- فتوی نمبر: 32-86
- تاریخ: 13 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > روپے پیسوں کی زکوۃ کا بیان
استفتاء
1۔کیا میزان بینک Get Halal Return (زیادہ حلال نفع حاصل کریں) کے تحت سکیم میں پیسے جمع کروانا اور نفع لینا جائز ہے؟
2۔اور زکوٰۃ کے پیسے جو یہ کاٹ لیں گے کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ہماری تحقیق میں جائز نہیں۔
2۔بینکوں سے زکوٰۃ کی کٹوتی کے صحیح ہونے کا دارومدار دو باتوں پر ہے:
1۔حکومت ایسی رقومات پر زکوٰۃ وصول کرتی ہے جو نفع کے کھاتے(Saving Account) ہیں لہٰذا زکوٰۃ کی کٹوتی اس وقت صحیح ثابت ہوگی جب کھاتہ دار(Account Holder) نفع کی رقم نہ لے اور اگر لے لی ہو تو کل کو صدقہ کردے۔
2۔واضح طور سے معلوم ہو کہ حکومت زکوٰۃ کی وصول شدہ رقم اس کے جائز مصارف میں خرچ کررہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved