• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اجیر خاص کا ملازمت کے اوقات میں اپنا کاروبار کرنا

استفتاء

مفتی صاحب  میں کورئیر کمپنی میں کام کرتا ہوں، کورئیر کمپنی سے سپاری بھیجنا  منع ہے، میں پک اپ کورئیر کے ساتھ ملا ہوا ہوں اور ہم دونوں کمپنی سے چھپ کر کوئٹہ سے کراچی سپاری بھیجتے ہیں اور جو بندہ سپاری بھجوا رہا ہے اس سے پیسے لیتے ہیں۔ کیا یہ پیسے لینا حرام ہے؟

وضاحت مطلوب ہے:” کمپنی سے چھپ کر کوئٹہ سے کراچی سپاری بھیجتے ہیں” اس کی صورت کیا ہوتی ہے؟ کمپنی کی پیکنگ اور ڈبوں میں سپاری بھجوادیتے ہیں یا کچھ اور؟

جواب وضاحت: کمپنی کی پیکنگ نہیں ہے اپنی پیکنگ میں بھجواتے ہیں۔البتہ گاڑی کمپنی کی ہی ہوتی ہے یعنی جس  گاڑی میں کورئیر کمپنی کا باقی سامان جاتا ہے ساتھ ہی سپاری بھی بھجوادیتے ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ لوگوں کے ساتھ ہماری باہمی مفاہمت ہوتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ طریقے سے پیسے کمانا آپ کے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ آپ کمپنی کی گاڑی اور اپنے وقت کا جو کمپنی کو دیا ہوا ہے غلط استعمال کررہے ہیں اور کمپنی سے خیانت کررہے ہیں۔

شامی(6/70) میں ہے:٫

‌وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.

شامی(6/64) میں ہے:

والخاص ‌لا ‌يمكنه ‌أن ‌يعمل ‌لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر والأجر مقابل بالمنافع ولهذا يبقى الأجر مستحقا وإن نقض العمل اهـ.

قال أبو السعود: يعني وإن نقض عمل الأجير رجل، بخلاف ما لو كان النقض منه فإنه يضمن.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved