- فتوی نمبر: 34-320
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > عملیات، تعویذات اور جادو و جنات
استفتاء
میں نے کسی کی اچھی شکل صورت دیکھی یا کسی کے پاس کوئی چیز اچھی دیکھی اور بے ساختہ اس کی تعریف کی اور میں ماشاءاللہ کہنا بھول گئی پھر مجھ کو پتہ لگا اگر وہ انسان تھا تو اس کا کچھ کام خراب ہو گیا اگر وہ چیز تھی تو وہ خراب ہو گئی مجھے دل میں خیال آیا کہ شاید اس کو میری نظر لگ گئی کہ میں نے اس وقت اس کو ماشاءاللہ نہیں کہا تو اب میرے لیے کیا کام ضروری ہے کہ میں کیا کروں کہ جس سے اگر میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میری نظر لگی ہے تو وہ نظر ختم ہو جائے مجھے اس کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے ذمے کوئی عمل لازم نہیں ہے۔
توجیہ: اولاً تو یہ متعین نہیں ہے کہ اس انسان کے کام کے خراب ہونے یا اس چیز کے خراب ہونے کی وجہ آپ کی نظر لگنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نظر کے علاوہ کوئی اور سبب ہو اس لیے آپ پر کچھ لازمی نہیں ہے۔ البتہ آپ اس خرابی کے دور ہونے کی اللہ تعالی سے دعا کر سکتی ہیں یا نظر دور کرنے کا دم کرسکتی ہیں یا نظر دور کرنے کا تعویذ دے سکتی ہیں۔
صحیح بخاری (3/ 1233 ) میں ہے:
حدثنا عثمان بن أبي شيبة: حدثنا جرير، عن منصور، عن المنهال، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين، ويقول: (إن أباكما كان يعوذ بها إسماعيل وإسحاق: أعوذ بكلمات الله التامة، من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة)»
المفاتيح فی شرح المصابيح (2/ 393) میں ہے:
«قوله: “ومن كل عين لامة”، (اللامة): ما يلم به الإنسان؛ أي: ينزل؛ من جنون وغيره؛ يعني: ومن عين حاسدة يحصل منها ضرر بالإنسان
سنن الترمذی (4/ 395) میں ہے:
2058 – حدثنا هشام بن يونس الكوفي قال: حدثنا القاسم بن مالك المزني، عن الجريري، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان فلما نزلتا أخذ بهما وترك ما سواهما»:
المفاتيح فی شرح المصابيح (5/ 86) میں ہے:
«قوله: “يتعوذ من الجان وعين الإنسان”؛ يعني: كان يقول: أعوذ بالله من الجان وعين الإنسان، قبل أن تنزل عليه المعوذتان، فلما نزلتا كان يقرؤهما على نفسه وعلى كل من احتاج إلى رقية، وترك قراءة التعوذ من الجان وعين الإنسان وما أشبه ذلك»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved