- فتوی نمبر: 34-297
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد (زید) کا انتقال 1999 میں ہوا۔ میرے والد کی دو بیویاں تھیں پہلی بیوی سے تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں اور دوسری بیوی سے ایک بیٹا ہے، پہلی بیوی مرحوم کی وفات سے پہلے فوت ہو گئی تھی اور دوسری بیوی کا انتقال 2008 میں ہوا اسی طرح میرے والد کے دو بیٹے اور ایک بیٹی مرحوم کی وفات کے بعد فوت ہو گئی، پہلے بیٹے خالد کا انتقال 2006 میں ہوا اور اس کے ورثاء میں ایک بیوی دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور دوسرے بیٹے بکر کا انتقال 2018 میں ہوا اس کے ورثاء میں ایک بیوی، ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں اور مرحوم زید کی بیٹی کا انتقال 2020 میں ہوا اور اس کے ورثاء میں ایک شوہر، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔
مرحوم کا 9 مرلے کا رہائشی پلاٹ ضلع خوشاب میں واقع ہے جس کی قیمت کم و بیش ایک کروڑ روپے بنتی ہے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد بڑے تین بیٹوں( جو کہ پہلی بیوی سے ہیں) کی فیملیز اب تک اس خوشاب والے گھر میں رہائش پذیر ہیں جبکہ چوتھا بیٹا ( جو کہ دوسری بیوی سے ہے) اپنی فیملی سمیت لاہور میں رہائش پذیر ہے اور اس نے کبھی خوشاب والے گھر میں رہائش نہیں رکھی۔
جب والد صاحب زندہ تھے تو بڑے بیٹے نے اس گھر کے اوپر ایک پورشن تعمیر کیا( باپ بیٹے میں کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں) اور وہاں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہو گئے اور اب بیٹے کی وفات کے بعد سے اب تک ان کی فیملی وہیں رہائش پذیر ہے،اور نیچے والے پورشن میں باقی دو بھائیوں کی فیملیاں رہائش پذیر ہیں اب جبکہ وراثت کی تقسیم کا تقاضا ہونے لگا ہے تو بڑے بھائی کی فیملی کا کہنا ہے کہ ہمارے والد صاحب نے اوپر جو پورشن تعمیر کیا تھا پہلے اس کا معاوضہ دیا جائے ۔سوال یہ ہے کہ :
1کیا ان کا یہ تقاضا کرنا ٹھیک ہے ۔
2۔ باقی ماندہ کوئی بھی حصہ دار اس جگہ کے کرائے کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ جس پر والد صاحب کی زندگی میں تعمیر کی گئی تھی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کے مکان کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس مکان کی دو قیمتیں لگوائی جائیں گی، ایک قیمت مکمل گھر کی اور ایک قیمت بڑے بھائی کی تعمیر کردہ منزل کے بغیر،اور ان دونوں قیمتوں میں جو فرق ظاہر ہوگا اس کے حقدار بڑے بھائی کے ورثاء ہوں گے اور اس کے بعد گھر کی تقسیم یوں ہوگی کہ اس نارمل گھر کے 384 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 48 حصے (12.5فیصد) مرحوم عبداللہ کے اس بیٹے کو ملیں گے جو ان کی پہلی بیوی سے ہے۔ اور 96 (25فیصد) حصے مرحوم کے اس بیٹے کو ملیں گے جو ان کی دوسری بیوی سے ہے۔اور 24،24 حصے( 6.25فیصد) مرحوم زید کی پانچ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے اور 6 حصے(1.562فیصد) مرحوم خالد کی بیوی کو ملیں گے اور 14،14 حصے(3.645 فیصد) مرحوم خالد کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے اور 7،7 حصے(1.822 فیصد) مرحوم خالد کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے۔جبکہ بکر کی بیوی کو 6 حصے(1.562 فیصد) ملیں گے اور بکر کے بیٹے کو 14 حصے(3.645 فیصد) ملیں گے اور 7،7 حصے (1.822فیصد) بکر کی چاروں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے ۔اور مرحوم زید کی بیٹی جو کہ وفات پا چکی ہیں ان کے ورثاء میں سے شوہر کو 6 حصے(1.562 فیصد) ملیں گے اور 6،6 حصے(1.562 فیصد) مرحومہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے اور 3،3 حصے (0.781فیصد) مرحومہ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے۔
2۔مرحوم کی وفات سے لے کر اب تک اس تعمیر کردہ منزل کے کرائے کا مطالبہ کرنا کسی بھی وارث کے لیے درست نہیں ہے۔کیونکہ مشترکہ گھر شرکاء میں سے ہر ایک کے حق میں ملک کامل کی طرح ہوتا ہے لہذا کسی وارث کا کرائے کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
الدر المختار مع ردالمحتار (9/446) میں ہے:
(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية
(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية.
الدر المختار (9/49) میں ہے:
(و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار (ويتملكه) بالنصب عطفا على ” يغرم “؛ لأن فيه نظرا لهما.
شرح المجلہ (2/701) میں ہے:
لا يلزم ضمان المنفعة فى مال استعمال بتأويل ملك ولو كان معه الاشتغال مثلا لو تصرف مدة احد الشركاء في المال المشترك بدون اذن شريكه مستقلا فليس للشريك الآخر اخذ أجرة حصته لانه استعمله على انه ملكه لان الدار المشتركة في حق السكنى وما كان من توابعها تجعل كالمملوكة لكل واحد من الشريكين على سبيل الكمال
فتاوی رشیدیہ ( 2/ 359) میں ہے:
دفعہ: حویلی خورد متصل حویلی کلاں اور دیگر مکانات جو عمرو نے زمین مشترکہ میں تیار کرائے ہیں ان کی تقسیم کا طرح کی جاوے گی ؟
جواب : علی ہذا حویلی خورد عمرو نے زمین مشترکہ میں بنائی وہ سب ورثہ کی ہے ۔میراث اس میں جاری ہووے گی،اور جواب زیر تعمیر کا اوپر کی دفعہ سے واضح ہوا کہ اگر ترکہ سے دیا ہے تو کچھ رجوع نہیں، اور جو عمر کا مال خالص خرچ ہوا بشرط نیت رجوع کی رجوع ورثہ پر حصص ورثہ میں کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved