• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی، بیٹی اور بھتیجوں میں رقم کی تقسیم

استفتاء

ایک وراثت کا مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایک صاحب فوت ہو گئے ہیں ان کی ایک زوجہ اور تین بیٹیاں موجود ہیں، بیٹا کوئی نہیں ہے۔ والدین، دو بھائی اور ایک بہن ان کی زندگی میں ہی وفات پا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کا ایک بھانجا اور تین بھانجیاں موجود ہیں، چار بھتیجے اور دو بھتیجیاں بھی موجود ہیں۔ مرحوم نے اگر قرض ادا کرنے کے بعد  اور  اگر کوئی وصیت کی ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد 60 ہزار روپے وراثت میں چھوڑے  ہوں  تو  ان 60ہزار روپوں  میں سے کس کس کو  حصہ ملے گا اور کتنا کتنا ملے گا ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  60 ہزار روپے کے 288 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو 36 حصے (12.5 فیصد) یعنی 7500 روپے، ہر ایک بیٹی کو 64 حصے (22.22 فیصد فی کس) یعنی 13333 روپے اور ہر ایک بھتیجے کو  15 حصے (5.20 فیصد فی کس)  یعنی 3125 روپے ملیں گے۔

نوٹ: مذکورہ صورت میں بھتیجیوں اور بھانجے، بھانجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

24×12=288

بیوی3 بیٹیاں4 بھتیجے
8/13/25
3×1216×125×12
3619260
3664+64+6415+15+15+15

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved