- فتوی نمبر: 32-114
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
1۔اکثر مسجدوں میں سامنے شیشے کے دروازے ہوتے ہیں تو ان میں عکس نظر آتا ہے تو کیا اس صورتحال میں نماز ہو جائے گی؟
2۔کیا مؤذن اذان دینے کے بعد صدائے مدینہ کے لیے یا کسی اور کام کے لیے مسجد سے باہر جا سکتا ہے؟
3۔اذانِ فجر کے بعد تحیّۃالمسجد اور تحیّۃ الوضو پڑھنا کیسا ہے ؟
4۔اذانِ فجر کے بعد کوئی اور نفل پڑھنا کیساہے ؟
5۔جنازہ کے فوراً بعد اکثر اعلان کیا جاتا ہے کہ گھر پر کھانے کا اہتمام ہے تمام حضرات کھانا کھا کر جائیں تو یہ باقاعدہ اعلان کرنا کیسا ہےاور اعلان کے بعد لوگوں کا میت کے گھر سے کھانا کھانا کیسا ہے؟
تنقیح: صدائے مدینہ کا مطلب ہے کہ لوگوں کو اذان فجر کے بعد ان کے مکانوں پر جا کر جگانا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)نماز ہوجائے گی۔
(2) صدائے مدینہ کے لئے نکلنا درست نہیں۔ باقی کسی اور ضرورت کی وجہ سے باہر جا سکتا ہے۔
(3)فجر کی اذان کے بعد تحیۃالمسجد یا تحیۃالوضو پڑھناجائز نہیں۔
(4)فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی اور نفل پڑھنا بھی جائز نہیں۔
(5)مذکورہ اعلان درست ہے تا ہم اس میں یہ کہہ دیا جائے کہ جو لوگ دور سے آئے ہیں وہ کھانا کھا کر جائیں باقی جو لوگ محلے کے ہیں یا قریب کے ہیں ان کے لئے یہ کھانا کھانا درست نہیں۔
خیر الفتاوی (2/433)میں ہے:
سوال: خانپور میں ایک جامع مسجد ہے جس کا محراب چھوٹے بڑے گول چوکورشیشوں سے مزین ہے۔ جب امام صاحب محراب میں کھڑے ہوتے ہیں یا مقتدی صفوں میں کھڑے ہو کر نماز اداکرتے ہیں تو ان کے وجود ان شیشوں میں نظر آتے ہیں ۔ آیا ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟
جواب :شیشہ میں دکھائی دینےوالی صورتیں تصویر کا حکم نہیں رکھتی کیونکہ یہ عکس ہے۔ ورنہ آئینہ کی بھی اجازت نہ ہوتی۔ لیکن ایک دوسری وجہ سے کراہت موجود ہے بشر طیکہ مخل خشوع ہو اور دل کی مشغولی کا باعث ہو۔
(2)در مختار(1/612)میں ہے:
( وكره) تحريما للنهي (خروج من لم يصل من مسجد أذن فيه) جرى على الغالب، والمراد دخول الوقت أذن فيه أو لا (إلا لمن ينتظم به أمر جماعة أخرى) أو كان الخروج لمسجد حيه ولم يصلوا فيه، أو لاستاذه لدرسه، أو لسماع الوعظ، أو لحاجة ومن عزمه أن يعود .
فتاوی رشیدیہ(5/550)میں ہے:
سوال : بعد اذان کے اگر نمازی نہ آویں تو ان کو بلانا درست ہے یا نہیں؟
جواب : اگر احیاناً کسی کو بعد اذان بوجہ ضرورت بلوا لیں تو درست ہے مگر اس کی عادت ڈالنی اور ہمیشہ کا التزام نا درست ہے۔
کفایت المفتی(2/37)میں ہے:
سوال : فجر کی اذان دینے کے بعد مؤذن یا دوسرا کوئی شخص محلہ والوں کو نماز کے لیے سارے محلہ میں گھر گھر پھر کر بیدار کر سکتا ہےیا نہیں؟ اگر کر سکتا ہے تو کیوں کر اور نہیں کر سکتا تو اس کی توضیح فرمائیں۔
جواب :یہ عمل اول تو تثویب میں داخل نہیں بلکہ اس سے زیادہ حیثیت رکھتا ہے، دوسرے تثویب بھی ایک امر مستحدث اور مبتدع ہے، اذان سے پہلے بہ نیت امر بالمعروف اس امر کی گنجائش ہے ، اذان کے بعد یہ امر کراہت سے خالی نہیں ہے۔
(3۔4)درمختار(1/45)میں ہے:
(وكره نفل) قصدا ولو تحية مسجد(بعد صلاة فجر۔۔۔۔وكذا) الحكم من كراهةنفل(بعد طلوع فجر سوى سنته)
حاشیۃالطحطاوی(188)ميں ہے:
ويكره التنفل بعد طلوع الفجر بأكثر من سنته
(5)باقیات فتاوی رشیدیہ(196)میں ہے:
جواب : میت کے گھر کا کھانا جو صدقہ کا ہے، وہ تو جائز فقراء کو ہے غنی کومکروہ ہے اور جواہل میت برادری کی روٹی پکاویں وہ مکروہ تحریمی اور حرام ہے۔ اور و فخر وریاء کا طعام ہو وہ بھی حرام ہے، اور جودور سے مہمان تعزیت کے واسطے آوے، اس کو کھانا درست ہے، خواہ قبل سہ روز کے ہو، یا بعد سہ روز کے ہو۔
کفایت المفتی(4/110)میں ہے:
جواب :اہل میت کے گھر ضیافت کھانے کی جو رسم پڑ گئی ہے یہ یقینا واجب الترک ہے صرف اہل میت کے وہ عزیز واقارب جو دور دور سے آئے ہوں اور ان کی امروز واپسی نہ ہو سکے یا اہل میت کی تسلی کے لیے ان کا قیام ضروری ہو وہ میت کے گھر کھانا کھا لیں تو خیر ، باقی تمام تعزیت کرنے والوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہیے۔ نہ میت کے گھرقیام کریں ، نہ ضیافت کھائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved