبضہ نہیں ہوا تھا اور والد صاحب نے بھی اپنے مذکورہ فیصلے سے رجوع کرلیا تھا اور آخر  کار  نقشہ کو ختم کرنے کا حکم بھی دیدیا تھا تو مذکورہ زمین میں مرحوم کی بیٹیوں کا بھی شرعی وراثتی حصہ ہے اور شرعاً بیٹیاں بھی اس زمین میں اپنے وراثتی حصے کے بقدر شریک ہیں۔

ہندیہ (7/326) میں ہے:

‌ولا ‌يتم ‌حكم ‌الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا

شامی (8/573) میں ہے:

(‌وتتم) ‌الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved