- فتوی نمبر: 35-11
- تاریخ: 10 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حج کی شرائط کا بیان
استفتاء
کسی عورت کو وراثت میں حصہ ملا اور اس نے قبضہ نہیں کیا اس نے اس حصے کو خاوند کو ہدیہ کر دیا خاوند نے براہ راست وصول کیا اور اس حصے کی قیمت میں دو آدمیوں کا حج ہو سکتا ہے تو آیا اس عورت پر حج فرض ہوا یا نہیں؟
وضاحت مطلب ہے:1۔جن کی وراثت تقسیم ہوئی ان کی وفات کب ہوئی تھی؟2۔جس وقت وراثت تقسیم ہوئی تو کیا وہ مہینہ شوال، ذوالقعدہ یا ذو الحجہ کا تھا؟3۔یا اس وقت حکومت کی طرف سے حج کے لیے درخواستیں دینے کا اعلان ہو چکا تھا؟
جواب وضاحت:1۔2006 میں2۔7 لاکھ جمادی الاولیٰ میں آئے اور تین لاکھ شعبان میں آئے،جمادی الاولی دسمبر میں اور شعبان مارچ میں تھا اور اس وقت حج 5 لاکھ میں ہو جاتا تھا یہ دسمبر 2021 تا مارچ 2022 کی بات ہے3۔معلوم نہیں اور یاد بھی نہیں کہ اس وقت حج کی درخواست کا اعلان ہوا تھا یا نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر مورث کی وفات سے لے کر شوہر کو ہدیہ کرنے تک اشہر حج (شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) میں یا جن مہینوں میں حج کی درخواستیں جمع ہورہی تھیں ان مہینوں میں عورت کو اپنے حصہ کی وراثت لینے پر قدرت تھی یعنی اگر وہ اپنے وراثتی حصے کا مطالبہ کرتی تو اس کے غالب گمان کے مطابق اسے اس کا وراثتی حصہ یا اس کے بدلے میں رقم مل جاتی تو مذکورہ عورت پر حج فرض ہے اور اگر شوہر کو ہدیہ کرنے سے پہلے وراثت لینے پر قدرت نہ تھی یا قدرت تو تھی لیکن جس وقت قدرت ہوئی اس وقت نہ حج کے مہینے (شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) تھے اور نہ ان مہینوں میں حج کی درخواستیں جمع ہورہی تھیں تو مذکورہ عورت پر حج فرض نہیں۔
ہدایہ (1/ 132)میں ہے:
الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا….. ولا بد من القدرة على الزاد والراحلة وهو قدر ما يكترى به شق محمل أو رأس زاملة وقدر النفقة ذاهبا وجائيا.
غنیۃ الناسک(ص:31)میں ہے:
السادس:الاستطاعة:وهي القدرة علي زاد يليق بحاله ولو لمكي ملكا لابالاباحة وعلي راحلة مختصة به لغير مكي ومن حولها بالملك أو الاجارة لا بالاباحة أو الاعارة…..ومعني القدرة علي زاد وراحلة ملك مال يبلغه الي مكة ذاهبا وجائيا راكبا في جميع السفر بثمن المثل أو أجرة المثل بنفقة وسط لا اسراف فيها ولا تقتير….ثم القدرة علي الزاد والراحلة شرط الوجوب باتفاق الفقهاء.
السابع:الوقت اي وجود القدرة فيه وهو أشهر الحج أو وقت خروج أهل بلده ،ان كانوا يخرجون قبلها فلا يجب الا علي القادر فيها أو في وقت خروج أهل بلده فلو ملك المال قبل الوقت فله صرفه حيث شاء.
ہندیہ (5/ 307) میں ہے:
«له دين حال أو مؤجل على مقر ملي وليس في يده ما يمكنه شراء الأضحية لا يلزمه أن يستقرض فيضحي، ولا يلزمه قيمتها إذا وصل إليه الدين، لكن يلزمه أن يسأل منه ثمن الأضحية إذا غلب على ظنه أنه يدفعه. له مال كثير غائب في يد شريكه أو مضاربه ومعه ما يشتري به الأضحية من الحجرين أو متاع البيت تلزمه الأضحية، كذا في القنية»
فتاوی رحیمیہ (8/58)میں ہے:
سوال: ایک آدمی کے پاس مارچ، اپریل میں حج فرض ہو سکے اس قدر رقم ہے۔ مگر وہ ایام حج کے نہ تھے۔ جب حج کا وقت آیا تو وہ رقم خانگی امور میں خرچ ہوگئی اب ایامِ حج میں اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ تو اب اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟
الجواب:حج کی درخواست دینے سے پہلے ہی رقم خرچ ہوگئی ہو تو حج فرض نہیں۔ ہاں ، اگر حج میں جانا نہ پڑے اس خیال سے خرچ کردے تو مکروہ اور بڑی سعادت سے محرومی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved