• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

میرے  بیٹے  زید احمد کا مؤرخہ19 جون 2024ء کو انتقال ہوگیا ہے، اس کے ورثاء  اور جائیداد کی تفصیل درج ذیل ہے۔ مہربانی فرما کر جائیداد میں سے ہر ایک کے  حصے کے  متعلق رہنمائی فرمائیں۔

ورثاء کی تفصیل:

1۔خالد       مرحوم کا والد

2۔ فاطمہ            مرحوم کی والدہ

3۔مریم          مرحوم کی بیوہ

4۔خدیجہ مرحوم کی بیٹی عمر 7 سال

5۔عائشہ             مرحوم کی چھوٹی بیٹی عمر 4 سال

جائیداد کی تفصیل :

1۔مکان 10 مرلہ بحریہ ٹاؤن لاہور، الاٹمنٹ مشترکہ والد+ بیٹا

2۔3 عدد پلاٹ 5 مرلہ

3۔2 عدد پلاٹ 3 مرلہ

4۔ایک عدد لیپ  ٹاپ

5۔ دو عدد گھڑیاں ، ایک گھڑی راڈو ہے۔

6۔ایک عدد کار 1500 CC Hawel H-6

7۔بینک میں رقم مبلغ323000/

وضاحت مطلوب ہے:”الاٹمنٹ مشترکہ “ہونے کا کیا مطلب ہے؟ دونوں آدھے آدھے میں شریک ہیں یا کچھ اور مطلب ہے؟

جواب وضاحت: بحریہ ٹاؤن میں، میں نے پلاٹ خریدا تھا اور پوری رقم میں نے خود ادا کی تھی لیکن جب بحریہ ٹاؤن کی طرف سے پلاٹ کی الاٹمنٹ ہوئی تو میں نے پلاٹ اپنے اور بیٹے کے نام کروا دیا لیکن اس سے مقصود بیٹے کو شریک کرنا نہیں تھا صرف یہ مقصد تھا کہ اگر کل کو کوئی کام کرنا پڑے تو اس کو مشکل پیش نہ آئے پھر اس پلاٹ پر ہم نے گھر تعمیر کیا جس میں 40 فیصد میں نے خرچہ کیا باقی 60 فیصد بیٹے نے ،اس وقت اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی کہ یہ پیسے بطور قرض ہیں یا بطور تعاون بس دونوں کی نیت یہ تھی کہ اس گھر کو تعمیر کروا کر ہم دونوں اس میں رہیں گے ۔اب آیا اس پلاٹ یا تعمیر میں جو  رقم  لگی ہے اس میں وراثت جاری ہوگی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں پلاٹ آپ کی ملکیت ہے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی تاہم بیٹے نے گھر کی تعمیر میں جو حصہ ڈالا  تھا اس حصے میں وراثت جاری ہوگی جس کی صورت یہ ہوگی کہ مذکورہ مکان کی تعمیر سمیت قیمت لگوائی جائے اور پھر خالی پلاٹ کی قیمت لگوائی جائے دونوں قیمتوں میں جو فرق ہوگا وہ تعمیر کی قیمت شمار ہوگی اور اس قیمت میں سے 40 فیصد خالص والد کا ہوگا اور 60فیصد میں  وراثت جاری ہوگی لہٰذا مذکورہ صورت میں  مرحوم کے تمام ترکہ کے 27 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے (11.11 فیصد)، ہر ایک بیٹی کو 8 حصے (29.62 فیصد  فی کس)، والد کو 4 حصے (14.81 فیصد) اور والدہ کو 4 حصے (14.81) ملیں کے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

24ع 27

بیوی2بیٹیاںوالدہوالد
8/13/26/1سدس مع العصبہ
31644
38+844

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved