• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ورثاء میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

زید   کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں تین بیٹے (خالد ، بکر ،  عمر )    اور دو بیٹیاں تھیں، زید کی بیوی ان کی زندگی میں فوت ہوگئی تھی، نظام دین کی وفات کے بعد دو بیٹے( عمر ، بکر )   فوت ہوئے ۔ عمر  کنوار ہ تھا اور  بکر کے ورثاء میں صرف اس کی بیوی موجود ہے، کوئی اولاد نہیں ہے۔  سوال یہ ہے کہ زید  کی وراثت درج بالا ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  زید  کی کُل مالیت / ترکہ کے 48 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 22 حصے (45.83 فیصد) بیٹے (خالد ) کو، 11 حصے (22.92 فیصد فی کس) ہر بیٹی کو اور 4 حصے(8.33 فیصد)  بیٹے (بکر ) کی بیوی کو ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved