- فتوی نمبر: 34-314
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
عام مشہور ہے کہ غنی کے بچے کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کے حق میں باپ کا غناء معتبر ہے، سوال یہ ہے کہ غناء صغیر کی اصل علت کیا ہے؟ غناء الکفیل علت ہے یا کچھ اور ہے؟ اگر اصل علت غناء الکفیل ہے یعنی کفیل کا غناء مکفول کا غناء ہے تو جو بچی بالغہ ہو جائے تو کیا وہ بھی زکوۃ کی مستحق نہ ہوگی کہ وہ شرعا باپ کے زیر کفالت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غناء صغیر کا اصل مدار غناء الکفیل پر ہی ہے مگر یہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے قبل البلوغ کے ساتھ لہٰذا غنی کی اولاد قبل البلوغ باپ کے غناء کی وجہ سے چونکہ غنی شمار ہوتی ہے اس لیے ان کو زکوۃ دینا جائز نہیں جبکہ بعد البلوغ باپ کے غنا ءکی وجہ سے غنی شمار نہیں ہوتی اس لیے اگر وہ فقیر ہوں تو ان کو زکوۃ دینا جائز ہے لہذا غنی کی بالغہ بچی (اگرچہ وہ باپ کے زیر کفالت ہو) کو زکوۃ دینا جائز ہے کیونکہ بعد البلوغ وہ باپ کے غناء کی وجہ سے مالدار شمار نہیں ہوگی۔
فتح القدیر (2/272) میں ہے:
(قوله ولا إلى ولد غني إذا كان صغيرا) ولا فرق بين الذكر والأنثى، وبين أن يكون في عيال الأب أو لا في الصحيح، وفي الفتاوى: لو دفع الزكاة إلى ابنة غني يجوز في رواية عن أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة ومحمد، وكذا إذا دفع إلى فقير له ابن موسر.
وقال أبو يوسف إن كان في عيال الغني لا يجوز وإن لم يكن جاز (قوله وإن كانت نفقته عليه) بأن كان زمنا أو أعمى ونحوه بخلاف بنت الغني الكبيرة فإنها تستوجب النفقة على الأب، وإن لم يكن بها هذه الأعذار وتصرف الزكاة إليها لما ذكر في الابن الكبير
تبیین الحقائق (1/303) میں ہے:
لا يجوز دفعها إلى عبد الغني وولده الصغير ………. وأما ولده الصغير فلأنه يعد غنيا بيسار أبيه بخلاف ما إذا كان كبيرا لأنه لا يعد غنيا بمال أبيه وإن كانت نفقته عليه ولا فرق في ذلك بين الذكر والأنثى وبين أن يكون في عيال الأب أو لم يكن في الصحيح وبخلاف امرأة الغني لأنها لا تعد غنية بيسار الزوج وبقدر النفقة لا تصير موسرة
البحر الرائق (2/265) میں ہے:
وإنما منع من الدفع لطفل الغني؛ لأنه يعد غنيا بغناء أبيه كذا قالوا، وهو يفيد أن الدفع لولد الغنية جائز؛ إذ لا يعد غنيا بغناء أمه ولو لم يكن له أب، وقد صرح به في القنية وأطلق الطفل فشمل الذكر والأنثى ومن هو في عيال الأب أو لا على الصحيح لوجود العلة وقيد بالطفل؛ لأن الدفع لولد الغني إذا كان كبيرا جائز مطلقا وقيد بعبده وطفله؛ لأن الدفع إلى أبي الغني وزوجته جائز سواء فرض لها نفقة أو لا
البنایہ شرح الہدایہ (3/470) میں ہے:
(ولا إلى ولد غني إذا كان صغيرا، لأنه يعد غنيا بمال أبيه) ش: لأنه تجب ولاية الأب ومؤنته. وفي ” قنية المنية “: إذا لم يكن للصغير أب وله أم غنية يجوز الدفع إليه، وفي ” الذخيرة “، وذكر في بعض ” شروح الجامع الصغير ” إن على قول أبي حنيفة – رَحِمَهُ اللَّهُ – يجوز الدفع إلى ولد الغني صغيرا كان أو كبيرا، وقال صاحباه: يجوز في ” الكبير ” دون الصغير م: (بخلاف ما إذا كان كبيرا فقيرا، لأنه لا يعد غنيا بيسار أبيه وإن كانت نفقته عليه) ش: كلمة إن واصلة بما قبلها، أي كانت نفقة الولد الكبير على الأب بأن كان زمنا أو أعمى أو أنثى.
م: (وبخلاف امرأة الغني لأنها إذا كانت فقيرة لا تعد غنية بيسار زوجها وبقدر النفقة لا تكون موسرة) ش: لأن مقدار النفقة لا يغنيها، وفي ” التحفة “: يجوز الدفع إلى امرأة الغني إذا كانت فقيرة، وكذلك إلى البنت الكبيرة فقيرة، يعني وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف – رَحِمَهُ اللَّهُ -، لأن الزوج لا يدفع حوائج الزوجية والبنت الكبيرة
فتاوی دارالعلوم دیوبند (6/146)میں ہے:
سوال: مال زکوۃ وصدقات واجبہ ان اطفال بالغین کو دیں کہ خود مفلس محض ہوں لیکن والدین ان کے ذی نصاب ہوں تو جائز ہے یا نہیں اور زکوۃ وغیرہ ادا ہوگی یا نہیں؟
الجواب: غنی کی محتاج اولاد صغار کو زکوۃ وغیرہ صدقات واجبہ دینا درست نہیں ہے اس سے زکوۃ ادا نہ ہوگی
فتاوی دارالعلوم دیوبند (6/172)میں ہے:
سوال: جو مصرف زکوۃ نہیں اس کا لڑکا بالغ جو اس کے ساتھ کھاتا ہے وہ مصرف زکوۃ ہے یا نہیں؟
الجواب: فقیر کا لڑکا جو کہ خود بھی مالک نصاب نہیں ہے مصرف زکوۃ وغیرہ ہے۔
فتاوی حقانیہ(4/52)میں ہے:
سوال: کسی مالدار شخص کے بچوں کو زکوۃ دینے کا کیا حکم ہے جبکہ بچوں کی کفالت اور خرچ وغیرہ باپ کے ذمے ہوں؟
الجواب: بلوغ کے بعد اولاد اور والدین میں ملکیت کے اعتبار سے اجنبیت محسوس ہونے کی وجہ سے کوئی ملکیتی اتحاد نہیں رہتا اس لیے باپ کی مالداری سے بچے کی حالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے مالدار آدمی کے غریب بالغ بچے کو زکوۃ دینا جائز ہے لیکن قبل البلوغ بچے کی تمام ضروریات کی ذمہ داری والد پر عائد ہوتی ہے لہذا یہ غناء میں والد کے تابع رہ کر والد کے غنی ہونے کے وقت اس کے نابالغ بچوں کو زکوۃ دینا جائز نہیں۔ قال ابن ابی بکر المرغینانی: ولا إلى ولد غني إذا كان صغيرا، لأنه يعد غنيا بمال أبيه، بخلاف ما إذا كان كبيرا فقيرا، لأنه لا يعد غنيا بيسار أبيه وإن كانت نفقته عليه
فتاوی فریدیہ(3/526)میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ(1) نابالغ جس کے والدین غریب ہوں کو زکوۃ دینا جائز ہے؟(2) اگر باپ مالدار ہو اور بیٹا یا بیٹی بالغ ہو اور والد کے زیر کفالت ہو تو کیا ان کو زکوۃ دینا جائز ہے جبکہ بالغ بیٹا بیٹی خود غنی نہ ہو؟(3) اگر زیر کفالت نابالغ بچے کا والد غریب ہو اور والدہ مالدار ہو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے؟
الجواب: (1)جس نابالغ کے والدین غریب ہوں اور یہ نابالغ خود بھی غریب ہوں تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے(2) بالغ جب مالدار نہ ہو تو ان کو زکوۃ دینا درست ہے اگرچہ ان کے والدین میں صرف والد یا صرف والدہ اغنیاء میں سے ہو(3) ہاں جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved