• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بچی کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟

استفتاء

میرا نام عمران ہے۔ میری دوسری بیوی سے ایک بیٹی ہے جوکہ اس کے پہلے خاوند سے ہے اور دوسری بیوی بیوہ تھی اس کا خاوند انتقال کرچکا ہے مجھے یہ بتائیں کہ میری دوسری بیوی سے  جو بچی آئی تھی  اب اس کا ولی کون ہوسکتا ہے؟ جبکہ دو خالہ اور سات ماموں زندہ سلامت ہیں، نانا/ نانی کا انتقال  ہوچکا ہے ، دادا، دادی حیات ہیں، ضعیف ہیں۔ چچا بھی ہیں بچی کا دادا کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ بچی ان کے پاس جانا چاہتی ہے  اس تناظر میں بتائیں کہ بچی کا ولی کس  کو بنایا جائے گا؟

وضاحت مطلوب ہے: 1۔بچی کی عمر کیا ہے؟

جواب وضاحت:آٹھ سال۔  بچی وہ لینا چاہتے ہیں جبکہ میں (سوتیلا باپ) رکھنا چاہتا ہوں بچی کی خالہ اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

مزید وضاحت مطلوب ہے: خالہ کا شوہر بچی کا پہلے سے رشتہ دار تھا  یا نہیں؟

جواب وضاحت:نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  پرورش کا حق نہ خالہ کو ملے گا اور نہ ہی سوتیلے باپ  کو بلکہ پرورش کا حق ان کو ملے گا جو بچی کے عصبہ بنتے ہیں اور عصبات کی ترتیب میں والد کے بعد دادا ہے پھر بھائی، پھر چچا ہے لہذا مذکورہ صورت  میں اگر دادا پرورش کر سکتا ہے تو وہ حقدار ہے اگر وہ نہیں کر سکتا تو بچی کا چچا حقدار ہے۔

توجیہ:  پرورش کا حق سب سے پہلے ماں کو حاصل ہوتا ہے پھر نانی کو ملتا ہے پھر دادی کو ملتا ہے پھر بہن کو ملتا ہے پھر خالہ کو ملتا ہے پھر پھوپھی کو ملتا ہے لیکن  اگر ان کے شوہر بچی کے  لیے غیر محرم ہوں  تو پھر پرورش کا حق عصبات کو ملتا ہے مذکورہ صورت میں اگرچہ خالہ موجود ہے لیکن چونکہ اس  شوہر( خالو) بچی کے لیے نامحرم ہے لہذا پرورش کا حق دادا کو ملے گا اگر وہ نہیں کر سکتا تو چچا کو ملے گا  خالہ اور سوتیلے باپ کو پرورش کا حق نہیں ہے ۔

البحر الرائق (4/181) میں ہے:

(قوله ‌أحق ‌بالولد ‌أمه قبل الفرقة وبعدها) أي: في التربية والإمساك ……….. (قوله ثم أم الأم) يعني بعد الأم الأحق أمها ……….. (قوله ثم أم الأب وإن علت) فهي مقدمة على الأخوات والخالات ……….. (قوله ثم الأخت لأب وأم ثم لأم ثم لأب) يعني فهن أولى من العمات والخالات ………. (قوله ثم الخالات كذلك) أي: فهن أولى من العمات ترجيحا لقرابة الأم ………  (قوله ثم العمات كذلك) ….. (قوله ‌ومن ‌نكحت ‌غير ‌محرم سقط حقها)….. (قوله ‌ثم ‌العصبات بترتيبهم) يعني إن لم يكن للصغير أحد من محارمه من النساء واختصم فيه الرجال فأولاهم به أقربهم تعصيبا؛ لأن الولاية للأقرب فيقدم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا ثم الأخ الشقيق ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ الشقيق ثم ابن الأخ لأب

الجوہرۃ النیرۃ (2/90) میں ہے:

فالأم ‌أحق ‌به ما لم تتزوج …….. فإن ‌لم ‌تكن ‌أم ‌أو كانت إلا أنها تزوجت فأم الأم أولى من أم الأب………… فإن لم يكن فأم الأب ……. فإن لم يكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وكل ‌من ‌تزوجت من هؤلاء سقط حقها) أي تزوجت بأجنبي من الصبي فإنه تسقط حضانتها وتصير كالميتة …….. إلا الجدة إذا كان زوجها الجد …… فإن لم يكن للصبي امرأة من أهله واختصم فيه الرجال فأولاهم به أقربهم تعصيبا) وكذا إذا استغنى الصبي بنفسه أو بلغت الجارية فالعصبات أولى بهما على الترتيب في القرابة والأقرب الأب ثم الجد أبو الأب ثم الأخ للأبوين ثم الأخ للأب كما في الميراث وإذا اجتمع مستحقو الحضانة في درجة واحدة فأورعهم أولى ثم أكبرهم سنا

ہدایہ (2/284) میں ہے:

‌ومن ‌سقط ‌حقها بالتزوج يعود إذا ارتفعت الزوجية ” لأن المانع قد زال ” فإن لم تكن للصبي امرأة من أهله فاختصم فيه الرجال فأولاهم أقربه تعصيبا ” لأن الولاية للأقرب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved