• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تقسیم وراثت کی ایک صورت

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں،پہلی بیوی کا انتقال 2010 میں ہوا ۔ان کے ورثاء میں والدین ،ایک بیٹا(راقم الحروف) ،ایک بیٹی اور شوہر تھے ۔

ترکہ میں والدہ نے ایک مکان چھوڑا جو کہ والد اور والدہ دونوں کے پیسوں سے خریدا گیا تھا ۔ دونوں کے کتنے کتنے پیسے تھے اس بارے میں کسی کو کوئی یقینی بات نہیں پتا البتہ غالب گمان یہی ہے کہ 50/50 فیصد ہوں گے  دونوں کے،والدہ کی وفات کے بعد والد صاحب نے وہ مکان فروخت کر دیا ۔اور بچے چھوٹے تھے اس لئے پیسے تقسیم نہیں کئے۔ والد صاحب پھر بیمار بھی ہوگئے تھے۔

پھر 2011 میں والد صاحب نے دوسری شادی کی ۔ دوسری والدہ سے ایک بچی پیدا ہوئی ۔ دوسری والدہ شادی کے وقت اپنے ساتھ زیور لائی تھیں جو کہ والد صاحب نے فروخت کیا  اور ایک مکان خریدا جس میں ہم رہائش پذیر ہیں۔  اس مکان میں %35 حصہ میرے والد صاحب کا تھا اور%65 فیصد حصہ دوسری والدہ کا تھا ۔(پہلے مکان کو فروخت کرنے میں اور دوسرے مکان کو خریدنے  کے دوران تقریبا 5سال کا عرصہ تھا، اس دوران والد صاحب بیمار بھی رہے تھے ) البتہ اس بات کا کسی سے بھی علم نہیں ہوسکا کہ آیا دوسرا مکان والد  صاحب نے  اپنے پتی کے کا روبار کی کمائی سے خریدا ہے   یاپہلے مکان کے بچے ہوئے پیسوں سے؟

دوسری والدہ نے کبھی اس کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی پیسوں کا مطالبہ کیا ۔ ہمارے والد صاحب کے مارکیٹ کے  دو دوست ہیں انہوں نے ہمیں یہ بات بتلائی کہ سارا مکان والد صاحب کا نہیں تھا کیونکہ والد صاحب کے پاس اتنے پیسے ہی نہ تھے کہ از خود مکمل مکان خرید سکیں۔ اسی طرح دوسری والدہ کے پیسوں سے ہی والد صاحب نے ایک گاڑی بھی خریدی تھی جو ابھی تک ہمارے پاس ہے۔ اس کے متعلق بھی والد صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ تمہاری دوسری والدہ کی گاڑی ہے ۔ دوسری والدہ کے زیور کے پیسوں سے والد صاحب نے مکان بھی خریدا تھا اور گاڑی بھی اور باقی پیسے والد صاحب نے کیش کی صورت میں اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ والد صاحب کا جب انتقال ہوا تو مارکیٹ والے دو دوستوں نے جب آکر دراز کھولا تو دراز میں سے 9 لاکھ کیش کی صورت میں نکلا ۔ ان دوستوں نے بھی یہی کہا کہ یہ دوسری والدہ کے زیور کے پیسوں سے بچے ہوئے پیسے ہیں۔

2019 میں ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ۔

انتقال کے وقت ورثاء میں ایک بیٹا ،دو بیٹیاں (ایک پہلی بیوی سے اور ایک دوسری بیوی سے )،والدہ اور دوسری بیوی موجود تھے ۔

والد صاحب کا چائے(پتی)کا کام تھا ۔ ایک مرتبہ سردیوں کا سیزن لگا  تو اپنی پہلی بیوی سے جو بیٹی تھی اس کے لیے سونے کے چار بسکٹ دس دس گرام کے خرید کر لائے اور گھر آ کر بتایا جبکہ سب بیٹھے ہوئے تھے کہ یہ سیزن میں نے” فاطمہ “کے لیے لگایا ہے اور یہ بسکٹ اس کے لئے خریدے ہیں۔ ہماری بہن اس وقت تیرہ یا چودہ سال کی تھی لیکن بالغ تھی ۔والد صاحب نے وہ بسکٹ اس کو دئیے اس نے بھی دیکھے اور ہماری دادی نے بھی دیکھے۔ پھر والد صاحب نے حفاظت کے لئے اپنے پاس رکھ لئے۔ کچھ عرصے بعد اپنے دوستوں کے پاس رکھوا دئیے کہ ہمارا گھر محفوظ نہیں ہے ۔ اور سب کو بتا دیا کہ یہ میری بیٹی فاطمہ کے ہیں  کل کو میں نہ رہا تو اسی کو دینا ۔

والد صاحب کی وفات کے ایک سال بعد ہماری دادی کا انتقال ہو گیا ۔انتقال کے وقت ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں موجود تھیں جو کہ ابھی تک حیات ہیں۔

اس کے بعد 2024 میں ہماری دوسری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا  ۔ انتقال کے وقت ورثاء میں ایک بیٹی ،دو بھائی اور دو بہنیں موجود تھیں۔

دریافت طلب امر یہ کہ اس ساری  صورتحال میں وراثت کیسے تقسیم ہو گی اور کون کون کس کس چیز کا حقدار ہوگا ۔

1۔پہلے فروخت کیے ہوئے مکان کے پیسوں میں کیا  پہلی بیوی کے والدین کا بھی  حق تھا ؟چونکہ ہمیں یہ علم نہیں  تھا کہ والد صاحب نے وہ پیسے جو والدہ کے مکان سے ملے کہاں خرچ کیے،اور   میری اور بہن کی عمر(پہلی والدہ سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کی عمر ) پہلی والد ہ کے انتقال کے وقت 7،8 سال تھی اور والد صاحب اپنی وفات تک  تقریبا 9سال خود ہی ہمار ا خرچہ اٹھاتے رہے اس لیے ممکن ہے انہوں نے وہ پیسے جو والدہ کی جائیداد سے بنتے تھے ہم پر بھی خرچ کیے ہوں   تاہم بہر صور ت ہم نے وہ پیسے ان کو معاف کردیے ۔

2۔ جس مکان میں ہم رہ  رہے ہیں اس میں جو والد صاحب  کا ( %   35) حصہ تھا اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟

3۔جس  مکان میں ہم رہ رہے ہیں  جس میں والد صاحب کی دوسری بیوی کا (65%)  حصہ تھا اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟

4۔گاڑی  میں کس کس کا حصہ ہے؟

5۔9لاکھ روپے کے ورثاء کون ہونگے؟

6۔سونے کے چار بسکٹ   کس کے ہونگے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ترکہ میں پہلی والدہ صاحبہ نے جو مکان چھوڑا تھا وہ آدھا تو والد صاحب کا ہی ہے اور باقی آدھے     مکان  کی جو قیمت  فروخت والد صاحب کو وصول ہوئی تھی  اس کے ٹوٹل میں سے (%16.67) پہلی بیوی کے والد اور (%16.67)  ہی پہلی بیوی کی والدہ کا حق تھا  جوکہ والد صاحب کے ذمہ باقی ہے لہذا اگر تو  پہلی بیوی کے والدین زندہ ہیں تو وہ رقم والد صاحب کی کل رقم میں سے پہلے ان کو ادا کریں اور اگر وہ وفات پاگئے ہیں تو ان کے ورثاء کو ان کے شرعی حصوں کے بقدر واپس کیے جائیں  ۔اب ہر وارث کا شرعی حصہ کیا ہےاس کی تفصیل ورثاء  کی تفصیل بتاکر معلوم کی جاسکتی ہے۔

2۔ والد صاحب کے 35فیصد حصے کی جو قیمت بنے گی   اس    کے ٹوٹل  1056 حصے کیے جائیں گےجن کی تقسیم مندرجہ ذیل طریقہ سے ہوگی:

بیٹے کے 374حصے(%35.41)

بیٹی (پہلی بیوی سے):187حصے(%17.70)

بیٹی (دوسری بیوی سے) 253 حصے(%23.95)

شوہر  کے ہر بھائی کے32حصے(3.03%)

شوہر کی ہر بہن کے 16حصے(1.51%)

دوسری بیوی کے دو بھائیوں میں سے  ہر بھائی کے:22حصے(2.08%)

دوسری بیوی کی  دوبہنوں میں سے ہر ایک بہن کے:11حصے(1.04%)

(3،4،5)۔دوسری والدہ کے مکان میں  65 فیصد حصوں اور گاڑی کی  قیمت اور 9 لاکھ روپے  میں سے ہر ایک کے کُل  12حصے ہوں گے جن  کی تقسیم مندرجہ ذیل طریقہ سے ہو گی:

دوسری بیوی  کی بیٹی کے6 حصے(50%)

دوسری بیوی کے ہر بھائی کے2حصے(16.67%)

دوسری بیوی  کی ہر بہن کا 1   حصہ(8.33%)

6۔سونے کے بسکٹ فاطمہ کے ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved