- فتوی نمبر: 34-304
- تاریخ: 12 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
مفتی صاحب میرا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا ہم فون پر بات کر رہے تھے تو اسی دوران جو ہماری چیٹ ہوئی وہ درج ذیل ہے:
بیوی: تم ہر دفعہ غصہ کیوں ہو جاتے ہو؟
شوہر: تم میری ماں کے ساتھ ٹھیک نہیں رہتی اس لیے۔
بیوی: تم پھر مجھے فارغ کر دو ۔
شوہر :کر دیا
بیوی: واقعی؟
شوہر:ہاں
اس کے بعد ہماری بات ختم ہو گئی میری نیت بالکل بھی طلاق کی نہیں تھی بس ڈرانا تھا کیا ہمارا نکاح قائم ہے؟
نوٹ: بیوی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اس بیان کی تصدیق کی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک طلاق بائنہ واقع ہو گئی جس سے نکاح ختم ہو گیا لہذا اب اگر میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر اور کم از کم دو گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا ۔
توجیہ:ہماری تحقیق کے مطابق میسج کی تحریر کتابت مستبینہ غیر مرسومہ ہے جس سے غصہ یا مذاکرہ طلاق کی صورت میں نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ غصہ اور مذاکرہ طلاق دونوں پائے گئے ہیں نیز شوہر کا یہ کہنا “کر دیا” یہ چونکہ بیوی کے اس جملے کے جواب میں تھا کہ “مجھے فارغ کر دو” تو الجواب یتضمن اعادۃ ما فی السوال کے تحت شوہر کا مطلب یہ بنا کہ “فارغ کر دیا” اور یہ جملہ کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سےہے جس سے غصہ یا لڑائی جھگڑے میں نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا شوہر کی نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو چکی ہے۔
نوٹ:دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاویٰ النوازل لابی اللیث السمرقندی(ص215) میں ہے:
ثم الكتاب إذا كان مستبيناً غير مرسوم كالكتابة على الجدار وأوراق الأشجار وهو ليس بحجة من قدر على التكلم فلا يقع إلا بالنية والدلالة
البحر الرائق (103/3) میں ہے:
ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدران وأوراق الأشجار أو على الكاغد لا على وجه الرسم فإن هذا يكون لغوا؛ لأنه لا عرف في إظهار الأمر بهذا الطريق فلا يكون حجة إلا بانضمام شيء آخر إليه كالبينة والإشهاد عليه والإملاء على الغير حتى يكتبه؛ لأن الكتابة قد تكون تجربة وقد تكون للتحقيق وبهذه الإشارة تتبين الجهة
درمختار (4/521) میں ہے:
ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا.
و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved