- فتوی نمبر: 32-95
- تاریخ: 14 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک وراثت کا مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایک صاحب فوت ہو گئے ہیں ان کی ایک زوجہ اور تین بیٹیاں موجود ہیں، بیٹا کوئی نہیں ہے۔ والدین، دو بھائی اور ایک بہن ان کی زندگی میں ہی وفات پا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کا ایک بھانجا اور تین بھانجیاں موجود ہیں، چار بھتیجے اور دو بھتیجیاں بھی موجود ہیں۔ مرحوم نے اگر قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر کوئی وصیت کی ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد 60 ہزار روپے وراثت میں چھوڑے ہوں تو ان 60ہزار روپوں میں سے کس کس کو حصہ ملے گا اور کتنا کتنا ملے گا ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں 60 ہزار روپے کے 288 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو 36 حصے (12.5 فیصد) یعنی 7500 روپے، ہر ایک بیٹی کو 64 حصے (22.22 فیصد فی کس) یعنی 13333 روپے اور ہر ایک بھتیجے کو 15 حصے (5.20 فیصد فی کس) یعنی 3125 روپے ملیں گے۔
نوٹ: مذکورہ صورت میں بھتیجیوں اور بھانجے، بھانجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×12=288
| بیوی | 3 بیٹیاں | 4 بھتیجے |
| 8/1 | 3/2 | 5 |
| 3×12 | 16×12 | 5×12 |
| 36 | 192 | 60 |
| 36 | 64+64+64 | 15+15+15+15 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved