• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کمپنی کا نام “لاریب فوڈز” رکھنے کا حکم

استفتاء

ہم نے لاریب فوڈز کے نام سے کمپنی کا آغاز کیا ہے  جو کہ الحمداللہ تین سال سے چل رہی ہے۔ کمپنی کا نام “لاریب فوڈز” رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ کمپنی  کے مالک کی بیٹی کا نام “لاریب “ہے۔ اورکمپنی انہی کے طرف منسوب ہے۔نیز  یہ وجہ بھی سامنے تھی کہ” لاریب “کے لغوی معنی کے اعتبار سے ” اس کمپنی کے معیار میں کوئی شک نہیں ہے”   واضح رہے کہ  بالکل بر اہ ر است قرآن مجید سے یہ لفظ نہیں لیا گیا۔

شرعی حوالے سے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اگر ہم یہ نام قرآن مجید کے احترام میں عربی کی بجائے ” اردو ” میں یا رومن انگریزی میں مثلا “Laraib” اپنے پیکنگ میٹریل ( جن میں اشیاء پیک کر کے دیتے ہیں ) پر لکھیں تو:

1۔ ہمارا یہ لکھنا درست ہے یا نہیں؟

2۔اگر درست ہے تو ہم اسے  اردو  انگلش دونوں میں لکھ سکتے ہیں یا صرف انگلش میں ہی لکھیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

2،1۔ “لاریب” عربی زبان کا لفظ ہے ، یہ لفظ اگرچہ قرآن میں بھی آیا ہے لیکن ہر جگہ اس کا قرآن  کا جز ہونا لازمی نہیں ہے اس لیے جہاں یہ لفظ کسی انسان یا کمپنی کے نام کے طور پر استعمال ہو وہاں قرآن  کا جز شمار  نہیں ہوگا اور ایسی   صورت میں  اس کو عربی، اُردو اور رومن ہر طرح   لکھنا درست ہوگا۔

مذکورہ صورت میں چونکہ  یہ لفظ کمپنی کے نام  کے طور پر استعمال ہوا ہے قرآن کے لفظ کے طور پر استعمال نہیں ہوا  اس لیے پیکنگ میٹریل پر عربی، اُردو اور رومن تینوں طرح لکھنا درست ہے۔

ہندیہ(5/ 323) میں ہے:

«‌لا ‌بأس ‌بكتابة اسم الله تعالى على الدراهم؛ لأن قصد صاحبه العلامة لا التهاون، كذا في جواهر الأخلاطي»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved