- فتوی نمبر: 35-35
- تاریخ: 26 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حضانت اور پرورش کا بیان
استفتاء
مسمی زید نے اپنی سگی و حقیقی بیٹی مسماۃ عائشہ اپنے ایک بے اولاد بھائی مسمی خالد کو ماضی میں بوقتِ پیدائش ہی دے دی تھی،جس کے بعد مسماۃ عائشہ دختر زید (حقیقی والد)کی ولدیت میں تبدیلی کر کے خالد کا نام درج کر دیا گیا اور تمام قانونی کاغذات مسماۃ ائشہ کی ولدیت اب خالد کے نام سے ہی چلتی آ رہی ہے (غرض و مقصد یہ تھا کہ بچی کے علاج معالجہ کی سہولت اور تعلیمی مراحل میں آسانی و حصول مراعات کی خاطر ولدیت کا اندراج خالد صاحب کے نام سے ہی رکھا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ حقیقی والد کا بچی کے ساتھ کہیں بھی قانونی اندراج و ریکارڈ نہ موجود ہے اور نہ ہی کرایا گیا ہے۔
اس تمہید کے بعد چند سوالات کا شرعی جواب مطلوب ہے:
1۔مسماۃ عائشہ کے نکاح کے وقت کون سی ولدیت لکھی یا بولی جائے یعنی کون سی ولدیت کا اظہار کر کے نکاح کا معاملہ سر انجام دیا جائے؟(آیا حقیقی والد کے نام سے یا مربی کے نام سے جنہوں نے پرورش کی ہے)۔
2۔اگر مربی اور پرورش کرنے والے خالد کا نام بطور ولدیت ظاہر کر کے یا لکھ کر یا بول کر نکاح پڑھایا جائے تو آیا شرعاً نکاح درست ہوگا؟
3۔اگر حقیقی ولدیت کے اظہار کے ساتھ نکاح پڑھا دیا جائے اور قانونی اندراج و ریکارڈ کے لیے مسمی خالد (جو کہ بچی کے مربی ہیں)کا نام درج کر لیا جائے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
4۔صورتحال یہ ہے کہ حقیقی والد مسماۃ عائشہ سے مکمل لا تعلقی کا اظہار بھی کر رہے ہیں،اس صورتحال کے پیش نظر شریعت کی روشنی میں رہنمائی درکار ہے۔
5۔یہ بھی واضح فرمائیں کہ ایسی تمام تر صورتِ حال میں شریعت وراثت کے حوالے سے کیا احکامات جاری کرتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔حقیقی والد کے نام کے ساتھ تمام معاملات سر انجام دیے جائیں۔
2۔نکاح تو درست ہوگا لیکن ایسا کرنا جائز نہیں۔
3۔جائز نہیں۔
4۔اس کے باوجود بھی جائز نہیں۔
5۔وراثت حقیقی والد سے ہوگی البتہ پرورش کرنے والا ہدیتاً کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
شامی(4/87)میں ہے:
ومن شرائط الايجاب والقبول اتحاد المجلس…..ولا المنکوحة مجهولة وفي الشامية تحت (قوله:ولا المنکوحة مجهولة)….قلت وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى لأن المقصود نفي الجهالة وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود وإن لم يصرح باسمها كما إذا كانت إحداهما متزوجة ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها وإلا لا بد من ذكر الأب والجد أيضا۔
احکام القرآن(3/291)میں ہے:
المتبنٰى لا يلحق في الأحكام بالابن فلا يستحق الميراث و لايرث عنه المدعي.
سورۃ الاحزاب(آیت نمبر:5)میں ہے:
ادعوهم لابائهم هو أقسط عند الله.
أحكام القرآن للجصاص(5/222)میں ہے:
وقوله تعالى(ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم)فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب. . .. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال:من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام.
تفسیر عثمانی(3/113) میں ہے:
متبنی کو اصل باپ کے نام سے پکارو یعنی ٹھیک انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی طرف کی جائے کسی نے”لے پالک”بنا لیا تو وہ واقعی باپ نہیں بن گیا یوں شفقت و محبت سے کوئی کسی کو مجازا بیٹا یا باپ کہہ کر پکار لے وہ دوسری بات ہے۔غرض یہ ہے کہ نسبی تعلقات اور ان کے احکام میں اشتباه والتباس واقع نہ ہونے پائے۔
فتاوی عثمانی(2/227) میں ہے:
سوال:مسماۃ مہر النساء انجم بنت سید شاکر علی مرحوم ہمراہ عشرت علی ولد انور علی سے ہوا۔ عشرت علی کے حقیقی والد تو کوئی اور صاحب تھے،انور علی،عشرت علی کے سوتیلے والد ہیں۔کیا شرعاً نکاح میں کوئی سقم ہے؟
جواب:عشرت علی صاحب کو اپنی ولدیت ہمیشہ اپنے اصل والد کی بتانی چاہیئے،سوتیلے باپ کی طرف نسبت کرنا خلاف واقعہ ہونے کی بنیاد پر جائز نہیں،لیکن اگر نکاح کے وقت غلط ولدیت بتا دی گئی مگر عورت یا اس کا وکیل جانتا تھا کہ اس سے مراد کون سے عشرت علی ہیں،تو نکاح درست ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved