• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کریڈٹ کارڈ پر کھانا خریدنے اور ڈسکاؤنٹ لینے کا حکم

استفتاء

حضرت ایک بات پوچھنی تھی کہ آجکل کریڈٹ کارڈ پر ہر ہوٹل ڈسکاؤنٹ دے رہا ہے جوکہ 10٪ سے لیکر 50٪ تک ہے ۔کیا کریڈٹ کارڈ پر کھانا کھانا اور ڈسکاؤنٹ جائزہے؟

الجواب: ہوٹل وغیرہ سے یہ ڈسکاؤنٹ لینا تو جائز ہے لیکن کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں کیونکہ اس میں آدمی سود دینے پر مشروط آمادگی کااظہار کرتا ہے۔[غیر رسمی، مجیب: مفتی ****، مصحح: مفتی ****]

سوال بعد از جواب : 1۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ڈسکاؤنٹ صرف کریڈٹ کارڈ پر ملتا ہے کیش پیمنٹ دینے پر نہیں ملتا۔ آپکے جواب سے جو بات میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا جائز نہیں تو پھر کریڈٹ کارڈ پر ڈسکاؤنٹ لینا بھی جائز نہیں ہونا چاہیے ۔

2۔اب ایک بات اور بھی ہے کہ کسی نے ہوٹل میں میری دعوت کی اور مجھے معلوم ہے کہ وہ پیمنٹ کریڈٹ کارڈ سے کرے گا تو  ایسے دوست کی دعوت قبول کی جائے یا معذرت کر لی جائے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہمارے جواب سے آپ کا یہ سمجھنا درست نہیں کہ”کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا جائز نہیں تو پھر کریڈٹ کارڈ پر ڈسکاؤنٹ لینا بھی جائز نہیں ہونا چاہیے”کیونکہ ڈسکاؤنٹ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ قرض لی ہوئی رقم سے ادائیگی کرنے پر ملتا ہے اور قرض کی رقم میں حرمت نہیں لہذا کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ اس قرض لی ہوئی رقم سے ادائیگی کرنا اور ڈسکاؤنٹ لینا جائز ہے باقی رہی کریڈٹ کارڈ کے استعمال کو ناجائز کہنے کی وجہ؟تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی جائز نہ تھا کیونکہ اس پر آدمی سود دینے کی مشروط آمادگی کا معاہدہ کرتا ہے اور اگر کسی نے لاعلمی میں بنوا لیا تو اس گناہ سے نکلنے کا طریقہ یہ تھا کہ توبہ کے ساتھ ساتھ وہ اس کارڈ کو ختم کروا دیتا جیسا کہ توبہ کی شرائط میں سے ہے لیکن جب وہ اسے ختم نہیں کر رہا اور استعمال کیئےجا رہا ہے تو وہ اپنے سابقہ گناہ پر بر قرار ہے۔

2۔چونکہ کریڈٹ کارڈ کی بنا پر خریدی ہوئی چیز میں کوئی مسئلہ (حرمت) نہیں اس لیے   آپ کے لیے وہ دعوت  کھانا حلال تو ہے لیکن کسی نہ کسی درجہ میں اس دوست کے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے میں ظاہرا آمادگی کا اظہار ہے اس لیے احتیاط کریں تو بہتر ہے تاکہ اگلے شخص کو بھی اس کے استعمال کے ناجائز ہونے کا احساس ہو سکے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved