• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حکومت کی طرف سے ضرورت کا سامان خریدنے پر ملنے والا ڈسکاؤنٹ لینا یا اس ڈسکاؤنٹ کو لینے کے لیے غلط بیانی کرنا۔

استفتاء

ایک مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ  حکومت کی طرف سے عوام کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ جو لوگ مہینے کی پہلی تاریخ سے لے کر پانچ تاریخ تک پندرہ ہزار روپے تک  دکانداروں سے  گھریلو ضرورت کا سامان لیں گے ان کو حکومت 30فیصد تک رعایت دے گی۔ سامان دکاندار سے پوری قیمت پر لیا جائے گا۔ادائیگی دکاندار کو پوری کر دی جائے گی اور بل حکومت کے پاس جمع کروایا جائے گا۔ حکومت 30فیصد کی رعایت سے جو رقم باقی بنتی ہے وہ بل والے کو لوٹا دے گی یعنی دکاندار کو پندرہ ہزار ادا کر دیا جائے گا اور بعد میں بل جمع کروانے پر حکومت اس کاہگ کو 4500 روپے اپنی طرف سے لوٹا دے گی۔

(۱)آیا اس سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؟

(۲)کچھ لوگ ان مخصوص تاریخوں میں سامان نہیں لیتے بلکہ پہلے یا بعد میں لیتے ہیں اور سامان کا بل ان مخصوص تاریخوں کا بنوا کر جمع کرواتے ہیں۔کیا  ان کا ایسا کرنا جائز ہے؟

(۳)کچھ لوگ سامان کا بل چند مخصوص چیزوں کا بنواتے ہیں اور بعد میں دوسری چیزیں لیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

(۴)کچھ لوگ سامان لیتے ہی نہیں اور نہ ہی دوکاندار کو ادائیگی کرتے ہیں صرف دکاندار سے جعلی بل بنوا کر حکومت کے پاس جمع کرواتے ہیں اور 30فیصد کی رقم حاصل کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟

وضاحت مطلوب ہے کہ: یہ سکیم کہاں پر دی گئی ہے ؟ اس سکیم کا نام کیا ہے؟

جواب وضاحت: بلوچستان میں “ویلفئیر سکیم” کے نام سے ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(۱) حکومتی شرائط کے مطابق مذکورہ سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔

(۲) مذکورہ صورت  میں چونکہ حکومتی شرائط کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور غلط بیانی کرکے رعایت لی جاتی ہے اس لیے یہ صورت جائز نہیں ہے۔

(۳) اس کا جواب نمبر ۲ والا ہے۔

(۴) اس کا جواب بھی نمبر ۲ والا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved