- فتوی نمبر: 34-302
- تاریخ: 12 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
1۔میرے نانا کا انتقال 2009 میں ہوا۔ انہوں نے حالتِ صحت میں اپنی زندگی میں ہی اپنی ساری جائیداد رجسٹری کے ساتھ اور زبانی بھی دو بیٹیوں اور بیوی کی نام کی بیوی اور دو بیٹیوں کے درمیان برابر برابر جائیداد تقسیم کی ہے یعنی جائیداد کے تین حصے کیے بیوی کو ایک اور دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا تو اس میں سوتیلے بھائی اور سگے بھتیجوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟
2۔ نانی کی زندگی میں ایک بیٹی کنواری فوت ہوگئی تو نانی نے اپنا سارا حصہ رجسٹری کے ساتھ اور زبانی دوسری زندہ بیٹی کے نام کیا ہے کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
3۔نانی فوت ہوئی ہے تو اب ان کی ہبہ کی ہوئی جائیداد میں موہوب لہ کے علاوہ کسی اور وارث کا حصہ ہوگا ؟
4۔ہماری ایک کنواری خالہ کی وفات ہوئی ہے لیکن ہماری یہ خالہ نانی سے پہلے فوت ہوئی ہے تو اب اس کی جائیداد میں کس کس کا کتنا حصہ ہوگا؟ ورثاء میں ماں اور ایک بہن اور پانچ تایا زاد بھائی اور پانچ تایا زاد بہنیں اور ایک سو تیلا چچا زندہ ہے باقی سب پہلے فوت ہوئے ہیں ۔
5۔دو بھائیوں یعنی میرے نانا اور ان کے بھائی نے جب انڈیا سے ہجرت کی تو حکومت پاکستان نے ان کو مکان الاٹ کیا اور دونوں کو نصف نصف الاٹ کیا تو دونوں اکٹھے اس میں رہنے لگے یہاں تک کہ اب وہ مکان ہمارے استعمال میں ہے کیا اس مکان میں شرعاً وراثت جاری ہوگی؟ اگر ہوگی تو کیسے ؟ نانا کی ایک بیوی اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ نانا کے بھائی کے دس بیٹے اور ایک بیوی ہے اور دونوں کا باپ شریک بھائی بھی ہے باقی ماں باپ ان دونوں کے ان سے پہلے فوت ہوئے ہیں۔
6۔دونوں بھائیوں کا یعنی نانا اور نانا کے بھائی کا مشترکہ چار مرلے کا مکان تھا جو آدھا آدھا تھا اور یہ ان دونوں نے خریدا ہوا تھا پھر نانا کے بھائی کا انتقال ہوا اس کے بعد ہمارے نانا کا انتقال ہوا اب اس مکان کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ نانا کے بھائی کے ورثاء میں ان کے دس بیٹے اور ایک بیوی اور ایک باپ شریک بھائی موجود ہے اور نانا کے ورثاء میں صرف دو بیٹیاں اور ایک بیوی اور ایک باپ شریک بھائی زندہ ہے۔ نانا اور نانا کے بھائی کے ماں باپ میں سے کوئی بھی حیات نہیں ہیں۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔ نانا نے بیوی اور دونوں بیٹیوں کے نام وراثت کی تھی، ایسا کیوں کیا؟ 2۔ رجسٹری کی تصویر ارسال کریں۔3۔نانا نے دیگر ورثاء کے لیے وراثت کیوں نہیں چھوڑی تھی اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب وضاحت: 1۔ کوئی وارث نہیں تھا اس لیے نانا نے جائیداد ان کے نام کر دی۔ نانا نے دونوں بیٹیوں کے نام کی تھی لیکن بعد میں ایک بیٹی فوت ہو گئی تھی اس لیے نانی نے صرف دوسری بیٹی کے نام جائیداد کی اور یہ قبضہ مافیا کی وجہ سے کیا۔2۔ارسال نہیں کی۔3۔ نانا کے بھتیجے قبضہ گروپ ہیں تو اسی ڈر سے کہ کل کو کہیں میرے مرنے کے بعد جائیداد پر قبضہ نہ کر لیں اس لیے میرے نانا نے اپنے سوتیلے بھائی سے مشاورت کے بعد یہ جائیداد بیوی اور دو بیٹیوں کے نام کر دی باقی اور حقیقی ورثاء نہیں تھے اس لیے صرف ان کے لیے جائیداد ہبہ کر دی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ صورت میں نانا کی جائیداد میں ان کے سوتیلے بھائی اور سگے بھتیجوں کا حصہ نہیں ہے۔
توجیہ: زندگی میں اپنی جائیداد بعض ورثاء کو دینا ہبہ کہلاتا ہے اور ہبہ کرنے والے کی ملکیت قبضہ کرانے کے بعد اس موہوبہ اشیاء میں ختم ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں چونکہ آپ کے نانا نے اپنی حالت صحت میں ہی اپنی جائیداد بیوی اور دو بچیوں کے نام کر دی تھی اس لیے ان کے مرنے کے بعد ان کی جائیداد میں باپ شریک بھائی اور سگے بھتیجے کا کوئی حصہ نہیں ہے البتہ اگر نانا نے کسی وارث کو محروم کرنے کے لیے یا نقصان پہنچانے کے لیے مذکورہ جائیداد ہبہ کی تھی تو وہ گنہگار ہوگا۔
2۔ سائل کی نانی کا اپنی بیٹی کو اپنے حصے کی جائیداد ہبہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ کسی حقیقی وارث کو محروم کرنے یا نقصان پہنچانے کی غرض سے ہبہ نہ کیا ہو۔
3۔ نہیں ہوگا۔
4۔ مذکورہ صورت میں آپ کی خالہ کے ترکہ کے کل 6 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دوحصے (33.33 فیصد) آپ کی خالہ کی ماں کو ، تین حصے (50 فیصد) ایک بہن کو اور ایک حصہ (16.66 فیصد) سوتیلے چچا کو دیا جائے گا۔
5۔ اگر نانا نے الاٹ شدہ مکان اپنی زندگی میں بیوی اور بیٹیوں کو ہبہ نہیں کیا تھا تو گورنمنٹ کی طرف سے الاٹ کیے ہوئے مکان میں وراثت جاری ہوگی لہذا سب سے پہلے اس مکان کو دو بھائیوں پر آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا پھر نانا کے بھائی جو کہ آپ کے نانا سے پہلے فوت ہوئے ہیں ان کے آدھے حصہ کے کل 80 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 10 بیٹوں میں سے فی بیٹے کو 7 حصے(8.75 فیصد)اور مرحوم کی بیوی کو 10 حصے (12.5 فیصد) دیے جائیں گے ۔
اور آپ کے نانا کے آدھے حصہ کے کل 72 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 17 حصے (23.6 فیصد) بیوی کو 36 حصے (50 فیصد) بیٹی کو اور 19 حصے(26.39 فیصد) آپ کے نانا کےباپ شریک بھائی کو دیے جائیں گے۔
6۔ اس کی تقسیم کا طریقہ بھی وہی ہوگا جو نمبر 5 میں گزرا۔
نوٹ: آپ کی نانی کا ایک بیٹی کے علاوہ کوئی حقیقی وارث نہیں ہے اس لیے فوت شدگان کی میراث میں سے آپ کی نانی کو جو حصہ ملے گا وہ سارے کا سارا ان کی زندہ بیٹی کو ملے گا۔
ہندیہ (7/355) میں ہے:
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى
شرح المجلہ (1/473) میں ہے:
يملك الموهوب له الموهوب بالقبض فالقبض شرط لثبوت الملك لا لصحة الهبة
بدائع الصنائع (6/264) میں ہے:
للمالك ان يتصرف في ملكه أى تصرف شاء
شامی (4/193) میں ہے:
(قوله حكم الإقطاعات إلخ) قال أبو يوسف – رحمه الله تعالى – في كتاب الخراج، وللإمام أن يقطع كل موات وكل ما ليس فيه ملك لأحد، ويعمل بما يرى أنه خير للمسلمين، وأعم نفعا وقال أيضا: وكل أرض ليست لأحد، ولا عليها أثر عمارة فأقطعها رجلا فعمرها، فإن كانت في أرض الخراج أدى عنها الخراج وإن كانت عشرية ففيها العشر، وقال في ذكر القطائع إن عمر اصطفى أموال كسرى، وأهل كسرى، وكل من فر عن أرضه أو قتل في المعركة وكل مفيض ماء أو أجمة فكان عمر يقطع من هذا لمن أقطع، قال أبو يوسف: وذلك بمنزلة بيت المال الذي لم يكن لأحد، ولا في يد وارث فللإمام العادل أن يجيز منه ويعطي من كان له عناء في الإسلام، ويضع ذلك موضعه، ولا يحابي به فكذلك هذه الأرض، فهذا سبيل القطائع عندي في أرض العراق، وإنما صارت القطائع يؤخذ منها العشر لأنها بمنزلة الصدقة. اهـ. قلت: وهذا صريح في أن القطائع قد تكون من الموات، وقد تكون من بيت المال لمن هو من مصارفه، وأنه يملك رقبة الأرض، ولذا قال يؤخذ منها العشر، لأنها بمنزلة الصدقة، ويدل له قوله أيضا: وكل من أقطعه الولاة المهديون أرضا من أرض السواد وأرض العرب والجبال من الأصناف التي ذكرنا أن للإمام أن يقطع منها، فلا يحل لمن يأتي بعدهم من الخلفاء أن يرد ذلك، ولا يخرجه من يد من هو في يده وارث أو مشتر، ثم قال: والأرض عندي بمنزلة المال فللإمام أن يجيز من بيت المال من له عناء في الإسلام، ومن يقوى به على العدو ويعمل في ذلك بالذي يرى أنه خير للمسلمين وأصلح لأمرهم وكذلك الأرضون يقطع الإمام منها من أحب من الأصناف. اهـ.
فهذا يدل على أن للإمام أن يعطي الأرض من بيت المال، على وجه التمليك لرقبتها كما يعطي المال، حيث رأى المصلحة إذ لا فرق بين الأرض والمال في الدفع للمستحق فاغتنم هذه الفائدة، فإني لم أر من صرح بها وإنما المشهور في الكتب أن الإقطاع تمليك الخراج مع بقاء رقبة الأرض لبيت المال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved