- فتوی نمبر: 35-19
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
میرا نام زید ولد خالد ہے۔ میری بیوی کئی مرتبہ مجھ سے طلاق کا مطالبہ کرچکی تھی جس پر میں نے اس کو سامنے بٹھا کر پورے ہوش وحواس کے ساتھ تین طلاقیں دے دیں، الفاظ یہ تھے کہ ”میں نے آپ کو طلاق دی“ تین مرتبہ یہی جملہ بولا۔ کیا طلاق ہوچکی ہے؟مجھے اس کا تحریری فتویٰ چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
نوٹ: اس سے پہلے بیوی نے بھی ایک سوال جمع کروایا تھا جس میں بیوی نے شوہر کا جو نمبر دیا تھا وہ نمبر غلط تھا جس کی وجہ سے شوہر کے بیان کے بغیر ہی صرف بیوی کے بیان پر اس سوال کا جواب (فتویٰ نمبر: 34/254) جاری کردیا گیا تھا جس میں ایک رجعی طلاق کا فتویٰ دیا گیا تھا لیکن ا ب شوہر نے خود دار الافتاء آ کر اپنا مذکورہ بیان دیا ہے جس پر یہ حتمی فتویٰ دیا جارہا ہے لہذا ہمارا سابقہ فتویٰ کالعدم ہے۔
در مختار مع رد المحتار (4/509) میں ہے:
کرر لفظ الطلاق وقع الکل
قوله: (کرر لفظ الطلاق) بان قال للمدخولة: انت طالق انت طلاق او قد طلقتک قد طلقتک او انت طالق قد طلتک او انت طالق و انت طالق
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(3/ 187) میں ہے :
«وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved