• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جم کرنی چاہیے یا نہیں؟

استفتاء

1۔جم كے بارے ميں كوئی حدیث ثابت ہے؟

2۔ جم کرنا چاہیے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1،2- جم کے بارے میں  ہمیں کوئی حدیث  نہیں ملی باقی رہی یہ بات کہ جم کرنا چاہیے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جم کرنا ایک مباح کام ہے اور مباح کام کے بارے میں حکم یہ ہے کہ کوئی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور نہ کرنا چاہے تو نہ کرے۔ اور کرنے کی صورت میں بھی اس کی ضروری شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے مثلاً ستر ننگا نہ ہو ، جم کی جگہ عورتوں  مردوں کا اختلاط نہ ہو ، میوزک نہ ہو، نماز یا دیگرفرائض سے  غفلت نہ ہو وغیرہ وغیرہ ۔

فتح الباری لابن حجر ]وفات :852[(11/107)میں ہے:

باب: ‌كل ‌لهو ‌باطل إذا شغله عن طاعة الله۔

قوله (باب ‌كل ‌لهو ‌باطل إذا شغله) أي شغل اللاهي به عن طاعة الله أي كمن التهى بشيء من الأشياء مطلقا سواء كان مأذونا في فعله أو منهيا عنه كمن اشتغل بصلاة نافلة أو بتلاوة أو ذكر أو تفكر في معاني القرآن مثلا حتى خرج وقت الصلاة المفروضة عمدا فإنه يدخل تحت هذا الضابط وإذا كان هذا في الأشياء المرغب فيها المطلوب فعلها فكيف حال ما دونها۔

معارف القران للشفیعؒ (7/21-24) میں ہے:

اور مستدرک حاکم کتاب الجہاد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : كُلُّ شَيءٍ مِنْ لَهْوِ الدُّنْيَا بَاطِلُ إِلَّا ثَلثة انتضَالُكَ بِقَوْسِكَ وَتَأْدِيبُكَ لِفَرَسِك و مُلَا عَبَتُكَ لِأَهْلِكَ فَانهن مِنَ الْحَقِّ  . ترجمہ :دنیا کا ہر لہو( کھیل)  باطل ہے مگر تین چیزیں ایک یہ کہ تم تیر کمان سے کھیلو دوسرے اپنے گھوڑے کو سدھانے کے لئے کھیلو، تیسرے اپنی بی بی کے ساتھ کھیلو  …….. اس حدیث میں ہر لہو کو باطل قرار دیا ہے اور جن تین چیزوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے در حقیقت وہ لہو میں داخل ہی نہیں ، کیونکہ لہو تو اُس کام کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی دینی و دنیوی فائدہ معتد بہا نہ ہو۔ اور یہ تینوں چیزیں مفید کام ہیں جن سے بہت  سے دینی اور دنیوی فوائد وابستہ ہیں۔ تیراندازی اور گھوڑے کو سدھانا تو جہاد کی تیاری میں داخل ہیں ، اور بیوی کے ساتھ ملا عبت توالد و تناسل کے مقصد کی تکمیل ہے۔ ان کو صرف صورت اور ظاہر کے اعتبار سے لہو کہہ دیا گیا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے لہو میں داخل ہی نہیں۔ اسی طرح ان تین چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے کام ہیں جن سے دینی یا دنیوی فوائد متعلق ہیں اور صورت کے اعتبار سے وہ لہو( کھیل) سمجھے جاتے ہیں ان کو بھی دوسری روایات حدیث میں جائز بلکہ بعض کو مستحسن قرار دیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آجائیگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو کام حقیقہ لہو ہوں یعنی جن میں نہ کوئی دینی فائدہ ہو نہ دنیوی ، وہ سب کے سب مذموم اور مکر وہ تو ضرور ہی ہیں۔

مباح اور جائز کھیل:ادھر یہ بات تفصیل سے آچکی ہے کہ مذموم اور ممنوع وہ لہو اور کھیل ہے جس میں کوئی دینی دنیوی فائدہ نہیں۔ جو کھیل بدن کی ورزش ، صحت اور تندرستی باقی رکھنے کے لئے یا کسی دوسری دینی و دنیوی ضرورت کے لئے یا کم از کم طبیعت کا تکان دور کرنے کے لئے ہوں اور ان میں غلو نہ کیا جائے کہ انہی کو مشغلہ بنا لیا جائے اور ضروری کاموں میں ان سے حرج پڑنے لگے تو ایسے کھیل شرعا مباح اور دینی ضرورت کی نیت سے ہوں تو ثواب بھی ہیں……….. ایک حدیث میں ارشاد ہے : روِّحوا القلوب ساعة فساعة اخرجه أبو داو في مراسیله عن ابن شهاب مرسلا ترجمہ:تم اپنے قلوب کو کبھی کبھی آرام دیا کرو۔جس سے قلب و دماغ کی تفریح اور اس کے لئے کچھ وقت نکالنے کا جواز ثابت ہوا۔ شرط ان سب چیزوں میں یہ ہے کہ نیت ان مقاصد صحیحہ کی ہو جو ان کھیلوں میں پائے جاتے ہیں ، کھیل برائے کھیل مقصد نہ ہو اور وہ بھی بقدر ضرورت ہو، اس میں توسع اور غلو نہ ہو۔ اور وجہ ان سب کھیلوں کے جواز کی وہی ہے کہ در حقیقت یہ جب اپنی حد کے اندر ہوں تو لہو کی تعریف میں داخل ہی نہیں۔

امداد الاحکام(4/379) میں ہے:

ہر ورزش جس سے بدن کی قوت وصحت مطلوب ہو فی نفسہ جائز اور مباح ہے اگر اس میں حرمت بعد کراہت آئے گی تو کسی عارض کی وجہ سے آئے گی۔ مثلاً کسی کی نیت کفار کے ساتھ تشبہ کی ہو یا ورزش کے وقت لباس کفار کا پہنا جائے یا اس کا وقت ایسا مقرر کیا جائے جس سے نماز ضائع ہو یا اس میں خلل پڑے یا ورزش میں قمار کی صورت ہو کہ جانبین سے مال کی شرط ہو یا کسی ورزش میں کفّار یا فسّاق کا اختلاط ناگزیر ہو یا کسی ورزش کا اثر طبائع پر یہ پیدا ہوتا ہو کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں کفار کے ساتھ تشبہ کرنا معیوب نہ رہے بلکہ تشبہ کی رغبت پیدا ہو یا اس کے مثل اور کوئی عارض شرعی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved