- فتوی نمبر: 34-326
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
میرے شوہر نے مجھے بند کمرے میں طلاق دی ہے اور وہ اپنی بات سے منکر نہ ہوں اس لیے میں نے ان کی ریکارڈنگ کی ہے۔ شوہر کے ساتھ میاں بیوی والا تعلق بمشکل پانچ مہینے رہا ہے۔میری جب شادی ہوئی اس وقت سے یہ ٹھیک نہیں ہے پھر جب ٹھیک ہوئے اللہ نے ڈھائی سال بعد مجھے بیٹی سے نوازا اور اب میری بیٹی ساڑھے تین سال کی ہو گئی ہے مگر اب وہ پھر پہلے کی طرح ہی ہوگئے ہیں۔
جب مجھے طلاق دی تو میں نے اپنے گھر رابطہ کیا،مجھے اور میری بیٹی کو میرا بھائی گھر لے آیا۔آج پانچ دن ہو گئے ہیں جب سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا میں اس کو طلاق سمجھتی ہوں اورشوہر کیساتھ رہنا نہیں چاہتی۔شوہر نے مجھے یہ الفاظ تین بار کہے ہیں کہ”میں تجھ کو طلاق دیتا ہوں”
وضاحت مطلوب ہے: 1۔شوہر یا شوہر کے والد کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔2۔ ریکارڈنگ ارسال کریں۔
جواب وضاحت:(1) ******(شوہر کا نمبر)، *****(شوہر کے والد کا نمبر) ۔ (2) ریکارڈنگ بھیج دی ہے ۔
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا لیکن شوہر سے رابطہ نہ ہوسکا تو شوہر کے والد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ میں نے بیٹے سے پوچھا تھا کہ کتنی بار طلاق کے الفاظ کہے ہیں تو اس نے کہا کہ تین بار کہے ہیں۔ نیز بیوی نے جو ریکارڈنگ بھیجی ہے اس میں شوہر نے دو بار یہ الفاظ کہنے کا اقرار کیا ہے جبکہ بیوی اس ریکارڈنگ میں شوہر سے حلفاً یہ بات کہہ رہی ہے کہ تم نے یہ الفاظ تین بار کہے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی اگر واقعتاً اپنے بیان میں سچی ہے تو بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،لہذا بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے اور بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔
توجیہ:طلاق کے معاملے میں بیوی قاضی کی حیثیت رکھتی ہے یعنی اگر بیوی شوہر سے طلاق کے الفاظ خود سن لے یا اسے کوئی معتبر آدمی طلاق کا بتادے تو بیوی کے لیے اپنے سنے ہوئے اور معتبر آدمی کے بتائے ہوئے پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔مذکورہ صورت میں چونکہ بیوی کا حلفاً یہ موقف ہے کہ شوہر نے تین مرتبہ مجھے یہ کہا ہے کہ” میں تجھ کو طلاق دیتا ہوں” لہٰذا مذکورہ صورت میں کم از کم بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی شوہر کے لیے حرام ہو چکی ہے۔
نوٹ: اگر شوہر نے “میں تجھ کو طلاق دیتا ہوں” کے الفاظ صرف دو دفعہ کہے ہوں اور شوہر عدت گذرنے سے پہلے رجوع کرلے تو بیوی کے لیے آگے نکاح کرنا حرام ہوگا۔
فتاوی شامی (3/ 251) میں ہے :
«والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل»
بدائع الصنائع (3/ 187) میں ہے :
«وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة» .
فتاویٰ محمودیہ (13/298) میں ہے:
سوال: زید نے کہا تین مرتبہ”میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں”زوجہ کا باپ لڑکی کو اپنے ہمراہ لے گیا،زید طلاق سے منکر ہے اور کہتا ہے کہ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر تم لے گئے تو میں طلاق دے دوں گا۔۔۔۔زوجہ الفاظ مذکور سابقہ کا خود سننا ظاہر کرتی ہے۔ صورت مذکورہ میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب:جب عورت نے تین مرتبہ طلاق دینا خود سنا ہے تو پھر اس کیلیے زید کو اپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں۔جو جائز صورت بھی عورت کے قبضہ میں ہو زید سے بچنے کی اختیار کی جاوے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved