- فتوی نمبر: 32-117
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری وہ ملکیت جو میری وفات کے بعد وراثت بن جائے (1)اسے میں اپنی زندگی میں تقسیم کر سکتا ہوں؟ میری ایک بیوی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے،(2) تقسیم کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ (3)میں اپنے لیے کتنا رکھ سکتا ہوں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)کرسکتے ہیں۔
(2-3) اپنے لیے جتنا رکھنا چاہیں اتنا رکھ کر باقی میں سے آٹھواں حصہ بیوی کو دیدیں اس کے بعد جو باقی بچے اسے بیٹے ،بیٹیوں میں برابر تقسیم کردیں یہ افضل ہے اور یہ بھی کرسکتے ہیں کہ بیٹے کو دو حصے دیں اور ہر بیٹی کو ایک، ایک حصہ دیدیں ۔ نیز بیوی یا بیٹے ، بیٹیوں میں سے کسی کو کسی خاص وجہ سے ذکر کردہ حصوں سے کم وبیش دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
بنایہ شرح ہدایہ(3/282)میں ہے:
یتصرف المالک فی ملکه کیف شاء
شامی (4 / 444) میں ہے:
ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى.
ہندیہ(7/ 391)میں ہے:
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved