- فتوی نمبر: 32-87
- تاریخ: 13 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد صاحب(زید ) 3 سال پہلے اچانک فوت ہوگئے۔ اب ان کی میراث تقسیم کرنی ہے ، ورثاء میں میری امی مرحوم، میرا بڑا بھائی مرحوم اورہم 3 بہنیں اور 2 بھائی حیات ہیں۔ میری امی اورمیرا بڑا بھائی ابو سے پہلے وفات چکے تھے۔بھائی کی بیوی اور دو بیٹے موجود ہیں اور میرے دادا، دادی بھی ابو سے پہلے وفات پاچکے تھے۔ اب ان سب کا شرعی اصول کے مطابق کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے والد کی جائیداد کے 7 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 2 حصے (28.57فیصد) ہر ایک بھائی کو اور ایک حصہ (14.28فیصد) ہر ایک بہن کو ملے گا۔
آپ کے مرحوم بھائی اور ان کے بیوی ، بچوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
7
| 2بیٹے | 3بیٹیاں |
| 2+2 | 1+1+1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved